کوئٹہ کے قریب سورینج کے علاقے میں کان کے اندر دھماکے سے جاں بحق ہونے والے تینتالیس افراد کی لاشیں نکال لی گئیں ۔

کوئٹہ کے قریب سورینج کے علاقے میں کان کے اندر دھماکے سے جاں بحق ہونے والے تینتالیس افراد کی لاشیں نکال لی گئیں ۔

امدادی کارکنوں نے آج متاثرہ کان سے مزید گیارہ مزدوروں کی لاشیں نکال لیں جبکہ کان میں پھنسے مزید کان کنوں کو تلاش کیا جارہا ہے ۔ جاں بحق ہونے والوں میں سے چالیس کا تعلق ضلع شانگلہ سے ہے۔ جن کی تدفین شانگلہ کے علاقے اخوند کلے میں کی جارہی ہے۔ دوسری جانب ہلاکتوں کے خلاف کوئٹہ میں مائنز لیبر فیڈریشن کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں کانوں میں کام کرنے والے اور دیگر مزدور یونینوں کے کارکنوں نے بھی شرکت کی ۔ ریلی کے شرکا نے صوبائی حکومت اور پی ایم ڈی سی کی انتظامیہ کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور بلوچستان ہائیکورٹ سے مطالبہ کیا کہ کان کے اندر ہلاک ہونے والے تینتالیس کارکنوں کے واقعہ کا نوٹس لے ۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مائنز لیبر فیڈریشن کے صدر بخت نواب نے افسوسناک واقعہ کی ذمہ داری کول مانئز انسپکٹر پرعائد کی ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مائنز ایکٹ پرعملدرآمد کو یقینی بنایا جائے ۔