پولیس کا بھاٹی گیٹ میں سکول کے طلبہ اور ان کی مائوں پر لاٹھی چارج‘ 2 بچے زخمی

پولیس کا بھاٹی گیٹ میں سکول کے طلبہ اور ان کی مائوں پر لاٹھی چارج‘ 2 بچے زخمی

لاہور (نامہ نگار+ خصوصی رپورٹر) بھاٹی گیٹ کے علاقہ میں پولیس نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والے سکول کے معصوم بچوں اور ان کی ماؤں کو لاٹھی چارج کا نشانہ بنا ڈالا۔ جس سے دو بچے زخمی ہو گئے۔ اسلامیہ ہائی سکول کو حکومت کی جانب سے غازی فاؤنڈیشن کی سرپرستی سے ہٹا کر محکمہ تعلیم کی سرپرستی میں دے دیا گیا ہے۔ جس پر گزشتہ روز سکول کے بچوں اور ان کی ماؤں نے سکول کے باہر پرامن احتجاج کیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ جس میں حکومت سے فیصلہ واپس لینے اور انہیں سکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی بھی کی۔ اس دوران پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی اور ان پر لاٹھی چارج کرنا شروع کر دیا۔ مظاہرے میں معصوم بچے سب سے آگے پلے کارڈ اٹھائے موجود تھے اور وہی سب سے پہلے پولیس کے لاٹھی چارج کی زد میں آ ئے۔ جس سے چھٹی جماعت کے طالب علم فہد کے سر پر شدید چوٹ آئی جبکہ ایک اور طالبعلم معمولی زخمی ہو گیا۔ بعدازاں ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف نے واقعہ کا نوٹس لے لیا اور موقع پر تین ایس پیز کو مظاہرین سے مذاکرات کے لئے بھجوایا اور واقعہ کی انکوائری کے احکامات بھی جاری کئے ہیں۔ پولیس افسران نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے دو گھنٹے طویل مذاکرات کے دوران مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ جس پر مظاہرین منتشر ہو گئے۔ بعدازاں زخمی بچے فہد کے والد محمد الیاس نے پولیس اہلکاروں سے صلح کر لی اور انہیں بیان لکھ کر دے دیا کہ اس کے بچے پر تشدد نہیں کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے پولیس نے مرضی کا بیان لیا ہے۔ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے بھی واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے اور پولیس حکام کو انکوائری کا حکم دیا ہے۔ تھانہ بھاٹی گیٹ میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا بھاٹی گیٹ پولیس کی جانب سے مظاہرین پر لاٹھی چارج نہیں کیا گیا تھا۔ خصوصی رپورٹر کے مطابق شہباز شریف نے ڈی آئی جی آپریشنز سے رپورٹ طلب کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور زخمی ہونے والے 2بچوں کو علاج معالجہ کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ سکول کے بچوں پر لاٹھی چارج کسی صورت قابل برداشت نہیں۔