پاکستان میںاستحکام کیلئے صوبوں کی تعداد بڑھائی جائے: میر ظفر اللہ جمالی

لاہور (خبرنگار) سابق وزیراعظم پاکستان میر ظفر اللہ جمالی نے ملک میں سیاسی اور انتظامی استحکام کیلئے پاکستان میں صوبوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صوبے سیاسی بنیادوں پر بنانے کی بجائے انتظامی بنیادوں پر بنائے جائیں۔ وہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیراہتمام ایوان کارکنان پاکستان میں \\\"موجودہ ملکی صورتحال اور سیاسی قیادت کی ذمہ داریاں\\\" کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کررہے تھے۔ سیمینار سے چیئرمین نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور مدیر اعلیٰ نوائے وقت مجید نظامی اور عزیز الحق قریشی نے بھی خطاب کیا۔ میر ظفر اللہ جمالی نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل بلوچستان میں ہے۔ بلوچستان سے ماضی میں تفریق روا رکھی گئی ہے مگر اب وعدوں\\\' کمیٹیوں کے بنانے کا وقت چلا گیا ہے\\\' اب لوگ عمل چاہتے ہیں\\\' انہیں اعتماد میں لیں۔ اب لوگ احکامات کو ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ بلوچستان کے حالات ٹھیک کرنے کیلئے وہاں کے لوگوں کو عزت دیں۔ بلوچ اگر ناراض بھی ہو تو بہت تھوڑے پر راضی بھی ہوجاتا ہے\\\' بلوچ صرف عزت چاہتا ہے۔ بلوچ کو عزت دیں\\\' وہ سر نہیں جھکاتے\\\' چاہے مرجائے۔ مشرقی پاکستان سے برابری کیلئے مغربی پاکستان میں صوبے ختم کرکے ون یونٹ بنایا گیا۔ اگر اب چھوٹا صوبہ بلوچستان (جو رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ہے) برابری چاہتا ہے تو اسے برابری پر لے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی صوبہ دوسرے کی بالادستی تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہے۔ اگر پاکستان بھارت کی بالادستی تسلیم نہیں کرتا تو پھر صوبے کیوں کسی دوسرے صوبے کی بالادستی تسلیم کریں۔ پاکستان کا مستقبل اس میں ہے کہ صوبوں کو برابری کی بنیاد پر لایا جائے۔ وہاں کے عوام کی بات سنی جائے\\\' انہیں عزت دی جائے\\\' خیرات نہ دی جائے\\\' خیرات کوئی قبول نہیں کرتا۔ بلوچستان کے معاملات اب بھی ٹھیک ہوسکتے ہیں مگر یہ مت سمجھا جائے کہ جو کہا جائیگا اس پر ہی چلیں گے۔ پانی اب گلے تک آگیا ہے اور اب مزید اوپر آیا تو سانس لینا مشکل بنا دیگا۔ پاکستان بنا ہے اور قائم رہے گا\\\' اسے بچانا ہے \\\"بچگانہ\\\" نہیں ہے\\\' مگر آج کل \\\"بچگانہ\\\" چل رہا ہے۔ بچانے اور بچگانے میں فرق ہوتا ہے۔ پاکستان ایک ملک ایک فیڈریشن ہے\\\' یہاں سب کو برابری کے حقوق دیں\\\' سب کو برابر کردیں\\\' آدھا ملک گنوا چکے ہیں\\\' قائد کا پاکستان توڑ چکے ہیں\\\' اب مزید کی گنجائش نہیں ہے۔ بھارت میں 14 صوبے تھے\\\' وہاں اب 29 صوبے ہیں یعنی کہ دو صوبوں کا ایک دارالحکومت بھی ہے۔