حسین اصغر کا تبادلہ نہ ہوا تو متعلقہ حکام کیخلاف کارروائی ہو گی‘ چیف جسٹس ‘ ایف آئی اے میں دوبارہ تقرری کیلئے دو ہفتوں کی پھر مہلت

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + نیوز ایجنسیاں + وقت نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان نے گزشتہ سال حج کے دوران ہونے والی بدانتطامی اور کرپشن کے خلاف لئے گئے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران مقدمہ کی تحقیقات سے ہٹائے گئے تحقیقاتی افسر حسین اصغر کو دوبارہ ایف آئی اے میں تقرری کے لئے ایک بار پھر دو ہفتوں کی مہلت دے دی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے حسین اصغر کے تبادلہ کرنے سے معذرت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حسین اصغر کا تبادلہ نہ ہوا تو متعلقہ حکام کیخلاف کارروائی ہو گی‘ عدالتی احکامات پر ہر صورت عمل کیا جائے اگر حسین اصغر نہیں آنا چاہتے تو ان کے سروس کیڈر کو تبدیل کر دیا جائے۔ عدالت کو گلگت بلتستان حکومت کی عملداری میں مداخلت پر مجبور نہ کیا جائے ۔ عدالت وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے ماتحت نہیں ہے۔ منگل کے روز چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور غلام ربانی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مقدمہ کی سماعت کی ۔ سماعت کے دوران سیکرٹری داخلہ نے رپورٹ پیش کر تے ہوئے موقف اختیار کیا کہ آئی جی گلگت بلتستان حسین اصغر واپس ایف آئی اے میں نہیں آنا چاہتے اور آئی جی گلگت بلتستان کے تبادلہ سے قبل وزیر اعلیٰ کو پوچھا جائے کیونکہ یہ صوبائی خود مختاری کا معاملہ ہے ۔ وفاق کے وکیل بابر اعوان نے کہا امن و امان کی صورت حال کے باعث حسین اصغر کا تبادلہ ممکن نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت وفاقی حکومت کو گلگت بلتستان حکومت سے لڑنے کے لئے نہیں کہہ رہی۔ چیف جسٹس کا ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ایسا لائحہ عمل موجود ہونا چاہئے جس کے تحت افسران کی واپسی ممکن ہو سکے۔ این این آئی کے مطابق چیف جسٹس نے حکومتی وکیل بابر اعوان سے کہا کہ سیکرٹری داخلہ اس وقت عدالت میں موجود ہیں ان سے کہیں کہ حسین اصغر کے تبادلے کا نوٹیفکیشن فوری طور پر منسوخ کریں بابر اعوان نے کہا کہ ایسا کرنا مشکل ہے کیونکہ کسی افسر کو وفاق میں واپس لانے کیلئے متعلقہ صوبے کے وزیراعلی سے مشاورت ضروری ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ عدالت کے ساتھ ہیں تو ان کے تبادلے کا نوٹیفکیشن آج ہی منسوخ کریں اور انہیں واپس لایا جائے۔ بابر اعوان نے یقین دہانی کرائی کہ ان کو عید کے بعد واپس لایا جائے گا کیونکہ بطور خودمختار صوبہ گلگت بلتستان وفاق کے ماتحت نہیں چیف جسٹس نے کہا کہ ان کو واپس لانا عدالتی حکم ہے یہ کوئی بات نہیں کہ کوئی وفاقی افسر بھی ہو اور وفاق کا حکم نہ مانے اگر وہ واپس نہیں آنا چاہتے تو ان کا سروس کیڈر تبدیل کرکے وفاق سے صوبائی بنا دیا جائے حج کرپشن کیس کی سماعت 2 ہفتوں تک ملتوی کر دی گئی۔
چیف جسٹس