منچرجھیل کے حفاظتی بند میں پڑنے والا شگاف ایک کلومیٹر سے زائد چوڑا ہوگیا ۔ لاڑکانہ سیہون بچاؤ بند کے آرڈی ایک سو پر لگایا جانے والا کٹ بھی پانچ سو فٹ تک پھیل گیا۔

منچرجھیل کے حفاظتی بند میں پڑنے والا شگاف ایک کلومیٹر سے زائد چوڑا ہوگیا ۔ لاڑکانہ سیہون بچاؤ بند کے آرڈی ایک سو پر لگایا جانے والا کٹ  بھی پانچ سو فٹ تک پھیل گیا۔

محکمہ آب پاشی حکام کے مطابق ایم این وی ڈرین اورایف پی بچاؤ بند سے منچھر جھیل میں پانی کی آمد کا سلسلہ  جاری ہے جس کے باعث جھیل میں پانی کی سطح ایک بار پھر بڑھنا شروع ہوگئی ہے۔ اس وقت جھیل میں پانی کی سطح 120 فٹ 2 انچ ریکارڈ کی جارہی ہے جبکہ جھیل سے  دریائے سندھ میں پانی کا اخراج 25 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے ۔ دوسری جانب سیہون اور بھان سعید آباد کے درمیان قومی شاہراہ زیر آب آجانے کے باعث رابطہ منقطع ہے۔  سندھ کے قدیم شہر جھانگارہ ، باجارا، بوبک، بختیار پور اور جوہی چاروں اطراف سے پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ ان شہروں کے زمینی راستے بند ہونے سے غذائی اجناس اور پینے کے صاف پانی کی شدید قلت ہے۔ ادھر سیلابی پانی میں مکمل طور پر ڈوبی ہوئی تحصیل خیرپورناتھن شاہ میں سات سے نو فٹ پانی کھڑا ہے۔ جبکہ بھان سعید آباد اور سیہون کے حفاظتی بندوں پرسیلابی ریلے کا دباؤ اب بھی برقرار ہے ۔