طالبان سے مذاکرات سبوتاژ کرنیوالے باز نہ آئے تو کارروائی کرینگے: نثار

طالبان سے مذاکرات سبوتاژ کرنیوالے باز نہ آئے تو کارروائی کرینگے: نثار

اسلام آباد (این این آئی+ ثنا نیوز+ نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات سبوتاژ کرنیوالے عناصر باز نہ آئے تو ان کیخلاف کارروائی ضرور ہوگی، بعض طاقتیں دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے مذکرات سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔ مذاکرات میں کوئی ڈیڈلاک نہیں، حکومتی اور طالبان کمیٹی کی پہلی باضابطہ ملاقات کے بعد بہت سے سوالات ختم ہو جائینگے، ادھر چودھری نثار نے حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کا اجلاس آج طلب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق امید ہے مذاکرات کے وقت اور جگہ کا تعین آج کر لیا جائے گا۔ چودھری نثار نے کہا کہ  نادرا کے ڈائریکٹر جنرلز کی تعداد 36سے کم کرکے24کردی گئی ہے، پانچ سال میں نادرا میں 8ہزار لوگ بھرتی کئے گئے ان کیخلاف ڈسپلنری کارروائی کی جائیگی۔ نادرا میں ایک سال کیلئے نئی بھرتیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے، اب بیرون ملک تقرریاں اقربا پروری کی بجائے ایک سسٹم کے تحت کی جائینگی، اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ کی منظوری دیدی گئی ہے۔ حکومت اور طالبان کے درمیان ایک دو روز میں مذاکرات شروع ہو جائیں گے،  مذاکراتی مقام کے معاملے پر دونوں اطراف سے کوئی تعطل نہیں ہے، معاملات بہتری کی جانب گامزن ہیں،  براہ راست مذاکرات کا حساس ترین مرحلہ شروع ہونے والا ہے، خاموشی سے اس معاملے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں، نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے سیکرٹ فنڈ کا غلط استعمال کیا گیا اس سیل کو ہی ختم کیا جا رہا ہے، نادرا میں پانچ سال تک اندھیر نگری چوپٹ راج رہا، مادر پدر آزادی تھی، 361گھوسٹ ملازمین ہیں  بارہ ملازمین جعلی شناختی کارڈ پر ملازمتیں حاصل کر چکے تھے،  تیرہ ملازمین کی ڈگریاں جعلی نکلیں، خلاف ضابطہ بھرتیاں کرنے والوں کے خلاف انضباطی کارروائی جلد شروع ہو جائیگی، جدید ہیلی کاپٹرز کو سابقہ دور میں ملازمین اور نوکروں کو لانے لے جانے اورگھریلو سامان کیلئے استعمال کیا جاتا رہا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چودھری نثار علی خان نے کہا کہ  نادرا میں ایک سال کیلئے نئی بھرتیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے، اب بیرون ملک تقرریاں اقرباپروری کی بجائے ایک سسٹم کے تحت کی جائینگی۔ طالبان سے مذاکرات کوئی آسان مسئلہ نہیں یہ گھمبیر مسئلہ ہے، مذاکرات کیلئے جگہ کا تعین کوئی بڑا مسئلہ نہیں مذاکرات میں کوئی ڈیڈلاک نہیں اس حوالے سے میڈیا میں دیئے جانیوالا تاثر درست نہیں گزشتہ دو ماہ میں ہونیوالے اقدام کا سب سے حساس مرحلہ شروع ہونیوالا ہے، مذاکرات کو سبوتاژ کرنیوالے عناصر باز نہ آئے تو اس کا واضح طریقہ کار بن چکا ہے ہم ایسے عناصرکیخلاف ضرور کارروائی کرینگے، ہم چاہتے ہیں کہ مذاکرات خاموشی سے آگے بڑھیں اس پر بیان بازی ٹھیک نہیں،  نادرا انتہائی اہم ادارہ ہے جو قومی سطح پر کام کررہا ہے میں نے وزارت داخلہ کا چارج سنبھالتے ہی اس اہم ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ سیلف فنانس کمرشل آرگنائزیشن بنانے کیلئے ہدایت کی اس ادارے کا مجموعی طور پر آمدن اور اخراجات میں ماہانہ فرق 78ملین روپے کا تھا لیکن گزشتہ دو ماہ میں ہم نے اس ادارے کو منافع بخش بنادیا ہے  جنوری میں 42.4کروڑ اور فروری میں47.5 کروڑ روپے کا فائدہ ہوا ہے آئندہ چند مہینوں میں نادرا کے ریونیو میں مزید تیزی سے اضافہ ہوگا  ہم نے نادرا کے ڈائریکٹر جنرلز کی تعداد 36 سے کم کرکے24 کردی ہے جبکہ اور بھی انتظامی اقدامات کئے ہیں نادرا میں ایک طرف افسر براہ راست ٹرانسپورٹ کی مد میں پیسے لے رہے تھے ادارے کی گاڑیاں بھی استعمال کرتے تھے ہم نے 23 گاڑیاں واپس لی ہیں فارن پوسٹنگ پر بھی کسی کا بیٹا اور کسی کا بھائی یا چچا ماموں تعینات تھے اور وہ لوگ سالہا سال سے ان عہدوں پر بیٹھے ہوئے تھے ہم نے ان سب کو ختم کردیا ہے ان لوگوں کو کروڑوں روپے مختلف مدوں میں دیئے جارہے تھے اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بیرون ملک کوئی بھی تقرری صرف اور صرف میرٹ پرہوگی، نادرا میں ایک سال تک کسی بھی نئی بھرتی پر پابندی لگادی گئی ہے ماضی میں جو لوگ رولز کے برعکس بھرتی کرتے رہے ان کیخلاف ڈسپلنری کارروائی ہوگی فارن پوسٹنگ ایک سسٹم کے تحت ہوگی ریوارڈ بھی اسی کو ملے گا جو بڑھ کرکام کرے گا نادرا کا آڈٹ شروع کرا دیا ہے تمام ریجنل دفاتر کا بھی آڈٹ کروایا جائیگا نادرا کا کوئی بھی ملازم کسی غیرملکی سے کام کیلئے براہ راست ملاقات نہیں کرے گا کوئی بھی کام وزارت کی اجازت سے ہوگا، اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ کی منظوری دیدی گئی ہے،  بین الاقوامی شہرو ں کی طرح اسلا م آباد میں بھی کیمرے اور سنٹرل کمانڈ سسٹم قائم کیا جائیگا صرف ناکوں سے دہشتگردوں اور جرائم پیشہ عناصر پرنظرنہیں رکھی جاسکتی جو لوگ آج تنقید کررہے ہیں وہ تیرہ سال حکومت میں بیٹھے رہے مگر اس پر کوئی توجہ نہیں دی سیف سٹی پراجیکٹ کے 120ملین ڈالر میں سے 68ملین ڈالر ہو چکے ہیں اس پر حکومت پاکستان سود بھی ادا کررہی ہے اب ہم نے کمپنی سے کہا ہے کہ ایک سال کے اندر پراجیکٹ مکمل ہونا چاہئے۔ نادرا کی ورک فورس کے اندر گزشتہ پانچ سال میں آٹھ ہزارافراد کو بھرتی کیاگیا ا ندھیر نگری مچی ہوئی تھی کئی ملازمین دفتر آتے ہی نہیں تھے مگر ان کو تنخواہیں دی جاتی رہیں اب تمام ملازمین کی بائیو میٹرک سسٹم کے تحت حاضری ہوگی، سترہ ہزار ملازمین میں سے ساڑھے سولہ ہزار کی تصدیق ہوچکی ہے 361ملازمین ایسے ہیں جن کا کوئی پتہ نہیں لیکن ان کو تنخواہیں باقاعدگی سے دی جاتی ہیں جو لوگ نادرا سے باہر کے محکموں میں کام کررہے تھے ان کو واپس بلالیاگیا ہے اب کسی بھی مد میں یاوزارت میں سنگل عدد سے زیادہ نادرا کا کوئی عملہ نہیں ہوگانادرا میں ڈیپوٹیشن پرآئے ہوئے ملازمین کو ان کے عہدے میں واپس بھیج دیاگیا ہے۔ نادرا کے تیرہ افسروں کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئی ہیں بارہ ملازمین کوجعلی شناختی کارڈبنانے میں ملوث ہونے پربرطرف کیاگیا، 7.62بلین روپے حکومت پاکستان کی سرمایہ کاری ہے ابھی نادرا کوپنجاب بار کونسل ،افغان مہاجرین،پنجاب اسلحہ لائسنس اورویٹ سبسڈی کارڈ بھی بنانے کے پراجیکٹ ملے ہیں اس سے بھی نادرا کی آمدن میں اضافہ ہوگا انہوں نے کہا کہ میڈیا اورسول سوسائٹی نادرا کی کارکردگی پرنظررکھیں انہوںنے نادرا حکام کو ہدایت کی کہ وہ بجٹ اکائونٹس کی تفصیلات ہرماہ نادرا کی ویب سائٹ پرجاری کریں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ صرف فیول کی مد میں دو ماہ میں نادرا کو ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کی بجٹ ہوئی، چھ ماہ میں ہم 78ملین کے نقصان سے 77کروڑ روپے کے منافع پرآگئے،  وزیرداخلہ نے اعلان کیاکہ جو بھی ملازم سفارش کرائیگا میں اسے معطل کردونگاانہوں نے بتایا کہ خیبرپی کے سے بھی ایک پراجیکٹ نادرا کو دینے پربات چیت ہوئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں  انہوں نے کہاکہ سیف سٹی پراجیکٹ پر شورکرنیوالے کاش اس وقت تک بات کرتے جب وہ حکومت میں تھے 120ملین ڈالر کے معاہدے پردستخط 2008ء میں ہوئے تھے اس وقت  کسی نے کیوں بات نہ کی 68ملین ڈالر جاری ہوچکے ہیں، حکومت کئی سال سے اس پر سود اداکررہی ہے، ہم اس کو انجام تک پہنچائیں گے اولڈ سٹیٹ بنک بلڈنگ سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ یہ وہ ہال ہے جس میں قومی اسمبلی نے پاکستان کا آئین منظور کیا یہاں ذوالفقار علی بھٹو، مفتی محمود اور دیگر سیاستدان بیٹھتے رہے۔ اب وہ ایک گودام کی شکل بنا ہوا ہے چھت گررہی ہے لیکن ہم اسے اصلی حالت میں بحال کرینگے وزیراعظم کو سمری بھیج دی ہے نادرا اس پر تین کروڑ روپے خرچ کریگا چیئرمین نادرا سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ قائم مقام چیئرمین نادرا ایف آئی اے کے سینئرترین افسر کو بنایا گیا لیکن اب فیصلہ کیا ہے کہ نادرا کا چیئرمین بائیس گریڈ کا افسر ہونا چاہیے چیئرمین نادرا کی تقرری کے حوالے سے آئندہ چند روز میں کام شروع ہوجائیگا اس سے پہلے جتنے بھی نادرا کے چیئرمین آئے وہ صرف حکمران کے ایک حکم پر تعینات ہوئے مشرف اور زرداری دور حکومت میں بھی یہی ہوا نادرا آرڈیننس کے تحت نئے چیئرمین کی تقرری کا فیصلہ وزیرداخلہ کی سربراہی میں کمیٹی کرتی ہے لیکن میں نے یہ اختیار سپریم کورٹ کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کو دیدیا ہے ہم نے اس کی کوالیفکیشن بھی بڑھادی ہے، تنخواہ کیلئے بھی ایم پی ون سکیل مقرر کیا ہے اس سے پہلے چیئرمین ساڑھے آٹھ لاکھ سے اکیس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لیتے رہے لیکن ایم پی ون کے تحت تنخواہ ساڑھے تین لاکھ روپے تک ماہانہ ہوگی۔ مجھے گزشتہ رات ہی ایک خط موصول ہوا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کے ایک رکن مستعفی ہوچکے ہیں لیکن میں چاہتاہوں کہ کمیٹی ہی نئے چیئرمین کا تقرر کرے اس میں میڈیا کا بھی ایک نمائندہ شامل ہو سانحہ اسلام آباد کچہری کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیرداخلہ نے کہاکہ اس سانحہ کی تین جگہوں پر انکوائری ہورہی ہے سپریم کورٹ اورہائی کورٹ میں انکوائری جاری ہے جبکہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ ہمیں مل چکی ہے ہماری جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بھی تحقیقات کررہی ہے جس میں آئی ایس آئی اور آئی بی کے افسر موجود ہیں تمام تحقیقات شفاف ہونگی اور عوام کے سامنے لائی جائیں گی ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ماضی میں ایمرجنسی کیلئے موجود ہیلی کاپٹر جس طرح استعمال ہوتے رہے ہیں سب کے سامنے نوماہ ہوگئے ہیں ان ہیلی کاپٹروں کو صرف آپریشنل کاموں کیلئے استعمال کیا گیا اور وزیر تک نے بھی اس میں سفر نہیں کیا جبکہ ماضی میں ان ہیلی کاپٹروں کو کھانا لینے اور نوکروں تک کے استعمال میں لایا جاتا رہا، میں این سی ایم سی کا ادارہ بھی ختم کر رہا ہوں ہم چاہتے ہیں کہ ان ہیلی کاپٹروں سے سول آرمڈ فورسز مستفید ہوں ۔طالبان  کے ساتھ مذاکرات  سے متعلق  تیزی سے پیشرفت ہو رہی ہے اب  براہ  راست  مذاکرات  ہونے والے ہیں۔ کوئی ڈین لاک نہیں، مذاکرات  کیلئے جگہ کے حوالے سے بھی کوئی  ایشو نہیں ہے۔  نادرا میں 23 اضافی گاڑیاں  واپس   کرکے   16 لاکھ روپے کی بچت کی۔  بیرون ملک  تقرریاں اب  صرف میرٹ پر ہوں گی۔ نادرا  کو اس کے اپنے آرڈیننس  کے مطابق چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔  پابندی کے باوجود  غیر قانونی  بھرتیاں  کرنے والوں کیخلاف کارروائی  ہو گی۔ اسلام آباد  کی  سکیورٹی یقینی بنانے کیلئے کمپیوٹرائزڈ  نظام بنا رہے ہیں۔ نادرا  کے افسران کی 13  ڈگریاں جعلی ثابت  ہوئیں۔ گزشتہ 8 سال سے نادرا  کا روکا گیا  آڈٹ  شروع کرا دیا ہے۔ سترہ  ہزار ملازمین  کے باوجود دوسرے  محکموں  سے ملازمین  نادرا  میں لائے گئے۔  تمام علاقائی دفاتر کا بھی  آڈٹ کرایا جا رہا ہے۔  غیر قانونی  شناختی کارڈ رکھنے والے 18 ملازمین  کو برطرف کر دیا ہے ۔ چودھری نثار نے کہا کہ دہشتگردی  روکنے کیلئے  صرف ناکے کافی نہیں ہیں  اب ناکوں سے جرائم پیشہ افراد پر نظر رکھی جائے گی۔ نادرا کی حساسیت کے باعث پیش نظر غیرملکیوں سے ملازمین کے رابطوں پر پابندی ہے۔ پنجاب حکومت کے مستحق افراد تک گندم پہنچانے کے لئے نادرا انتہائی مستحق افراد کی شناخت کرے۔