جواب داخل نہ کرانے پر سیکرٹری الیکشن کمشن کے وارنٹ‘ 10 فروری کو گرفتار کر کے پیش کیا جائے: ہائیکورٹ

جواب داخل نہ کرانے پر سیکرٹری الیکشن کمشن کے وارنٹ‘ 10 فروری کو گرفتار کر کے پیش کیا جائے: ہائیکورٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی احکامات کی حکم عدولی پر الیکشن کمشن کے سیکرٹری کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بظاہر عدالتی احکامات کی تعمیل کے حوالے سے حکومتی اداروں کا رویہ غیرسنجیدہ لگتا ہے۔ عدالت نے سیکرٹری  الیکشن کمیشن کو 10 فروری کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس شہزادہ مظہر نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ الیکشن کمشن نے عام انتخابات کے حوالے سے اپنی جائزہ رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ انتخابات کے ذریعے منتخب ارکان اسمبلی کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال درست طریقے سے نہیں کی جا سکی۔ امیدواروں کی جانچ پڑتال اسی صورت میں ٹھیک طریقے سے کی جا سکتی تھی اگر وہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی بنیاد پر کی جاتی۔ اس لئے کئی نادہندہ اور نااہل افراد بھی اسمبلی میں پہنچ گئے، عدالت ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے کاغذات نامزدگی کی دوبارہ جانچ پڑتال کے احکامات صادر کرے تاکہ غلط طریقے سے اسمبلیوں میں جانے والے ارکان کو نااہل قرار دیا جا سکے۔ چار مرتبہ نوٹس بھجوائے جانے کے باوجود جواب داخل نہ کرانے پر عدالت نے سیکرٹری الیکشن کمشن کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے۔ واضح رہے کہ 3 نومبر 2014ء کو سیکرٹری الیکشن کمشن اشتیاق احمد کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے ڈی جی ایڈمن عثمان علی قائم مقام سیکرٹری الیکشن کمشن کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔