قومی اسمبلی : آئین شکنی پر شہری بھی بغاوت کا مقدمہ درج کرا سکیں گے : ترمیمی بل پیش ۔۔ وطن کارڈ سیاسی بنیادوں پر دیئے جا رہے ہیں : حکومتی ارکان

اسلام آباد (لیڈی رپورٹر+خبرنگار+ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے ارکان سیلاب زدہ علاقوں کی صورتحال پر بحث کے دوران حکومت پر برس پڑے اور کہا کہ بیشتر علاقوں خصوصاً سندھ کو بروقت فیصلے نہ کرکے ڈبویا گیا، وطن کارڈ سیاسی بنیادوں پر دیئے جا رہے ہیں، متاثرہ علاقوں کا ازسرنو سروے کرایا جائے، چیئرمین این ڈی ایم اے کو ہٹایا جائے۔ مسلم لیگ ن کی طرف سے شہریوں کو آئین توڑنے والوں کے خلاف بغاوت کے مقدمہ کے اندراج کا اختیار دینے کیلئے ایکٹ میں ترمیم قابل پیش کر دیا گیا جسے قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔ مسلم لیگ ن کے نصیر بھٹہ کے مجموعہ تعزیرات پاکستان ایکٹ ترمیمی بل 2010ءپیش کرنے کی تحریک اپنے ہی ارکان کی مخالفت پر مسترد کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق بابر اعوان نے کہا کہ بغاوت کے حوالے سے پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے لئے متاثرہ فریق ( نواز شریف ) کو عدالت میں جانا چاہئے تھا ۔ بے نظیر بھٹو شہید بھی دوبار اپنی حکومت ٹوٹنے پر خود عدالت گئیں تھیں ۔ پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل سکس کے تحت مقدمہ کے اندراج کے لئے کسی کی بھی درخواست پر وفاقی حکومت کو اعتراض نہیں ہو گا ۔ قبل ازیں انجینئر خرم دستگیر نے ترمیمی بل پیش کیا ۔ جس میں سنگین غداری کی سزا سے متعلق ایکٹ میں ترمیم تجویز کی گئی ۔ بل کے محرک نے کہا کہ وہ یہ ترمیمی بل اس لئے پیش کرنے پر مجبور ہوئے کیونکہ وفاقی حکومت پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ کے اندراج سے گریز کر رہی ہے ۔ ایکٹ میں ترمیم کے تحت صرف وفاقی حکومت کو بغاوت کے مقدمہ کے اندراج کا اختیار حاصل ہے۔ بابر اعوان نے کہا کہ جن لوگوں نے بینکوں کے قرضے معاف کرائے ہیں وہ واپس جمع ہونے چاہئیں یہ قومی خزانہ ہے۔ خرم دستگیر نے کہا کہ جس آمر کیخلاف ہم سب نے جدوجہد کی وہ اب دوبارہ سیاست میں آنے کا سوچ رہا ہے۔ اس کیخلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔ اس معاملہ پر سیاسی گفتگو نہیں کرنی چاہئے اس بل کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے پھر دیکھا جائے گا کہ کون مقدمہ درج کراتا ہے اور کون بھاگتا ہے۔ رشید اکبر نوانی نے کہا کہ بھکر میں پسند نا پسند کی بنیاد پر وطن کارڈ جاری کئے جا رہے ہیں۔ خورشید شاہ نے کہا کہ صاف شفاف نظام ہے سیلاب زدہ علاقوں کے بارے میں نوٹفیکیشن صوبائی حکومتیں جاری کر رہی ہیں۔ فیصل کنڈی نے کہا کہ معاملے کو سیاسی بنیا د بنا یاگیا اگر سروے ٹیموں کے ہمراہ ایم این ایز نہیں جا سکتے تو صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو بھی ان کے ساتھ نہیں ہونا چاہئے ۔ نور عالم نے کہا کہ سروے کے حوالے سے ایم این ایز کو نظر انداز نہ کیا جائے ۔کیا یہ لوگ متاثرین کو دہشت گردی کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں ۔ اخونزادہ چٹان نے کہا کہ پولیٹیکل انتظامیہ قبائلی عوام سے پانچ پانچ لاکھ روپے کے جرمانے لے رہے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے میں ایوان سے احتجاجاً واک آﺅٹ کیا ۔ جمشید دستی نے کہا کہ پٹواری سیاسی بنیادوں پر متاثرین سیلاب کی فہرستیں مرتب کر رہے ہیں۔ مظفر گڑھ میں ہزاروں متاثرین سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں ۔ واپڈا نے متاثرین کو بلز بجھوا دیئے ہیں جو ظلم کی انتہا ہے۔ ماروی میمن نے کہا کہ توری بند کو توڑنے کی تحقیقات تاحال نہیں ہوئی۔ رحمن ملک نے کہا ہے کہ وطن کارڈ کے اجراءمیں کسی قسم کی کرپشن کے ثبوت آنے پر 24 گھنٹوں کے اندر ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی جائے گی، متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کا کام صوبوں نے کرنا ہے، اگر کسی جگہ پر متاثرین کو نظر انداز کیاگیا ہے تو اس کا تین روز میں دوبارہ سروے کرایا جائے گا۔پٹواریوں کے ساتھ ایم پی اے کے نمائندوں کی موجودگی اور ایم این ایز کو نظر انداز کئے جانے کے حوالے سے کمیٹی قائم کر دی جائے۔ انہیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔نکتہ اعتراض پر امیرمقام نے کہا ہے کہ آرمی چیف سے ملاقاتوں کے حوالے سے یہ تاثر دینا قطعی درست نہیں کہ وہ کسی قسم کے سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف ہیں، آرمی چیف کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ان کا کردار جمہوریت کیلئے اور سیلاب بحالی کیلئے بہترین ہے۔ میری ملاقات کی خبر توڑ مروڑ کر پیش کی گئی۔ قومی اسمبلی نے کارروائی اور طریق کارکے قواعد 2007ءمیں ترامیم کی 3 تحاریک متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیں۔