سوئس حکام کو دوسرا خط لکھنے سے حکم عدولی نہیں ہوئی، سپریم کورٹ نے زرداری کیخلاف توہین عدالت کیس نمٹا دیا

سوئس حکام کو دوسرا خط لکھنے سے حکم عدولی نہیں ہوئی، سپریم کورٹ نے زرداری کیخلاف توہین عدالت کیس نمٹا دیا

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے زرداری کیخلاف سوئس حکام کو دوسرا خط لکھنے سے متعلق توہین عدالت کیس نمٹاتے ہوئے قرار دیا کہ دوسرا خط لکھنے سے عدالت کی حکم عدولی نہیں ہوئی ہے سوئس حکومت کا صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ وہ اس کیس کو چلائے یا نہ چلائے، پاکستانی حکومت اس حوالے سے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتی۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا پہلے عدالتی حکم پر ایک خط لکھا گیا جبکہ خفیہ طور پر سوئس حکام کو ایک اور خط لکھ کر کیس نہ چلانے کا کہا گیا جو عدالتی حکم کی توہین ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو عدالت کے حکم پر سوئس حکام کو خط نہ لکھنے پر توہین عدالت کی سزا ہوئی وہ سزا بھگت چکے ہیں جبکہ دوسرے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے سوئس حکام کو خط لکھ کر عدالتی حکم کی تعمیل کر دی تھی، سپریم کورٹ نے کسی جگہ حکومت کو سوئس حکام کو دوسرا خط لکھنے سے نہیں روکا تھا۔