صدر مملکت آصف علی زرداری پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے چاربار خطاب کرنے والے پاکستان کے پہلے جمہوری صدر بن گئے ہیں

صدر مملکت آصف علی زرداری  پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے  چاربار خطاب کرنے والے پاکستان کے پہلے جمہوری صدر بن گئے ہیں

آئین کے مطابق صدر مملکت پر پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنا لازم ہے۔ غیر منتخب صدور میں سے سابق فوجی آمر ضیاالحق اور غلام اسحاق خان پانچ پانچ بار پارلیمان سے خطاب کر چکے ہیں ، اس دوران صدر بلاشبہ ایک رہا تاہم پارلیمنٹ ضرور بدلتی رہی۔ انیس سو ترانوے میں قائم مقام صدر وسیم سجاد نے پارلیمنٹ سے خطاب کیا۔ انیس سو چورانوے میں صدر فاروق لغاری مرحوم نے تین مرتبہ پارلیمنٹ سے خطاب کیا۔ اس کے بعد صدر رفیق تاڑڑ کا دور آیا تو انہوں نے دو مرتبہ پارلیمنٹ کو اس اعزاز سے نوازا۔ کسی بھی دور میں پارلیمنٹ اپنے پانچ برس مکمل نہ کرسکی۔ صدرجرنل پرویز مشرف کے دور حکومت میں کی پارلیمنٹ نے پانچ برس تو پورے کیے لیکن ایک مرتبہ خطاب کے دروان اپوزیشن کے گھراؤ سے اتنا خائف ہوئے کہ دوبارہ ایسی جسارت نہ کی۔ ملک کی پارلیمانی تاریخ میں جمہوری صدر کا ایک ہی پارلیمنٹ سے چوتھی بار خطاب یقیناً ایک اہم سنگ میل ہے۔ چھبیس جولائی انیس سو پچپن کو پیدا ہونے والےآصف علی زرداری پاکستان کے گیارہویں صدر ہیں۔ انھوں نے 9 ستمبر 2008 کو صدر پاکستان کا حلف اٹھایا تھا، اسوقت کے چیف جسٹس ، عبدالحمید ڈوگر نے ان سے حلف لیا صدارتی حلف اٹھانے کے گیارہ دن بعد صدر زرداری نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے اپنا پہلا خطاب 20 ستمبر 2008 کو کیا، 28 مارچ 2009 کودوسری مرتبہ ،پانچ اپریل 2010 کوتیسری بار جبکہ بائیس مارچ دوہزار گیارہ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے انہوں نے اپنا چوتھا خطاب کیا ہے۔ اس خطاب کے بعد انہیں پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کے پہلےجمہوری صدرکا اعزاز حاصل ہوگیا ہے جنھوں نے ایک ہی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے چار بارخطاب کیا ۔