امریکہ ڈرون حملے بند کرے‘ مسئلہ کشمیر حل کرانے کا وعدہ پورا کیا جائے : نوازشریف

لاہور (خبرنگار خصوصی + ریڈیو نیوز) پاکستان میں امریکہ اور یورپی یونین کے سفیروں نے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں جن میں سوات آپریشن اور بے گھر ہونے والے متاثرین کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ رائے ونڈ فارم میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کی نواز شریف سے ملاقات میں وزیراعلی پنجاب شہباز شریف اور لاہور میں امریکی قونصلیٹ کے پرنسپل آفیسر برائن ڈی ہنٹ بھی موجود تھے۔ امریکی سفیر سے ملاقات کے دوران نواز شریف نے کہا کہ امریکہ ڈرون حملے بند کرے اور صدر اوباما نے حلف اٹھانے کے بعد مسئلہ کشمیر حل کرانے کا جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کیا جائے۔ اس موقع پر این ڈبلیو پیٹرسن نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں اور معیشت بہتر بنانے کیلئے امداد کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ میاں نواز شریف نے اپنی گفتگو میں کہا کہ پوری قوم اور تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے یکسو ہو کر سوات میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کی حمایت کی اور اس کے نتیجے میں 15 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں جن کے لئے فوری امداد کی ضرورت ہے۔ آپریشن کے بعد کی صورتحال تعلیم‘ صحت اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے امریکہ فراخدلانہ امداد فراہم کرے۔ امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ امریکہ کو پاکستان کی مشکلات کا احساس ہے اور مہاجرین کی دوبارہ آبادکاری میں پورا تعاون کریں گے۔ یورپی یونین کے سفیر جیم ڈی کک کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے ممالک بھی مہاجرین کی آبادکاری میں ہر طرح کی امداد فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرے اور متاثرہ علاقوں میں جلداز جلد امن بحال ہو۔ امریکی سفیر سے ملاقات کے دوران دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ‘ پاک امریکہ تعلقات‘ سوات میں جاری فوجی آپریشن اور خطے کی صورتحال سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا‘ قائد (ن) لیگ کی طرف سے امریکی ڈرون حملوں کا سلسلہ بند کرنے اور پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ امریکی سفیر نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ رائے ونڈ جاتی عمرہ میں ہونیوالی یہ ملاقات تقریباً ایک گھنٹہ سے زائد تک جاری رہی۔ میاں نوازشریف نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب دہشتگردوں کا مکمل صفایا ہو جائیگا اور ملک میں امن و امان قائم ہو گا۔ سوات اور دیگر علاقوں میں جو شرپسند پاکستانی قوم اور سکیورٹی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں وہ پاکستان کے خیر خواہ نہیں۔