دہشت گرد سانحہ پشاور جیسے حملے کی تیاری کر رہے ہیں‘ ہم حالت جنگ میں ہیں‘ دشمن باہر نہیں اندر سے ہے : نثار

دہشت گرد سانحہ پشاور جیسے حملے کی تیاری کر رہے ہیں‘ ہم حالت جنگ میں ہیں‘ دشمن باہر نہیں اندر سے ہے : نثار

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے کہا ہے کہ پوری قوم پاک فوج کا ساتھ دے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہر شہری کو اپنا حصہ ڈالنا ہے، انسدادِ دہشتگردی کیلئے قومی پالیسی کی سفارشات قوم کے سامنے رکھیں گے، مدرسوں میں پڑھنے والے سب طلبا دہشتگرد نہیں، 90 فی صد سے زائد مدرسوں کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں، سانحہ پشاور میں ایک ہی موبائل فون کمپنی کی5 سمز استعمال ہوئیں، کمپنیاں غیرقانونی سمیں جاری نہ کریں، سرمایہ کاری سے زیادہ ملک کی بقاءاہم ہے، کوئی سم دہشتگردی کے خلاف استعمال ہوئی تو موبائل کمپنی کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج کیا جائیگا، بچوں اور فوجی جوانوں کے گلے کاٹنے والوں کے انٹرویوز نشر نہ کئے جائیں۔ مولانا عبدالعزیز سرکاری خطیب نہیں، انکی 2011ءسے دی گئی سکیورٹی واپس لے لی ہے، دہشت گردی کے حوالے سے اطلاع دینے کےلئے ٹیلی فون نمبر لا رہے ہیں۔ وہ جوائنٹ ایکشن گروپ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد سانحہ پشاور جیسی ایک اور کارروائی کی تیاری کررہے ہیں، ممکنہ کارروائی سے بچنے کیلئے متحرک ہونا ہوگا، قوم کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ ہم حالتِ جنگ میں ہیں، دشمن باہر سے نہیں اندر سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ، ہوٹل مالکان، موبائل فون کمپنیاں، علمائ، عوام، مشکوک افراد پر نظر رکھیں، پاک فوج کبھی بچوں اور خواتین کو نشانہ نہیں بناتی، پاک فوج کی کارروائی کے حدود متعین ہیں، خواتین اور بچوں کی فکر نہ ہوتی تو میرانشاہ کو بمباری کر کے کب کا تباہ کردیا ہوتا، مساجد کے اماموں سے اپیل ہے کہ مشکوک افراد دیکھیں تو فوری اطلاع دیں، افغانستان میں حالات بہتر ہو گئے ہیں اگر وہاں پر الیکشن ہو سکتے ہیں تو افغانیوں کو واپس جانا چاہئے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ سانحہ پشاور انتہائی اندوہناک واقعہ ہے، پاکستان سمیت دنیا کی تاریخ کی بدترین کارروائی ہے جو لڑائی کے نام پر کیا گیا، بچوں کی شہادت کو بدلہ کہا گیا، پاکستان کی فوج منظم ترین اور ذمہ دار فوج ہے، فوج کبھی بچوں اور خواتین کو نشانہ نہیں بناتی، پاک فوج کی کارروائی کے حدود متعین ہیں، خواتین اور بچوں کی فکر نہ ہوتی تو میران شاہ کو بمباری کر کے کب کا تباہ کردیا ہوتا ، مساجد کے اماموں سے اپیل ہے کہ مشکوک افراد دیکھیں تو فوری اطلاع دیں۔ فوج نے ہمیشہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی، کبھی بھی ان کے اہلخانہ اور بچوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، یہاں تک کہ اُسامہ بن لادن کے اہلخانہ کو حفاظت اور عزت و تکریم سے روانہ کیا گیا۔ پاکستانی فوج اسلامی ہے اور اسلامی اصولوں کو اختیار کئے ہوئے بچوں، عورتوں پر حملہ کرنے کی بجائے فوج اپنا نقصان برداشت کرلیتی ہے۔ دشمنوں کے ہمدرد، معاونین ہمارے ملک میں ہیں، وہ ہمارے رنگوں اور شکلوں میں ہیں، ہمارے اندر ہیں، پاک فوج یہ جنگ کئی برس سے لڑ رہی ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب کو اس میں اپنا حصہ ڈالنا ہو گا اور فوج کا ساتھ دینا ہو گا۔ انہوںنے کہا کہ اب جو دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق سامنے آیا ہے اس کو اب ایکشن میں سامنے لانا ہے، اس حوالے سے سیاسی اتفاق پیدا ہو گیا ہے تمام سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات بھلا کر ایک ہو گئے ہیں، علماءکرام کی جانب سے واقعہ کی مذمت کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، مولانا مفتی عثمانی، مولانا فضل الرحمان، مولانا سمیع الحق سمیت تمام علماءسے اپیل ہے کہ مدرسوں کو بے جا حدف تنقید نہ بنائیں، پاکستانی مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں، جو بھی مدرسہ میں پڑھتا ہے وہ دہشت گرد نہیں، یہ تفریق ہمیں نقصان پہنچائے گی، جو کسی طرح دہشت گردی کے ساتھ منسلک ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا جمہوریت کے ماتھے کا جھومر ہے، میڈیا کو ہر قسم کے انٹرویوز کی اجازت ہے لیکن بچوں کے گلے کاٹنے والوں کے انٹرویز اور تشہیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ میڈیا کےلئے ریڈ لائنز طے کرنے کےلئے قانون سازی کر رہے ہیں، دہشت گردوں کا میڈیا سے بلیک آﺅٹ کرنا چاہئے۔ علماءکا جلد اجلاس بلایا جائے گا، گھر مالکان کرائے پر دینے سے پہلے تھوڑا تحقیق کرلیں، دہشت گردوں کو کرایہ پر گھر دینے والے مالکان ذمہ دار ہوں گے۔ انہوں نے مدارس، مساجد کے خطیبوں سے اپیل کی کہ بھی مشکوک افراد پر نظر رکھیں، وزارت داخلہ کی کاوشوں سے پانچ لاکھ غیر قانونی سمز بند ہو چکی ہیں۔ موبائل فون کمپنیوں کے مالکان کو احساس کرنا چاہئے، اگر آئندہ کوئی موبائل سم دہشت گردی کے واقعہ میں استعمال ہوئی تو موبائل کمپنی کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے۔ قوم کو متحد ہونا ہو گا، دہشت گرد متحد قوم سے ڈرتے ہیں، ہم ہر صورت ہر جنگ جیتیں گے، پولیس کو انسداد دہشت گردی کےلئے تیار نہیں ہیں، فوج اور سول سکیورٹی ادارے مل کر جنگ جیتیں گے، ہم نے خوفزدہ نہیں ہونا اور ہتھیار نہیں ڈالیں گے، سری لنکا نے 26سال تک دہشتگردی کا مقابلہ کیا۔ سخت قانون سازی کی جائے گی، حق پر ہیں انشاءاللہ یہ جنگ جیتیں گے، حالت جنگ میں فوج پر تنقید درست نہیں، دہشت گردی کا خاتمہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ نہیں وقت لگے گا، جو ہو گیا سو ہو گیا، حالات کے مطابق اب لڑنا ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں آپریشن ضرب عضب کے بعد سے اب تک اطلاعات پر 4 ہزار سے زائد کاروائیاں کی گئیں، عوام اتحاد سے دہشت گردوں کی پاکستان میں جگہ تنگ کر سکتے ہیں، افغانستان سے انٹیلی جنس شیئرنگ کے حوالے سے مثبت جواب ملا ہے، افغانستان اور پاکستان مل کر دہشت گردی سے نمٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والا طالب علم ہے، ہر طالب علم کو دہشت گرد نہ کہا جائے، دہشت گرد ہمارے دشمن ہیں، پاکستان حالت جنگ میں ہے، افواج اپنی قربانیوں کے باوجود تنقید پر گلے کرتے ہیں، دہشت گردوں کےلئے کوئی عدالت نہیں ہے، کراچی میں دہشت گردوں کی سزاﺅں کی ریشو دیکھی جائے، ریاست پاکستان کو چینج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بہارہ کہو سے 300 مشکوک افراد گرفتار کئے گئے، دہشت گردی کو میڈیا کے ذریعے پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پارلیمانی کمیٹی میں بھی یہ اتفاق کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لال مسجد میں فوجی آپریشن کیا گیا، جس میں سینکڑوں جانیں ضائع ہوئیں لیکن بعد میں پھر اسی شخص کو بٹھا دیا گیا، مولانا عبدالعزیز سرکاری خطیب نہیں ہے، افغان ہمارے بھائی ہیں، 30 سالوں تک ہمارے دروازے ان کےلئے کھولے رکھے، متعدد کے پاس پاکستانی شناختی کارڈز بھی ہیں، افغان پناہ گزینوں کو جہاں ان کی رجسٹریشن ہوئی ہے وہاں رہنا چاہیے، افغان مہاجرین کو کیمپوں تک محدود کریں گے۔ افغانستان میں حالات بہتر ہو گئے ہیں وہاں پر الیکشن ہو سکتے ہیں تو افغانیوں کو واپس جانا چاہیے لیکن ہم کسی کے ساتھ کوئی سختی نہیں کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پھانسی سے پابندی ہٹانے کا فیصلہ 2ہفتے قبل کیا گیا جس کی درخواست آرمی چیف نے کی تھی۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیر داخلہ نے کہا کہ غیررجسٹرڈ سمیں بند کر دی جائیں گی جبکہ دہشت گردی میں ملوث مدارس کو تنہا کیا جائے گا اور جو ہوٹل مالک اور کرایہ پر مکان دنیے والے مالکان واردات کی صورت میں ذمہ دار ہونگے جو 5سمیں استعمال ہوئی اس کمپنی کے خلاف کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔ چودھری نثار نے کہا کہ یہ سرحدوں پر لڑی جانے والی جنگ نہیں بلکہ ہمارے دشمن ہمارے درمیان موجود ہیں جو ہمارے ہی رنگ و نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکستانی فوج یہ جنگ کئی برس سے لڑ رہی ہے لیکن اب وقت آ گیا ہے جب ہم سب کو اس میں حصہ ڈالنا پڑے گا۔ دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان کی سکیورٹی ہر شہری پر منحصر ہے۔ سب سے بڑی انٹیلی جنس عوام کی ہوتی ہے، عوام کو متحد ہونا چاہئے۔ تمام آئی جیز کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ ہر ایس ایچ او اپنے علاقے سے باخبر رہے جبکہ تمام ڈی پی اوز کو اپنے اپنے علاقوں میں سرچ آپریشن کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔ اے پی پی کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ سانحہ پشاور انتہائی اندوہناک واقعہ تھا جو پاکستان تو کیا دنیا کی تاریخ کی بدترین کارروائی تھی۔ میڈیا دہشت گردوں کا بلیک آﺅٹ کرے۔ میڈیا دہشت گردوں یا ان کے سہولت کاروں کے بیانات، انٹرویوز اور ٹیپ نہ چلائے۔ ہوٹل اور مکان مالکان کسی بھی دہشت گرد یا مشکوک شخص کو پیسوں کی خاطر کرائے پر مکان یا کمرہ نہ دیں۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر دہشت گردوں پر ہاتھ ڈالیں، تنقید کے بجائے قومی اتحاد کو مضبوط بنائیں، قوم متحرک ہو صبح گھر سے دفتر جاتے ہوئے اور گھر، گلی اور محلہ میں کسی بھی دہشت گردی سے متعلق مشتبہ سرگرمی دیکھیں تو اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے فوری اطلاع اس مخصوص نمبر پر دیں جسے موبائل فون اور لینڈلائن سے براہ راست ڈائل کیا جا سکے۔ دائیں بائیں اجنبی افراد پر نظر رکھیں۔ کرائے پر مکان دینے والے مالکان بھی بھاری کرائے پر چپ اختیار نہ کریں اور فوری اطلاع کریں بصورت دیگر کارروائی ان کے خلاف بھی ہو گی جہاں دہشت گرد کے رہنے کی اطلاعات یا ثبوت ملےں گے۔ انہوں نے کہا کہ موبائل فون کمپنیوں سے اپیل ہے کہ ہمارے ملک کی سکیورٹی کی ضمانت دیں، ایک کمپنی نے 5سمیں ایک ہی دن ایک خاتون کے نام پر جاری کیں جو اس کارروائی میں استعمال تو نہیں لیکن سہولت کار بنیں۔ آئندہ غیرقانونی سموں کے حوالے سے بھی موبائل کمپنی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ملکی سالمیت سے زیادہ ہمیں کوئی چیز عزیز نہیں۔
وزیر داخلہ