جنوبی وزیرستان میں 3 ڈرون حملے‘ 28 شدت پسند مارے گئے ۔۔ خیبر ایجنسی : بم حملے میں 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحق

وانا + خیبر + مہمند ایجنسی (ریڈیو نیوز + مانیٹرنگ ڈیسک + اے ایف پی + بی بی سی اردو) جنوبی وزیرستان میں ڈرون طیارے کے 5 حملوں میں 28 شدت پسند مارے گئے۔ خیبر ایجنسی میں ریموٹ کنٹرول بم حملے میں 2 سکیورٹی اہلکار جاںبحق ہو گئے۔ مہمند ایجنسی میں لڑکیوں کے ایک اور سکول کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پاک افغان سرحدی علاقے شکین میں ڈرون نے ایک گاڑی پر متعدد میزائل فائر کئے جس کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور اس میں سوار آٹھ افراد جاںبحق ہو گئے۔ حملے کے بعد علاقے میں تین جاسوس طیاروں کی پروازیں جاری رہیں جس سے علاقہ میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ اعظم ورسک میں ڈرون نے اہم کمانڈر شمس اللہ کے ٹھکانے پر 3 میزائل فائر کئے جس سے 12 شدت پسند چل بسے۔ ذرائع کے مطابق عمارت میں گذشتہ روز جاںبحق ہونے والے افراد کی تدفین کے انتظامات کئے جا رہے تھے۔ تیسرا حملہ بھی اعظم ورسک کے علاقہ میں کیا گیا جس سے 8 مزاحمت کار جاںبحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ جبکہ باڑہ شین کمر روڈ پر فورسز کا قافلہ پانی کا ٹینکر شین کمر چیک پوسٹ لے کر جا رہا تھا کہ راستے میں نصب شدہ ریموٹ کنٹرول بم اچانک دھماکے سے پھٹ گیا جس سے حوالدار اور سپاہی دم توڑ گئے۔ پولیٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب یکہ غنڈ تحصیل کے علاقے خٹکی شریف میں مسلح افراد نے لڑکیوں کے ایک سرکاری سکول کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا۔ حملے میں سکول کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔ مہمند ایجنسی میں پاک آرمی‘ پولیس اور خاصہ دار فورسز کا مشترکہ سرچ آپریشن‘ 50 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ خویزئی میں عسکریت پسندوں نے خویزئی امن کمیٹی پر حملہ کیا اور کراس فائرنگ میں ایک مارٹر گولہ جمال شاہ کے گھر پر گر گیا جس سے جمال شاہ جاںبحق ہو گیا۔ تحصیل بائیزئی میں نامعلوم افراد نے حبیب گل ولد کریم کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا اور لاش ویرانے میں پھینک دی۔شدت پسندوں نے رابطہ پل بارود سے اڑا دیا جس سے تحصیل باڑہ کا دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایف آر پشاور کے علاقہ میں 3 روز سے جاری آپریشن کے دوران اب تک 30 اہلکار جاںبحق ہو چکے ہیں۔