واپڈا اور پیپکو کی چپقلش کے باعث بجلی گھر سکریپ کا ڈھیر بن گئے

لاہور (ندیم بسرا سے) واپڈا اور پیپکوحکام کی باہمی چپقلش کے باعث میگاواٹ کے 5 بجلی گھروں کو استعمال نہیں کیا جا رہا جس کے باعث صارفین کو سستی بجلی کی فراہمی بند ہونے کے علاوہ کروڑوںروپے کی مشینری بےکار ہوگئی ہے اور وہ محض سکریپ کا ڈھیر بن گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق شاہدرہ کا 550 میگاواٹ کا بجلی گھر، فیصل آباد کا 570 میگاواٹ، ملتان کا 320 میگا واٹ، گدو کا 410 میگاواٹ اور جامشورہ کا 320 میگاواٹ کا بجلی گھرگزشتہ 9 برسوں سے بند پڑے ہیں۔ پیپکواور واپڈا کی بیوروکریسی نے بجلی گھروں کو نظر انداز کر کے آئی پی پیز کو سسٹم میں جگہ دےدی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ 5بجلی گھر وں سے صارفین کو 5 روپے سے 18 روپے فی یونٹ بجلی ملنے کی بجائے ڈھائی روپے سے تین روپے فی یونٹ بجلی دستیاب ہوتی۔آج جبکہ بجلی کا بحران اتنی شدت اختیا ر کرگیا ہے دو سے تین ماہ میں بجلی گھر دوبارہ فعال ہوسکتے ہیں اور سسٹم میں 2170 میگاواٹ بجلی شامل ہو جائےگی۔ اس بارے میں واپڈا کے سابق ممبر پاورسید تنظیم حسین نقوی کاکہنا ہے کہ 2009 کے آخر تک لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہوگی۔ ہمارے 3 دریاﺅں سے 55 ہزار میگاواٹ بجلی بنانے کی صلاحیت موجود ہے اور ہم نے صرف 8 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جبکہ بھارت کے 30 دریاﺅں کی بجلی بنانے کی صلاحیت 36 ہزار میگاواٹ ہے اس لئے بھارت ہمارے دریاﺅں پر16 ڈیمز تعمیر کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت متبادل توانا ئی کے ذرائع کی طرف کیوں نہیں جاتی حالانکہ تھرکول کوئلے سے ڈیڑھ لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کر کے 100 سالہ ملکی بجلی کی ضروریات پوری کرسکتے ہیں۔