حکومت کی جانب سے فنڈزنہ ملنے پرملک بھر کی یونیورسٹیوں میں آج تدریسی عمل کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے۔

حکومت کی جانب سے فنڈزنہ ملنے پرملک بھر کی یونیورسٹیوں میں آج تدریسی عمل کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے۔

تدریسی عمل سے بائیکاٹ کا فیصلہ اسلام آباد میں پلاننگ کمشن، ہائر ایجوکیشن کمشن اور جامعات کے وائس چانسلرزکی نمائندہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ جس کے بعد ملک کی  تمام وفاقی وصوبائی یونیورسٹیوں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں ۔ جامعات کے وائس چانسلرز سمیت تمام اساتذہ اور طلباء و طالبات اپنے اپنے کیمپس کے اندر احتجاجی اجلاس منعقد کررہے ہیں۔ جن میں حکومت سے یونیورسٹیوں کے لیے مختص فنڈز کے فوری اجراء کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اس حوالے سے صوبائی سطح پر بھی مظاہرے اور ریلیوں کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ گذشتہ روز ہونے والے اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمشن، چیئرمین ایچ ای سی اور وائس چانسلرز کمیٹی کے تین ارکان نے شرکت کی ۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ جامعات کی جانب سے حکومت سے بائیس ارب روپے مانگے گئے تھے جبکہ بجٹ میں پندرہ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ مختص رقم میں سے بھی اب تک صرف ایک ارب ستر کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں جو حکومت کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔