شہباز شریف کا دورہ چولستان‘ 2 ارب 37 کروڑ روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان‘ بے زمین کاشتکاروں کیلئے اراضی الاٹمنٹ سکیم شروع کرینگے: وزیراعلیٰ

شہباز شریف کا دورہ چولستان‘ 2 ارب 37 کروڑ روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان‘ بے زمین کاشتکاروں کیلئے اراضی الاٹمنٹ سکیم شروع کرینگے: وزیراعلیٰ

لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے چولستان میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی، سڑکوں کی تعمیر اور لائیوسٹاک کی ترقی کے لئے 2 ارب 37 کروڑ روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان اپنے دورہ چولستان کے دوران کیا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر چولستان کے بے زمین کاشتکاروں کیلئے اراضی کی الاٹمنٹ کی نئی سکیم کا اعلان بھی کیا۔ چولستان میں مختلف اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ چولستان کے حالات معمول کے مطابق ہیں اور علاقے میں کوئی موت واقع ہوئی ہے نہ قحط سالی ہے۔ گندم کی کٹائی کے موسم میں نقل مکانی چولستان میں معمول کا حصہ ہے۔   صوبائی وزیر اقبال چنڑ، وزیر ہائوسنگ تنویر اسلم، چیف سیکرٹری نوید اکرم چیمہ، عوامی نمائندے سعود مجید، خالد ججہ اور متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔ شہباز شریف نے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے چولستان کے حالات معمول کے مطابق ہیں۔ میں نے چولستان کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے لاہور سے مختلف ٹیمیں علاقے میں بھیجیں جنہوں نے پورے علاقے کا دورہ کر کے نہ صرف حالات کا جائزہ لیا بلکہ لوگوں کو فی الفور ضروری امداد بھی فراہم کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صورتحال کے جائزہ کے دوران بعض محکموں کی غفلت سامنے آئی ہے جس کا فوری نوٹس لیا گیا ہے۔ چولستان کے لئے اعلان کردہ ترقیاتی پیکیج کے تحت 1100  ٹوبوں کی مکمل صفائی کی جائے گی جس پر 60کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ کڈ والہ سے 80کلومیٹر سڑک تعمیر ہو گی جس پر 24 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ ٹیل والا سے مٹھڑے تک سڑک کی تعمیر پر 30 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ وزیراعلیٰ نے چولستان کے علاقے رسول سر سے بجنوٹ براستہ ماڑی 30 کلومیٹر پائپ لائن کے توسیعی منصوبے کے لئے 18 کروڑ روپے، ڈیراور سے کنڈی والہ ٹوبھہ تک 25 کلومیٹر پائپ لائن کے لئے 15کروڑ روپے، ڈھوری سے بھانو والا 30 کلومیٹر واٹر پائپ لائن کے لئے 18 کروڑ روپے اور موج گڑھ سے چپن والا پائپ لائن کے لئے 80لاکھ روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ شہباز شریف نے چولستان کی موجودہ 230 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر نو کے لئے 7 کروڑ روپے کے فنڈز کے اجرائ، چولستان کے رہنے والوں کے مال مویشیوں کے لئے ویٹرنری ادویات اور تین ماہ تک مفت ویکسی نیشن کے لئے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کی رقم فراہم کرنے جبکہ چولستان کی زمینوں کو پانی کی فراہمی کے لئے 250کیوسک نہری پانی فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے تالیوں کی گونج میں اعلان کیا کہ چولستا ن کے بے زمین کاشتکاروں کو اراضی فراہم کرنے کے لئے صاف شفاف طریقہ کار کے مطابق نئی الاٹمنٹ سکیم شروع کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ صوبائی سیکرٹریوں کو ہدایت کی کہ وہ ہفتہ میں دو دن جبکہ چیف سیکرٹری ہر دس دن بعد چولستان کا دورہ کریں۔ وزیراعلیٰ نے عوامی اجتماع میںموجود افرادسے چولستان کی صحیح صورتحال کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہاں پر ناموافق حالات کی وجہ سے کوئی موت واقع نہیں ہوئی تاہم علاقے میں پانی کی مزید فراہمی کی ضرورت ہے۔ شہباز شریف نے میڈیا کے بعض حلقوں کی جانب سے چولستان کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا میرے لئے رہنمائی کا کام کرتا ہے اور میں میڈیا رپورٹس پرسنجیدگی سے نوٹس لیتا ہوںتاہم میڈیا کے بعض حلقوں نے چولستان کے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور ایسی پرانی اور غیر متعلقہ تصاویر پیش کیں جو صحافتی ضابطہ اخلاق کے منافی ہیں۔ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد حقائق سامنے آئے ہیں کہ چولستان میں ایمرجنسی والی کوئی بات نہیں ہے اور قحط کا دور دور تک نام و نشان نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ نے چولستان کے علاقہ پھالے والہ ٹوبھہ میں واٹر سپلائی سکیم، فری ویکسی نیشن ، میڈیکل کیمپ اور پانی ذخیرہ کرنے کے مصنوعی ذریعہ واٹر باؤزر کا معائنہ کیا۔ علاوہ ازیں شہباز شریف کی زیر صدارت گزشتہ روز اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔جس میں پنجاب میں لگائے جانے والے کول پاور پراجیکٹس کیلئے کراچی سے بذریعہ ریلوے درآمدی کوئلے کی ترسیل کے حوالے سے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت صوبے میں کوئلے سے بجلی کے حصول کے بڑ ے منصوبے پر کام کررہی ہے۔ کول پاور جنریشن کے ذریعے کافی حد تک توانائی کے بحران پر کم مدت میں قابو پایا جا سکتا ہے۔ پنجاب میں کوئلے سے بجلی کے حصول کے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے مجوزہ پاور پلانٹس کی سائٹس پر بندر گاہوں سے درآمدی کوئلے کی ترسیل کا نظام وضع کیا جارہا ہے ۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ درآمدی کوئلے کے ترسیلی نظام کو مربوط اورجدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے اورکوئلے کے ترسیلی نظام کے حوالے سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ماڈل کا بھی جائزہ لیا جائے۔ ملک کو درپیش توانائی کے سنگین بحران سے نجات دلانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بجلی کے منصوبوں پر برق رفتاری سے کام کررہے ہیں۔ ہماری مخلصانہ کاوشیں، شب روز کی محنت انشاء اللہ ضرور رنگ لائے گی اور ملک کو توانائی کے بحران سے نجات ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کاری کا عمل تیز ہو گا، معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ دریں اثناء شہباز شریف گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے رہنما اکرام ربانی کے گھر گئے اور انہیں ان کے بیٹے کی شادی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے شادی شدہ جوڑے کیلئے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔