اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس : خام چینی درآمد کرنے کی اجازت‘ 25 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی / مانیٹرنگ / ایجنسیاں) وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے خام چینی کی درآمد پر عائد 25 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم اور نجی شعبہ کو ضرورت کے مطابق خام چینی درآمد کرنے کی اجازت دےدی جبکہ تیل کی قیمتوں کا اختیار اوگرا سے واپس لینے کی تجویز موخر کر دی گئی سیلاب متاثرہ علاقوں مےں زراعت کی بحالی اور ربیع فصلوں کی بروقت کاشت یقینی بنانے کےلئے کاشتکاروں کو 21 ارب 35 لاکھ روپے مالیت کی کھاد اور بیج مفت فراہم کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ان فیصلوں کا مقصد چینی کی قیمتوں مےں استحکام لانا ہے۔ گذشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ شیخ عبدالحفیظ کی زیرصدارت کمیٹی کے اجلاس مےں ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو ایک ہفتہ کے اندر 50 ہزار ٹن چینی نجی شعبہ کو نیلام کرنے کی ہدایت بھی کر دی گئی۔ اجلاس کے فیصلوں کے مطابق اب خام چینی کی درآمد سے ٹی سی پی کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق نے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اجلاس مےں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا بھی جائزہ لیا گیا اور پیاز، آلو، ٹماٹر، آٹے کی قیمتوں مےں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ افراط زر 13.2فیصد اور آئی ایس پی آئی کی بنیاد پر مہنگائی مےں اضافہ 15.2فیصد رہا۔ اے پی پی کے مطابق انہوں نے کہا کہ این ایف سی کے پاس موجود دو لاکھ 60 ہزار تھیلے یوریا کھاد سیلاب زدہ علاقوں کےلئے مختص کرنے اور گندم کی کم از کم قیمت فروخت 975 روپے فی من مقرر کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ این این آئی کے مطابق سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق نے صحافیوں کو بتایا کہ اس وقت ملک مےں گندم کے ایک کروڑ 64ہزار ٹن ذخائر موجود ہےں جبکہ گذشتہ سال یہ ذخائر 86لاکھ 70ہزار ٹن تھے ٹی سی پی اور صوبوں کے پاس 6لاکھ ٹن چینی موجود ہے گذشتہ سال یہ مقدار 11لاکھ ٹن تھی۔