ایڈ نہیں ٹریڈ چاہئے‘ متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کیلئے اربوںڈالر کی ضرورت ہے : شاہ محمود قریشی

نیویارک+اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+وقت نیوز+ریڈیو مانیٹرنگ+ سٹاف رپورٹر) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں امداد نہیں تجارت چاہئے۔ متاثر علاقوں کی تعمیر نو کیلئے اربوں ڈالر کی ضرورت ہے۔ تباہ کن سیلاب اور دہشتگردی سے معیشت کو شدید نقصان پہنچا، عالمی برادری 2 کروڑ بے گھر افراد کی مدد کرے۔ امریکی وزیر خارجہ اور ترک وزیر خارجہ نے شاہ محمود سے ملاقاتیں کیں۔ وزیر خارجہ نے بان کیمون سے بھی ملاقات کی۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ 2 ارب ڈالر امداد کے حصول کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرینگے جبکہ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ مشکل گھڑی میں پاکستانی بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ اقوام متحدہ میں میلینئم ڈویلپمنٹ گولز پر اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود نے کہا کہ سیلاب سے آنے والی تباہی نے پاکستان کی معاشی بحالی سمیت میلینئم ڈویلپمنٹ گول کے حصول کو بھی متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف جاری جنگ میں سکیورٹی چیلنجز کے اثرات کے باعث معیشت متاثر ہوئی ہے اس کے علاوہ پاکستان میں آنے والے سیلاب سے لائیو سٹاک کے ساتھ ساتھ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ نمایاں امریکی کمپنیوں اور تجارتی اداروں کے سربراہان سے خطاب میں وزیر خارجہ نے کہاکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے تخمینہ کا کام آئندہ ماہ کے وسط تک مکمل ہو جائےگا۔ سیلاب سے نقصانات اس قدر زیادہ ہیں کہ کوئی بھی ملک اکیلے اتنے بڑے نقصان کا ازالہ نہیں کر سکتا۔ ہمارا مستقبل بہتر معیشت میں ہے، جس کے تحت ہمیں اپنے عوام کیلئے ایک منصفانہ معاشرہ دینا ہے۔ ہم ایڈ نہیں ٹریڈ چاہتے ہیں۔ دریں اثناءشاہ محمود نے اپنے ترک ہم منصب احمد داﺅد اوگلو سے ملاقات کی۔ ملاقات میں شاہ محمود نے سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد پر ترک حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی ہم منصب ہلیری کلنٹن سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر ہلیری کلنٹن نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ اس کی ہر ممکن مدد کرینگے۔