حکومت کالعدم تنظیموں کے نام عام کرے: سپریم کورٹ

حکومت کالعدم تنظیموں کے نام عام کرے: سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+ بی بی سی) سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ وہ کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں کی فہرست عام کرے تاکہ عوام کو اس سلسلے میں آگاہی حاصل ہو سکے۔ یہ حکم جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے قانونی کتب میں غلطیوں کے مقدمے کی سماعت کے دوران دیا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ حکومت شدت پسندی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو ایسی تنظیموں کے بارے میں علم ہو جنہیں کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ملک میں کالعدم قرار دی گئی شدت پسند تنظیموں اور اْن کی تعداد کے بارے میں علم نہیں ہے۔ لوگوں کو اس بات کا علم بھی نہیں ہے کہ وہ جن تنظیموں کو چندہ دے رہے ہیں آیا حکومت نے اْنہیں کالعدم قرار تو نہیں دیا۔ عدالت نے حکومت کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ اس فہرست کا تبادلہ دوست ممالک سے بھی کرے تاکہ اگر وہاں ان تنظیموں کے دفاتر ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ آج ہی حکومت سے ہدایات لے کر آئیں کہ وہ کتنے عرصے میں کالعدم تنظیموں کی فہرست متعلقہ اداروں کی ویب سائٹ پر لگا دے گی۔ اٹارنی جنرل نے اس ضمن میں عدالت سے مہلت طلب کی ہے۔ قانونی کتب میں اغلاط پر عدالت کا کہنا تھا کہ جب قانون کی کتابوں میں اتنی غلطیاں ہوں گی تو پھر لوگوں کو کیسے معلوم ہوگا کہ شدت پسندی میں ملوث ہونے پر کیا سزا مل سکتی ہے۔ عدالت نے قانونی کتب کی غلط طباعت کے حوالے سے کیس میں خصوصی بنچ کی تشکیل دینے کیلئے معاملہ چیف جسٹس کو بھجواتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 28 جنوری تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ قوانین کو عام فہم زبان میں ویب سائٹ پر چڑھایا جائے، عوام کے ساتھ اس سنگین مذاق سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، قوانین آسان زبان میں شائع ہونے چاہیئں جس کے پڑھنے سے  شاید  دہشت گردی  پرکمربستہ، گمراہ کوئی شحض اپنا ذہن تبدیل کرلے، کالعدم تنظیموں کے نام اردو، انگریزی  سمیت تمام علاقائی زبانوں میں  شائع ہونے  چاہئیں۔ وفاقی سیکرٹری قانون کے چاروں صوبوں کے متعلقہ سیکرٹریزنے پیش ہوکرقانونی کتب کے حوالے سے الگ الگ حلف نامے عدالت میں جمع کرائے جس میں مختلف تاریخوں تک تمام قانونی کتب کی اشاعت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے  عدالت نے  کہا کہ قانونی کتب کی  طباعت نہ کرنا یا غلط طباعت ایک سنگین معاملہ ہے جس پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جسٹس فائز عیسٰی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ الیکشن قوانین کہیں پر موجود نہیں۔ اگر کوئی غیرملکی صحافی یہاں آکر الیکشن کی کوریج کرتا ہے تواس کوکہاں  سے متعلقہ قانون دستیاب ہو گا۔ جسٹس جواد نے کہا کہ عوام کے ساتھ مذاق سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، الیکشن رولز تو ریپریزنٹیشن آف پیپلز ایکٹ کے نام سے ہیں تو کم پڑھا لکھا امیدوار کس طرح قانون کو ڈھونڈ سکے گا اس لئے ہم کہتے ہیں کہ قانون کو آسان زبان میں ہونا چاہئے۔ سماعت کے دوران  عدالتی عملے کے ایک رکن نے عدالت کو بتایا کہ نیکٹا کی ویب سائٹ موجود نہیں جبکہ وزارت داخلہ اور قانون کی ویب سائٹ پر کالعدم تنظیموں کے نام موجود  نہیں  جس پر جسٹس جواد نے کہا کہ جب ہمیں کاونٹر ٹیررزم کی سمجھ نہیں آتی تو ہم کس طرح دہشتگردی کا مقابلہ کریں گے اور جنگ کیسے لڑی جائے گی۔ اس طرح تو دہشتگردی ختم نہیں ہو گی۔ جسٹس فائزعیسٰی نے کہاکہ اگرکوئی صحافی کسی کالعدم تنطیم کا نام لکھ دے تونہ صرف اس کیخلاف مقدمہ درج ہو گا بلکہ ساڑھے تین سال قید کی سزا بھی ملے گی جب اسے کالعدم تنظیم کا علم ہی نہیں تو کیا وہ سزا کاٹے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ پاکستان پر پہلے الزامات لگ رہے ہیں کہ وہ دہشتگردی کیخلاف کچھ نہیں کر رہا، تھر میں کالعدم تنظیموں نے امدادی کاموں کیلئے کیمپ لگائے لوگوں نے ان کو پیسے بھی دیئے  کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ کالعدم تنظیمیں ہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ صحافیوں کو کالعدم تنظیموں کا پتہ ہو گا تو وہ ان کا پرچار نہیں کرینگے۔ دوران سماعت وزارت داخلہ اور نیکٹا کی ویب سائٹ پر سرچ کی گئی کالعدم تنظیموں کی فہرست بھی سامنے نہ آئی جس پر جسٹس جوادایس خواجہ نے کہاکہ جب ہمارا قانون ہی اپ ڈیٹ نہیں تو دہشت گردی کامقابلہ کیسے کریں گے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آرڈیننس جاری ہورہے ہیں، بن رہے ہیں، ختم ہو رہے ہیں کالعدم تنظیموں کا کہیں ریکارڈ موجود نہیں۔
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + نیوز ایجنسیاں + نوائے وقت رپورٹ)  پاکستان نے جماعۃ الدعوۃ  سمیت ان تمام  دہشت گرد تنظیموں کے اثاثے منجمد  کر دئیے ہیں جنہیں اقوام متحدہ نے کالعدم قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم  اسلم نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں جماعۃ الدعوۃ  اور حقانی نیٹ ورک پر پابندی کے بارے میں ایک سوال  کے جواب میں کہا کہ جماعۃ الدعوۃ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں پر اقوام متحدہ  کی جانب سے  پابندی لگنے  کے بعد پاکستان نے ان کے آمدن  کے ذرائع  کو  منجمد  کر دیا گیا  ہے  اور ان کے رہنمائوں پر سفری پابندیاں  عائد کر دی ہیں تاہم تسنیم اسلم نے واضح نہیں کیا کہ یہ پابندیاں  آج لگائی گئی ہیں یا کچھ عرصے سے عائد ہیں۔  انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دہشت گردی  کے خلاف قومی ایکشن پلان  کے مطابق  ایسی کالعدم تنظیموں  کے غیر قانونی مالیاتی ذرائع کے خلاف کارروائی  کے بارے میں غور و فکر  ہو رہا ہے۔  خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی  کونسل نے 2008ء  میں  ممبئی پر حملوں کے بعد جماعۃ الدعوۃ پر پابندیاں  لگائی تھیں اور اسے دہشت گرد تنظیم قرار  دیا  تھا۔ امریکہ نے گزشتہ برس ہی جماعۃ الدعوۃ  کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل  کرتے ہوئے مالیاتی  پابندیاں عائد کی تھیں جبکہ حافظ سعید کے بارے میں معلومات  کے لئے ایک کروڑ ڈالر کا انعام  کی پیشکش کی گئی تھی۔ دفتر خارجہ  کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ  ہم اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں۔ آسام میں مسلمانوں کو زندہ جلانے کے واقعے پر تشویش ہے۔ امید ہے کہ صدر اوباما دورہ بھارت کے دوران ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر اشتعال انگیزی کا معاملہ اٹھائیں گے۔ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی شدید مذمت کرتے ہیں اس سے 1.7 ارب مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی۔  ہفتہ وار میڈیا بریفنگ  میں  انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ کے بیان پر انہوں نے وضاحت کر دی ہے کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی اقوام متحدہ کی پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے کمیٹی ہمیں کوئی فہر ست فراہم کرتی ہے تو ہم ان تنظیموں کے اثاثے منجمد کر دیتے ہیں اور اس حوالے سے ایس آر او جاری کیا جا چکا ہے۔  دہشتگرد تنظیموں کے خلاف اقدامات امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے دورہ پاکستان سے پہلے ہی قومی ایکشن پلان کے تحت شروع کر دیئے گئے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر بارک اوباما کا دورہ بھارت دونوں ملکوں کا دوطرفہ معاملہ ہے تاہم امریکہ ایک بڑی عالمی طاقت ہے اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔ ہم امید کرتے ہیں امریکی صدر اپنے دورے کے دوران بھارت کے ساتھ ایل او سی اور ورکنگ بائونڈری پر اشتعال انگیزی کا معاملہ اٹھائیں گے۔  انہوں نے کہا کہ بھارت ایل او سی اور ورکنگ بائونڈری پر اشتعال انگیزی کر کے پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کو کامیاب نہیں ہونے دینا چاہتا اور یہ پاکستان بھارت اور امریکہ سمیت بین الاقوامی برادری کے مفاد میں نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں تسنیم اسلم نے کہا کہ دہشتگردی کی خاتمے کی تمام کوششیں بین الاقوامی قوانین کی حدود میں ہونی چاہئیں۔ صدر اوباما نے اپنے خطاب میں پاکستان کے ساتھ تعاون کی بات کی جو خوش آئند ہے۔ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی باہمی تعاون سے ہی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم داعش کے خطرے سے پوری طرح آگاہ ہیں، اسے سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کر رہے ہیں۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کو خط لکھا ہے کہ پوری مسلم دنیا کی طرف سے  گستاخانہ  خاکوں  جیسے اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مکمل تعاون موجود ہے اور اعتماد کی فضا قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فضائی کمپنی پی آئی اے نے نئی دہلی میں جائیداد خریدنے کے لئے تمام قواعد و ضوابط اور قوانین کو پورا کیا اس حوالے سے بھارتی محکمے کو قانونی طور پر جواب دیا گیا ہے جبکہ وزارت خارجہ نے پاکستان میں بھارتی ہائی کمشن اور بھارت میں پاکستانی ہائی کمشن نے بھارتی وزرات خارجہ کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں کام کرنے والی تمام بین الاقوامی این جی اوز کی حدود و قیود طے ہوتی ہیں اگر کوئی این جی او اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کرے یا پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہو تو اس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔  پاکستانی دفتر خارجہ نے ممبئی حملوں کے مبینہ ملزم ذکی الرحمان لکھوی کی امریکہ اور برطانیہ کی درخواست پر بھارت حوالگی کی رپورٹس کو مسترد کر دیا۔ بھارتی اخبار ٹائم آف انڈیا نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسلیم اسلم نے بتایا کہ کسی شخص (ذکی الرحمان لکھوی) کی حوالگی کیلئے کسی بھی ملک کی جانب سے پاکستان سے نہ ہی مطالبہ اور نہ ہی تحریری درخواست کی گئی۔ دریں اثنا  این این آئی کے مطابق  نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرتے ہوئے وزارت داخلہ نے جماعت الدعوۃاور حقانی نیٹ ورک کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزارت داخلہ میں ایک عہدیدار نے بتایا کہ امریکا کی جانب سے کئی بار حقانی نیٹ ورک اورجماعت الدعوۃ پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تاہم حکومت اس معاملے میں تذبذب کا شکار تھی۔اہلکار کے مطابق گذشتہ دنوں پشاورکے آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں کی جانب سے حملے کے بعد حکومت نے اچھے اور برے طالبان کا امتیاز کئے بغیر سب تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا وفاقی وزارت داخلہ نے کالعدم تنظیموں کی فہرست میں مزید تنظیموں کے نام شامل کرلیے ہیں جن میں حرکت الجہاد اسلامی، حرکت المجاہدین، فلاح انسانیت فائونڈیشن، اْمہ تعمیر نو، حاجی خیراللہ حاجی ستار منی ایکسچینج، راحت لمیٹڈ، روشن منی ایکسچینج، الاختر ٹرسٹ، الرشید ٹرسٹ، حقانی نیٹ ورک اور جماعۃ الدعوۃ شامل ہیں۔