عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور شدت پسندی کیخلاف آواز بلند کرنے والے عوامی لیڈر بشیر احمد بلور شہید کی دوسری برسی آج منائی جا رہی ہے۔ نڈر سیاسی رہنما دو سال قبل بائیس دسمبر کی رات پشاور میں خودکش حملے میں شہید ہوئے تھے۔

خبریں ماخذ  |  خبر نگار
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور شدت پسندی کیخلاف آواز بلند کرنے والے عوامی لیڈر بشیر احمد بلور شہید کی دوسری برسی آج منائی جا رہی ہے۔ نڈر سیاسی رہنما دو سال قبل بائیس دسمبر کی رات پشاور میں خودکش حملے میں شہید ہوئے تھے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما بشیر احمد بلور کی شہادت کو دو سال گزر گئے، لیکن آج بھی انہیں یاد کیا جاتا ہے۔ عوامی لیڈر بشیر بلور بائیس دسمبر دو ہزار بارہ کی رات ڈھکی نعل بندی میں خودکش حملے کا نشانہ بنے اور اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔۔ بشیر احمد بلور یکم اگست انیس سو تینتالیس کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ بشیر بلور نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور پشاور ہائیکورٹ بار کے رکن بھی رہے۔ انیس سو ستر میں انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی سے اپنے سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد چوتھی بار خیبر پی کے، کے وزیر بنے،،بشیر احمد بلور بے شک آج ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن دہشتگردی کیخلاف ان کی جنگ کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا