آئی جی سندھ کی تعیناتی کیلئے 7 روز کی مہلت‘ حکومتوں کے اختلافات سے کراچی کا امن تباہ ہو رہا ہے: چیف جسٹس

آئی جی سندھ کی تعیناتی کیلئے 7 روز کی مہلت‘ حکومتوں کے اختلافات سے کراچی کا امن تباہ ہو رہا ہے: چیف جسٹس

کراچی (ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے  سندھ میں آئی جی کی تعیناتی نہ کئے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ سات روز کے اندر آئی جی کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ چیف جسٹس نے صوبے کی اہم عہدے پر تقرری نہ ہونے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کے اختلاف سے کراچی کا امن تباہ ہو رہا ہے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ آئی جی کی تقرری کا کیا بنا تو ان کا کہنا تھا کہ تقرری نہیں ہو سکی کیونکہ عدالت نے ایک ہفتے کا وقت دیا تھا۔ جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوموار تک آئی جی کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری ہونا چاہئے۔  ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت آئی جی کی تعیناتی کے لئے صوبوں سے مشاورت کے لئے پابند ہے اور وفاقی حکومت نے 27 فروری کو تین پی ایس پیز افسران کے نام صوبائی حکومت کو بجھوائے تھے اس کے بعد سندھ حکومت کو یاد دہانی بھی کرائی گئی لیکن تاحال کوئی جواب نہیں مل سکا۔ جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی سندھ وفاق کی جانب سے بجھوائے گئے تینوں ناموں سے متفق نہیں ہیں اس لئے عدالت مزید وقت دے۔ جو نام وفاق کی طرف سے دیئے گئے ہیں وہ صوبے میں امن قائم نہیں کر سکتے۔ پنجاب میں وزیر اعلی کی مرضی سے آئی جی تعینات کیا جاتا ہے لیکن سندھ میں وفاق نے تین نام بجھوا دیئے ہیں۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیا بات کر رہے ہیں کہ کیا ایک آدمی صوبے میں امن قائم کر سکتا ہے اور اگر وفاق اور صوبائی حکومت متفق نہیں ہوتے تو کیا آئی جی کا تقرر نہیں کیا جائے گا۔ سندھ حکومت ایک ایسا نام دے دے جو امن قائم کر سکے ہم وفاقی حکومت سے سفارش کریں گے کہ وہ اس کی تقرری کرے۔ یہ تقرریاں حکومت کی ذمہ داری ہے عدالت کو حکم دینے پر مجبور نہ کیا جائے۔ ملک میں اسٹیبلشمنٹ اتھارٹی ہے اور یہ حکومت کے معاملات ہیں۔  عدالت دخل اندازی  نہیں کر سکتی عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو وزیر اعلی سندھ سے مشاورت کے لئے وقت دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی سے پوچھ کر آئیں کہ وہ کسے آئی جی تعینات کرنا چاہتے ہیں۔ بعدازاں ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ آئی جی کی تعیناتی کے لئے وقت دیا جائے جس پر عدالت نے انہیں سات روز کی مہلت دیتے ہوئے حکم دیا کہ وفاقی حکومت ایک ہفتے میں آئی جی کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔ آئی این پی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ آپس کے اختلافات سے کراچی کا امن متاثر ہورہا ہے لہٰذا ابھی وزیر اعلیٰ سندھ کو فون کریں اور آئی جی سندھ کا نام مختص کریں، ہم وفاق سے سفارش کریں گے کہ اسے آئی جی تعینات کیا جائے اور پیر کو آئی جی سندھ کی تقرری کا نوٹی فکیشن عدالت میں پیش کیا جائے۔ وقفہ سماعت کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ پیر تک آئی جی سندھ کے لئے حتمی نام وفاقی حکومت کو بھجوا دیا جائے گا اور آئی جی تقرری جلد از جلد عمل میں لائی جائے گی۔