سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور کر لی‘ 3 رکنی بنچ 28 جنوری کو کیس سنے گا

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور کر لی‘ 3 رکنی بنچ 28 جنوری کو کیس سنے گا

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + نیوز ایجنسیاں)  سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں اور 21  ویں آئینی ترمیم کیخلاف  درخواست  ابتدائی سماعت  کیلئے منظور کر لی، چیف جسٹس  ناصرالملک  کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ کیس کی سماعت 28 جنوری کو کریگا۔ بنچ  کے دیگر ارکان میں جسٹس  گلزار اور جسٹس  مشیر عالم شامل ہیں۔ 21  ویں آئینی ترمیم کیخلاف لاہور ہائیکورٹ  بار کی درخواست  سمیت 7 درخواستیں  دائر  کی گئی تھیں۔ فی الحال  لاہور ہائیکورٹ  بار کی درخواست  سماعت کیلئے مقرر کی گئی ہے۔ درخواست  کی پیروی پی  ٹی آئی  کے رہنما حامد خان  کرینگے اور  فوجداری عدالتوں  کے قیام کیخلاف  دلائل دینگے جبکہ انکی معاونت  لاہور ہائیکورٹ  بار کے صدر شفقت  چوہان کرینگے۔ سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کی گئی21 ویں آئینی  ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کے خلاف لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے دائر درخواست کو رجسٹرڈ کرتے ہوئے نمبر لگا دیا ہے۔ درخواست  میں مؤقف اختیار کیا  گیا ہے کہ پارلیمنٹ نے 21 ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے عدالت کے اختیارات کو کم کر دیا ہے اس لئے عدالت آئین اور آرمی ایکٹ میں کی گئی ترمیم کو کالعدم قرار دے۔ 21ویں آئینی ترمیم آئین کی بنیادی شقوں سے متصادم ہے اور سپریم کورٹ سے یہ اپیل کی گئی تھی کہ وہ 21ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے فوجی عدالتوں کے قیام کو غیر آئینی قرار دے۔ 3  رکنی بنچ  ابتدائی  سماعت کے بعد  درخواستوں  کے قابل سماعت ہونے  یا نہ ہونے کا فیصلہ دیگا۔  بی بی سی  کے مطابق پشاور میں سکول پر حملے کے بعد قومی ایکشن پلان کے تحت لائی جانے والی آئینی ترمیم  میں شدت  پسندی   سے نمٹنے کے لئے دہشت گردی  کے مقدمات  کے فوری فیصلوں  کے لئے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی گئی تھی۔  صباح نیوز  کے مطابق چیف  جسٹس  نے تمام 7  درخواستوں کو سماعت کیلئے یکجا کر دیا ہے۔