مدارس کے ساتھ معاہدوں کی پابندی نہ کی گئی تو جیل بھرو تحریک چلائینگے: فضل الرحمن

مدارس کے ساتھ معاہدوں کی پابندی نہ کی گئی تو جیل بھرو تحریک چلائینگے: فضل الرحمن

لاہور (خصوصی نامہ نگار)جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سیکولر قوتیں فوج اور مولوی کو لڑا کر اپنے مقاصد چاہتی ہیں کہ وہ جو چاہیں کرتی پھریں، ہم آگے بڑھیں گے تو پھر پیچھے نہیں ہٹیں گے، قوم مطمئن رہے دلیل اور عقیدہ کی بنیاد پر جنگ ہم ہی جیتیں گے، چند لوگ خود کو عقل کل اور ملک و قوم کا مالک سمجھ کر ہماری گردنیں کاٹنا چاہتے ہیں مگر ان کے ہاتھ ہماری گردنوں کے قریب بھی نہیں آسکتے، اگر آئینی ترمیم میں آئین کے الفاظ ہی شامل جمع کر دیئے جائیں تو مسئلہ حل ہو جا ئے گا، قوم، علمائ، مدارس دہشت گر دی جنگ میں حکومت کے ساتھ ہیں دین وطن اور مدارس و مساجد کی بقاء کی جنگ لڑیں گے آج وطن عزیز جن بحرانوں کا شکار ہے ہم وطن کو ان بحرانوں سے نکالنے کے لیئے آخری سانس تک جدوجہد کریں گے، امریکہ دنیا کا جغرافیہ تبدیل کرنا چاہتا ہے، اس نے اپنے منصوبے کا آغاز اسلامی دنیا میں کر دیا ہے، ہمارے سیاستدان، سیکولر طبقات اور اسٹیبلشمنٹ امریکہ کے بتائے راستے پر چل رہے ہیں، وہ گزشتہ روز جے یو آئی کے زیراہتمام قومی سیمینار سے صدارتی خطاب کر رہے تھے۔ سیمینار سے مولانا سمیع الحق، ساجد میر، لیاقت بلوچ، صاحبزادہ شاہ اویس نوارنی، عبدالغفور حیدری، ڈاکٹر ابوالخیر زبیر، مولانا عبدالشکور نقشبندی، علامہ محمد رمضان توقیر، مولانا عطاء المومن شاہ بخاری، کامران مرتضی، محمد اکرم خان درانی، مولانا امجد خان اور دیگر نے خطاب کیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت مدارس کے ساتھ اب تک ہونے والے معاہدوں کی پابندی کرے اگر خلاف ورزی کی گئی تو ہم مدارس بند کر کے جیل بھرو تحریک چلائیں گے۔ سیکولر لابی ملا اور فوج کو لڑانے کی سازش کر رہی ہے لیکن ہم ایسی سازشوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں کسی کو وطن اور مدارس کے خلاف کامیاب نہیں ہونے دیا جا ئے گا ایک بار پھر ہماری استقامت کا امتحان ہے ہمیں مشکل فیصلوں پر مجبور نہ کیا جائے۔ گستاخانہ خاکوں کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ خاکے چھاپنے والوں نے سب سے بڑی دہشت گردی کی ہے۔ ہمیشہ دینی قوتوں اور مدارس نے مسلح جدوجہد کی مخالفت کی ہے اور اس کی مخالفت کرتے رہیں گے۔ پشاور سکول میں قتل ہو نے والے طلباء ہمارے بچے تھے انھیں میں کئی بچے علماء اور کئی جے یو آئی کے لوگوں کے تھے لیکن یہ سانحہ کھلی درندگی کی بدترین مثال ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ مدارس مساجد غلبہ اسلام کا ذریعہ ہیں۔ دہشت گر دی کے خلاف مذہبی اور سیا سی جماعتیں ایک ہو گئیں تھیں لیکن بیرونی اور سیکولر لابیوں کی وجہ سے قوم کو ایک بار پھر تقسیم کر دیا گیا ہے۔ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ آج جن حالات سے وطن عزیز گزر رہا ہے ان حالات میں یہ قومی کنونشن مستحسن اقدام ہے۔ اتحاد واتفاق کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ مدارس اسلام کے قلعے ہیں مدارس سے امن و اخوت کا پیغام دیا جاتا ہے۔ مدارس کو کوئی مائی کا لعل بھی ختم نہیں کر سکتا۔ دینی مدارس وطن کے محافظ ہیں۔ فضل الرحمن نے جو قدم اٹھایا ہے ہم انکو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ صاحبزادہ شاہ اویس احمد نورانی نے کہا کہ جے یو پی دینی مدارس اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ سانحہ پشاور انتہائی المناک اور شرمناک واقعہ ہے۔ علاوہ ازیں جمعیت علماء اسلام کے کے زیر اہتمام قومی کانفرنس میں  اعلان لاہور کے نام سے مشترکہ اعلامیہ میں سانحہ پشاور کو پوری قوم کا مشترکہ صدمہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ المناک سانحہ نے پوری قوم دینی سیاسی وسماجی عسکری قیادت کو متحد کر دیا ہے، دہشت گردی اسلام اور انسانیت دشمنی ہے دہشت گردوں اور انکے ماسٹر مائند کا کوئی مذہب نہیں ہوتا دہشت گردی کا ہر عنوان دہشت گردی ہے، اعلامیہ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ مذہب لسانیت، قومیت، صوبائیت کے نعروں کی آڑ میں کوئی بھی دہشت گردی کرے وہ بھی دہشت گردی ہے۔ اسلامیان پاکستان سیکولر ازم کی یلغار کے خلاف جدوجہد کریں گے اور دفاع اسلام کی جنگ جیتیں گئے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے وزیر اعظم نواز شریف نے سانحہ پشاور کے بعد درست سمت اقدام کرتے ہوئے قومی قیادت کو جمع کیا ہے دہشتگردی کے خلاف پوری قوم نے ایک مؤقف اختیار کیا ہے لیکن یہ ایک المیہ ہے کہ حکومت سیکولر لابیوں کے سامنے سرنگوں ہو گئی ہے اور قومی اتفاق رائے کو بھی پارہ پارہ کر دیا ہے۔ قومی سمینار یہ مطالبہ کر تا ہے کہ 21 ویںآئینی تر میم کا ازسرنو جائزہ لے کر قومی اتفاق رائے کو تحفظ دیا جائے۔ اعلان لاہور میں مزید کہاگیا ہے کہ مساجد ومدارس کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔