آپریشن کے باعث دو لاکھ افراد سوات میں محصور ۔۔ نقل مکانی کرنے والوں کی دردناک آپ بیتیوں نے سب کو رلا دیا

پشاور (بیورو رپورٹ + رائٹر) سوات میںجاری فوجی آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والے متا ثرین میںسے ہرایک شخص سے ان پرگزرنے والی تکالیف ومشکلات کے بارے میں پوچھا جائے تووہ دردناک آپ بیتی سناکر آنکھوںکونم کردیتاہے انتہائی کرب واذیت سے گزرکرچارسدہ کے پلوسئی کیمپ میںپہنچنے والے ایک خاندان نے گذشتہ روز فریاد ارباب اقتدار تک پہنچانے کیلئے پشاورپریس کلب کارخ کیا۔ آپریشن میںسب سے زیادہ متاثرہ تحصیل مٹہ کے علاقہ کٹ پیوچارکے رہائشی43سالہ جان نواب نے بتایاکہ وہ اہلخانہ کے لئے رزق حلال کمانے کے سلسلہ میںضلع مردان میںموجودتھے کہ گذشتہ دنوںکٹ پیوچارکے قریب ان کے گائوںشوقین پرجیٹ طیاروںنے بمباری کی اس بمباری کے نتیجہ میں ان کاگھرتباہ بیوی دوبہوئیں اور خاتون مہمان سمیت9افرادلقمہ اجل بنے۔ سانحہ کاعلم ہوتے ہی وہ آبائی گائوں شوقین (تحصیل مٹہ) روانہ ہواتاہم کرفیوکے باعث وہ بڑی مشکل سے سوات کے علاقہ بریکوٹ تک پہنچنے میںکامیاب ہواآگے حالات انتہائی کشیدہ تھے اسی لئے وہ واپس مردان آیاان کے اہلخانہ کی تدفین کس طرح ہوئی اس بارے میںانہیںکوئی علم نہیںجان نواب کے چچازادبھائی شمس القمرنے بتایاکہ ان کے گھروالے تحصیل مٹہ کے علاقہ بیاکندمیںرہائش پذیرہیں وینئی چیک پوسٹ کے قریب ان کاگائوںواقع ہے جہاںآئے روزسکیورٹی فورسزاورطالبان کے درمیان جھڑپیںہوتی رہتی ہیں۔ ان کابیٹاسیدقمر جس نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا اور فرسٹ ائیرمیںداخلہ لیناتھاسکیورٹی فورسزاورطالبان کے درمیان فائرنگ کی زد میں آ کرجاں بحق ہوگیا ان کادوسرابیٹاپختون قمرتاحال زخمی ہے شمس القمرکی بہن جوکہ جان نواب کی بھابی ہے حسن بی بی نے بتایاکہ وہ بھی کٹ پیوچارکے قریب شوقین کے علاقہ میںرہ رہی ہیںحالیہ آپریشن میںایک بیٹی اوردو بہو زخمی ہوئی ہیں ان کے ساتھ آئی ہوئی معصوم بچی عرفات کچھ کہنے سے خوفزدہ تھی ان کے بارے میںحسن بی بی نے بتایاکہ عرفات کے سرپرگولی لگی تھی تاہم وہ بچ گئی لیکن وہ اب بھی خوفزدہ ہے متاثرہ اس خاندان کے ساتھ آئی ہوئی تحصیل مٹہ کے علاقہ وینئی کے تعلق رکھنے والی نوجوان خاتون زوجہ بخت منیربھی خوفزدہ نظرآئی ان کے شوہربخت منیرکے مطابق ان کی بیوی اپنے گھرمیںدیگرافرادکے ساتھ موجودتھی چارفروری کو مقامی طالبان ان کے گھرمیںگھس گئے اورکہاکہ آپ لوگ سکیورٹی فورسزوالوںکیلئے جاسوسی کرتے ہیںطالبان نے فائرنگ کر دی جس سے میری ماںاوردوخواتین جو میری بھابیاں تھیں جاںبحق ہوگئیںمیری بیوی طالبان کو دیکھ کر بے ہوش ہوگئی تھی اورآج بھی وہ خوفزدہ رہتی ہے سوات میںفوجی آپریشن سے متاثرہ اس خاندان نے جہاںحکومت سے مناسب امداداوررہائش کی فراہمی کامطالبہ کیاوہاںانہوںنے اپنی اس خواہش کابھی اظہارکیاکہ ان کے علاقہ میںجاری بدامنی کوختم کرکے انہیںامن وسکون کے ساتھ زندگی گزارنے کاموقع دیا جائے۔ رائٹر کے مطابق آپریشن کے باعث وادی سوات میں دو لاکھ افراد گھرے ہوئے ہیں حکام کو ہوائی جہازوں کے ذریعے ان کے لئے خوراک وغیرہ گرانا پڑے گی۔ ریلیف آپریشن کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد نے بتایا کہ محفوظ طور پر بھی دیکھا جائے تو دو لاکھ افراد محصور ہیں۔ درگئی سے نامہ نگار کے مطابق قاسمی مردان میں رہائش پذیر متاثرین نے اپنی روداد سناتے ہوئے حاضرین کو رلادیا۔بخت زادہ نے بتایا کہ اطلاع نہیں دی گئی کہ اوپر سے جیٹ جہاز لے آکر علاقے پر بمباری کی۔جس سے ہم حواس باختہ ہوکر گھروں سے نکل آئے۔ہم اسبنڑ کے پہاڑوں سے ہوتے ہوئے گل آباد پہنچے اور پھر وہاں سے آگرہ کے راستے مردان پہنچے۔جس کی تکلیف کا اندازہ میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔ثانی گل ساکن شوپین سوات نے کہا کہ میرے چچا زاد بھائی کے گھر پر حکومت کی بمباری سے نو افراد جن میں دو لڑکے اور سات لڑکیاں شامل تھیں جبکہ میری تین لڑکیاں ماری گئی ہیں۔گٹ پبلک سکول سوات کے پرنسپل محمد سیراج نے کہا کہ ہم نے بے سروسامانی کی حالت میں اپنے علاقے کو چھوڑکر یہاں پناہ لی ہے۔ ہم میں سے بہت کم لوگ اپنے تمام افراد خانہ کے ساتھ یہاں پہنچے ہیں۔اکثر لوگوں کے افراد یہاں اور کچھ وہاں پھنس چکے ہیں۔دوست محمد خان (چکدرہ) نے بھی کہا کہ میرے بیٹے کا آج تیسرا دن ہے کہ کرفیو میں پھنس چکا ہے۔ وہاں پر مقامی طالبان بہت کم تھے جبکہ باہر کے طالبان زیادہ دیکھنے میں آئے جومختلف بولیاں بولتے تھے اور ان کے رہن سہن اور اطوار مختلف تھے۔وہ ایسے تو کھلے چہروں سے گھومتے تھے لیکن جب کوئی کارروائی کرتے تھے تو نقاب پہن لیتے تھے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہمارے پھنسے ہوئے لوگوں کیلئے گاڑیوں کا بندوبست کرکے یا کرفیو میںنرمی کرکے ان کو آپریشن کے علاقوں سے نکال لیا جائے۔ سلمان (شموزئی ریڈور سوات) نے کہا کہ ساتویں جماعت میں پڑھتاہوں۔امتحانات ہوچکے تھے طالبان نے ہمارے سکول پر قبضہ کرلیا۔ ہمیں سکول سے باہر کردیا۔میں ڈاکٹر بننا چاہتاہوں۔ میرا باپ اور بھائی ابھی تک وہاں ہیں۔انکا ہمارے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہورہا۔درہ مٹہ سوات سے تعلق رکھنے والے رسول احمد، شرافت علی اور نور حلیم نے کہا کہ ہمارے خاندان کے لوگوں نے شوردرہ کو چھوڑکر ان کے ساتھ نزدیکی گاؤں وینئی میں پناہ لی ہے لیکن مواصلاتی نظام بند ہونے کی بناء پر انکے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہورہا۔ نورحلیم سعودی عرب سے آیا تھا لیکن انہوں نے ابھی تک نہ تو اپنے گھر والوں سے ملاقات کی ہے اور نہ ہی اپنے گاؤں گیاہے۔ تخت بھائی میں حکومتی امداد نہ ملنے پر متاثرین دہشت گردی نے دوسرے دن بھی مالاکنڈ روڈ کو ایک گھنٹے تک ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند رکھا۔ متاثرین نے حکومتی اہلکاروں کے خلاف زبردست نعرے لگائے۔
داستانیں