مشرف پر حملے میں ملوث مزید چار دہشت گردوں کو فیصل آباد جیل میں پھانسی ‘ آٹھ مجرموں کو آج یا کل تختہ دار پر لٹکانے کی تیاریاں مکمل

مشرف پر حملے میں ملوث مزید چار دہشت گردوں کو فیصل آباد جیل میں پھانسی ‘ آٹھ مجرموں کو آج یا کل تختہ دار پر لٹکانے کی تیاریاں مکمل

فیصل آباد (نمائندہ خصوصی+ نیوز ایجنسیاں) پرویز مشرف پر حملے میں ملوث چار دہشت گردوں کو ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ مجرموں کی نعشیں قانونی کارروائی کے بعد لواحقین کے حوالے کر دی گئیں۔ زبیراحمد، راشد عرف ٹیپو، غلام سرور اور اخلاص عرف روسی کو سخت سکیورٹی حصار میں سنٹرل جیل سے ڈسٹرکٹ جیل منتقل کیا گیا تھا۔ جیل کی سکیورٹی پاک فوج نے سنبھال رکھی تھی اور جیل کی طرف جانے والے راستوں کو سیل کر دیا گیا تھا۔ جیل کے باہر ایلیٹ فورس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ دہشتگرد پرویز مشرف پر حملے میں ملوث تھے، اس کے ساتھ ساتھ بے گناہ انسانوں کے قتل اور نقص امن پھیلانے کی سرگرمیوں میں ملوث تھے، پھانسی سے پہلے لواحقین سے انکی آخری ملاقات بھی کرائی گئی۔ ڈاکٹروں نے پھانسی سے قبل مجرموں کا طبی معائنہ کیا اور پھانسی کے بعد ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا۔ غلام سرور اور راشد ٹیپو کا تعلق راولپنڈی سے تھا۔ غلام سرور اور راشد ٹیپو کو پہلے اور اخلاص عرف روسی اور زبیر کو دوسرے مرحلے میں پھانسی دی گئی۔ قبل ازیں ڈسٹرکٹ جیل حکام کو چاروں قیدیوں کے ڈیتھ وارنٹ موصول ہو گئے تھے۔ واضح رہے کہ دو روز قبل بھی جی ایچ کیو پر حملے کے مجرم محمد عقیل عرف ڈاکٹر عثمان اور سابق صدر پرویز مشرف پر حملے کے مجرم ارشد محمود کو بھی فیصل آباد جیل میں ہی پھانسی دی گئی تھی۔ فیصل آباد جیل میں مزید 30 ایسے دہشتگرد موجود ہیں جن کو ابھی پھانسی دینی باقی ہے۔ پھانسی دینے کے وقت شہر میں بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔ دوسری جانب اٹک ڈسٹرکٹ جیل میں پولیس اور ایلیٹ فورس نے سرچ آپریشن کیا اور تمام حساس بیرکوں کی تلاشی لی گئی۔ جیل ذرائع کے مطابق کوٹ لکھپت جیل میں 59 مجرم موت کی سزا کے منتظر ہیں جن میں 17دہشت گرد ہیں۔ فیصل آباد میں چاروں ملزمان سے ان کے اہل خانہ کی آخری ملاقات بھی کرائی گئی جس کے بعد انہیں پھانسی گھاٹ منتقل کردیا گیا جہاں ڈاکٹر نے ان کا آخری مرتبہ معائنہ کیا جس کے بعد انہیں سہ پہر 3 بج کر 25 منٹ پر تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ ڈسٹرکٹ جیل کے اطراف اضافی نفری کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ ارد گرد کی شاہراہوں کو کنٹینرز رکھ کر بند کر دیا گیا تھا۔ دوسری جانب لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں 4 ملزمان کو پھانسی دیئے جانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں۔ ذرائع کے مطابق آئندہ 24 سے 36 گھنٹوں میں ان ملزمان کو بھی پھانسی دی جا سکتی ہے۔ کوٹ لکھپت جیل کی طرف جانے والی تمام شاہراہیں بلاک کر دی گئی ہیں جبکہ جیمرز لگا کر موبائل فون کے سگنل بھی معطل کر دئیے گئے۔ علاوہ ازیں سکھر میں بھی دو مجرموں کے اہلخانہ کو بھی آخری ملاقات کےلئے کراچی سے بلا لیا گیا۔ سکھر جیل میں قید عطاءاللہ عرف قاسم اور محمد اعظم عرف شریف کو 10 سال قبل فرقہ وارانہ قتل پر پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔ مجرم کا تعلق کالعدم لشکر جھنگوی سے ہے۔ انہوں نے 2001ءمیں کراچی کے سولجر بازار میں ڈاکٹر علی رضا کو قتل کیا تھا جس پر 2004ءمیں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ان کو سزائے موت سنائی تھی۔ دوسری جانب امریکی اور برطانوی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں آئندہ ہفتوں میں چار سو اور تین ہزار دہشت گردوں کو 2015ءمیں تختہ دار پر لٹکایا جائے گا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق 20 کو کسی وقت بھی پھانسی دے دی جائے گی۔ 378 دہشت گردوں کو جنہیں عدالتوں کی طرف سے سزائے موت سنائی جاچکی ہے انہیں فوری تختہ دار پر لٹکانے کے لئے وزارت داخلہ کے قانونی مشیر ریکارڈ کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تین ہزار سے زائد سزا یافتہ دہشت گرد پاکستان میں قید ہیں اور وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے سزائے موت پر چھ سالہ پابندی اٹھانے کے بعد ان تین ہزار دہشت گردوں کو 2015ءمیں تختہ دار لٹکا دیا جائے گا۔ دریں اثناءڈسٹر کٹ جیل جھنگ میں سزائے موت کے 259 قیدیوں میں سے 15 قیدیوں کی رحم کی اپیل صدر پاکستان کے پاس ہے جن میں سے 2کی اپیل کو مسترد کر دیا گیا۔ بی بی سی کے مطابق 2 دہشت گردوں غلام سرور اور راشد کو 3:25 جبکہ زبیر احمد اور اخلاص روسی کو 4:25 پر پھانسی دی گئی۔ آن لائن کے مطابق فیصل آباد ڈسٹرکٹ جیل میں دہشت گردی میں ملوث مزید چار مجرموں کو آئندہ 48 گھنٹے میں ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد میں تختہ دار پر لٹکایا جائے گا۔ جن دہشت گرد مجرموں کو آئندہ پھانسی دی جائے گی ان میں لانس نائیک غلام نبی ولد محمد اشرف‘ عبدالمالک عرف سلام ولد اورنگزیب خان‘ نوازش علی اور محمد مشتاق شامل ہیں۔ چاروں مجرموں کی گزشتہ روز صدر مملکت ممنون حسین نے رحم کی اپیلیں مسترد کر دی تھیں، ان دہشت گردوں کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مختلف دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہونے کے الزام میں سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔
پھانسی