نوشہرو فیروز: جسقم چیئرمین صنعا قریشی کے چچا ساتھی سمیت قتل‘ اندرون سندھ ہنگامے‘ ایک ہلاک‘ کئی زخمی

نوشہرو فیروز: جسقم چیئرمین صنعا قریشی کے چچا ساتھی سمیت قتل‘ اندرون سندھ ہنگامے‘ ایک ہلاک‘ کئی زخمی

حیدرآباد /سکھر  (آئی این پی) نوشہرو فیروز کے علاقے بھریا روڈ میں پکا چانک لنک روڈ پر جلی ہوئی کار سے دو مسخ شدہ نعشیں برآمد کرلی گئیں، جن کی شناخت مقصود خان قریشی اور سلیمان وڈو  کے نام سے ہوئی، مقصود خان قریشی جسقم کے سابق چیئرمین مرحوم بشیر خان قریشی کے بھائی، جسقم کے موجودہ چیئرمین صنعان قریشی کے چچا تھے، مقصود خان قریشی کی ہلاکت کے خلاف   اندرون سندھ شٹربند، پہیہ جام ہڑتال اور ہوائی فائرنگ کی گئی، چار ٹرالر کو آگ لگا دی گئی، مختلف پُرتشدد واقعات میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 15سے زائد زخمی ہوگئے، اندرون سندھ میں سکیورٹی ہائی الڑٹ کردی گئی، اہم مقامات پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی۔  نوشہرو فیروز میں کارکنوں نے ریلیاں نکالیں، ہوائی فائرنگ کی اور اہم چوراہوں اور سڑکوں پر ٹائروں کو آگ لگا کر سٹرکیں ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کردیں، قومی شاہراہ پر بھریا سٹی کے قریب چار ٹرالر کو بھی آگ لگا دی گئی، نوشہروفیروز، محراب پور، مورو،کنڈیارو، بھریا سٹی، بھریا روڈ اور دیگر شہروں میں مکمل شٹربند ہڑتال  رہی، جسقم محراب پور کی جانب سے شہاب میمن کی قیادت میں کارکنوں نے احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقصود خان کو ایک سازش کے تحت شہید کیا گیا، دوسری جانب جسقم کے احتجاج کے پیش نظر ضلع بھر میں بھاری پولیس نفری مقرر کردی گئی، ڈی آئی جی سکھر شرجیل کھرل نے ایس ایس پی نوشہروفیروز نیاز احمد چانڈیو کو اس واقعہ کا انکوائری آفیسر مقررکیا ہے ۔   قاسم آباد، نسیم نگر، بھٹائی نگر، وحدت کالونی، حسین آباد سمیت دیگر علاقوں میں نامعلوم افراد نے ہوائی فائرنگ کی اور کاروبار بند کرا دیا، جسقم کے کارکنوں نے حیدرآباد بائی پاس پر دھرنا دیا اور ٹائر نذرآتش کئے، بعض مشتعل کارکنوں نے گاڑیوں پر پتھرائو بھی کیا جس کے باعث متعدد گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے، جسقم کے دھرنے کے باعث قومی شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت معطل ہوگئی،  دوسری جانب لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز جامشورو نے ڈاکٹرز کی بھرتی کے امتحانات ملتوی کردیئے جبکہ مہران یونیورسٹی جامشورو نے بھی سندھ کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر آج بروز ہفتہ ہونے والے تمام امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ جسقم کے رہنما بشیر خان قریشی کے بھائی مقصود قریشی و کارکن کی بھریا روڈ میں ہلاکت کے خلاف اندرون سندھ کی طرح سکھر میں بھی جسقم کے ڈنڈا بردار کارکنان سڑکوں پر نکل آئے اور سٹی بائی پاس پر ٹائر جلائے اور رکاوٹیں کھڑی کر کے سندھ بلوچستان کے درمیان ٹریفک کی آمد و رفت معطل کر دی اس موقع پر مشتعل کارکنان نے آنے جانے والی گاڑیوں پر پتھرائو بھی کیا اور گاڑیوں پر ڈنڈے برسائے جس سے کئی گاڑیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے اس موقع پر کارکنان و گاڑی مالکان میں تلخ کلامی کے واقعات بھی رونما ہوئے۔ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی  جبکہ سکرنڈ روڈ پر شہر بند کرانے کی کوشش کے دوران مسلح کارکنوں کی آپس کی فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد منظور چنہ اور راشد چانڈیو شدید زخمی ہوگئے جنہیں نازک حالت میں پیپلز میڈیکل یونیورسٹی ہسپتال لایا گیا جہاں منظور چنہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئے جبکہ راشد چانڈیو کی حالت بدستور تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ اس موقع پر پولیس نے شہر میں فائرنگ اور ہنگامہ آرائی کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کرلیا جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے شہر کے اہم مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی ہے۔ دریںا ثناء بدین جسقم کے راہنما مقصود قریشی اور ان کے ساتھی کے قتل کیخلاف ہالا، بھٹ شاہ، مٹیاری، پڈعیدن بدین شہر سمیت دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں ہڑتال مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔  علاوہ ازیں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف علی زرداری نے جسقم رہنما مقصود قریشی کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعہ کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے جسقم کے رہنما مقصود قریشی کے قتل کی شددی مذمت کرتے ہوئے  خلاف آج سندھ بھر میں یوم سوگ کا اعلان کیا۔ رابطہ کمیٹی کے ارکان ڈاکٹر فاروق ستار اور اشفاق منگی نے جسقم رہنماؤں سے ٹیلیفون پر تعزیت کی۔ الطاف حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ سندھ دھرتی سے پیارکرنے والوں کو سوچی سمجھی سازش کے تحت قتل کیا جا رہا ہے۔ رابطہ کمیٹی نے بھی مقصود قریشی کے قتل کو سندھ کا امن خراب کرنے کی گھناؤنی سازش قرار دیا۔ سندھ نیشنل پارٹی نے بھی مقصود خان قریشی کے قتل پر 3روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے 30مارچ کو حیدر آباد میں امن جلسہ ملتوی کر دیا۔ جسقم کے سینئر وائس چیئرمین ڈاکٹر نیاز کالانی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مقصود قریشی 23مارچ کو ہونے والے فریڈم مارچ کے سلسلے میں تنظیمی دورے پر تھے۔ اس واقعہ میں ریاستی ادارے ملوث ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نامعلوم ٹیلی فون نمبر سے مسلسل انہیں دھمکیاں مل رہیں ہیں اور مارچ سے باز رہنے کو کہا جا رہا تھا سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہاکہ مقصود قریشی کی موت افسوسناک واقعہ ہے جس کی تحقیقات کرائی جائیں گی، قوم پرست کارکن مشتعل نہ ہوں۔