چاہتے ہیں ایم کیو ایم حکومت میں آئے‘ کچھ پارٹیاں اتحاد نہیں چاہتیں تو انکی مرضی ....فوجی آپریشن کراچی کے مسئلے کا حل نہیں : گیلانی

چاہتے ہیں ایم کیو ایم حکومت میں آئے‘ کچھ پارٹیاں اتحاد نہیں چاہتیں تو انکی مرضی ....فوجی آپریشن کراچی کے مسئلے کا حل نہیں : گیلانی

لاہور (سٹاف رپورٹر + وقت نیوز + ریڈیو نیوز) وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ فوجی آپریشن کراچی کے مسئلے کا حل نہیں‘ کراچی کے مسئلے پر پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلانے پر اعتراض نہیں، فوج بلانا صوبائی حکومت کی صوابدید ہے، اس سلسلے میں آخری فیصلہ بھی اسی نے کرنا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صحیح مدد کی جائے تو بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اس وقت ترجیح متحدہ کی حکومت میں شمولیت نہیں بلکہ کراچی کے مسئلے کا حل ہے، پارلیمنٹ میں صرف میاں نواز شریف ہی نہیں بلکہ اور بھی بہت سے سٹیک ہولڈرز ہیں ان سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پارلیمنٹ کو مدت پوری کرنی چاہئیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور کے گورنر ہاﺅس میں میڈیا کے مختلف سوالوں کے جواب میں کیا۔ اس موقع پر گورنر پنجاب لطیف کھوسہ اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی موجود تھیں۔وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ فوجی آپریشن سے وقتی طور پر مسئلہ حل ہوتا ہے، یہ مسئلے کا پائیدار حل نہیں کراچی میں صرف پولیس ہی نہیں بلکہ رینجرز اور ایف سی بھی کام کر رہی ہے گزشتہ دنوں ہونے والے واقعہ کے بعد رینجرز کا مورال ڈاﺅن ہوا تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے محب وطن ہیں مجھے ان پر مکمل اعتماد ہے۔ میں نے انہیں یہ حکم دیا ہے کہ کریمنلز کیخلاف کسی سیاسی امتیاز کے بغیر آپریشن کیا جائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت چوتھا بجٹ بھی منظور ہو چکا ہے مگر پھر بھی ہم مڈ ٹرم یا نئے الیکشن کا مطالبہ کرنیوالوں کی رائے کا احترام کرتے ہیں مگر جمہوری حکومت کے بارے میں یہ کہنا ہے اسے ہٹا کر نئے الیکشن کرائے جائیں ٹھیک نہیں اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ نئی اپوزیشن آنے والی حکومت سے پھر انتخابات کا مطالبہ نہیں کریگی۔ انہوں نے کہاکہ میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ یہ حکومت مدت پوری کریگی بلکہ میں آج یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ پارلیمنٹ مدت پوری کرے گی، افراد آتے جاتے رہتے ہیں، سسٹم کو مضبوط طریقے سے چلنا چاہئے، مسلم لیگ ن کے ارکان کی اکثریت کی یہ رائے ہے کہ الیکشن مسائل کا حل نہیں ، ہمیں موجودہ سسٹم میں رہتے ہوئے اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہئیے۔ پارلیمنٹ کو مدت پوری کرنی چاہئے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں پارلیمنٹ کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ کراچی میں امن قائم کرنے میں ایم کیو ایم ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ متحدہ ہمارے مشکل وقت کی اتحادی ہے صدر آصف علی زرادری کا صدارت کے لئے نام بھی الطاف حسین نے تجویز کیا تھا، انہوں نے 18ویں ترمیم سمیت تمام بل پاس کرانے میں ہماری حکومت کا ساتھ دیا ہے ہمیں ایسے ریمارکس سے اجتناب برتنا چاہئیے۔ ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور اس کے فیصلوں کو من و عن مانتے ہیں، ہماری حکومت کے دور میں آئین بحال ہوا، یہ تاثر درست نہیں کہ ہم اداروں کا احترام نہیں کرتے،آئین میں تمام اداروں کے اختیارات بڑے واضح ہیں سب کو اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ چیرمین نیب کی تقرری کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہاکہ صدر اس سلسلے میں اپوزیشن لیڈر سے مشورہ کرینگے تاہم مجھ سے اس سلسلے میں ابھی تک مشورہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے حالات درست کرنا پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ہم تمام معاملات کو آئینی طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ ایم کیو ایم والے مشکل وقت میں ہمارے ساتھی رہے ہیں خواہش ہے وہ ہمارے ساتھ حکومت میں رہیں تاہم کچھ پارٹیاں اتحاد میں نہیں رہنا چاہتیں تو یہ ان کی مرضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں رہتے ہوئے کام کر رہے ہیں الیکشن سے مسائل حل نہیں ہونگے۔ کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے کراچی کی صورتحال پر بریفنگ دی ہے۔ ملک کی بقا کیلئے آئین پر عملدرآمد ضروری ہے۔ حکومت نے 1973ء کے آئین کو اس کی اصل حالت میں اس لئے بحال کیا کہ ہم تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ تمام ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے فرائض سرانجام دیں۔ آئین کی پاسداری سے ہی جمہوریت مستحکم ہو گی۔ ہم امن کی بحالی کیلئے سندھ حکومت سے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ صوبائی حکومتوں کو تمام اطلاعات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نواز شریف کی خواہش کا احترام کرتے ہیں تاہم مڈٹرم انتخابات کا وقت گزر چکا ہے اب عام انتخابات کی تیاری کرنی چاہئے۔ جمہوری حکومت کو ہٹا کر الیکشن کی بات کرنا درست نہیں۔ دہشت گردی کا ہر صورت خاتمہ کرنا ہو گا اور دہشت گردوں سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی انہیں ہر صورت کٹہرے میں لایا جائے گا۔ صدر آصف علی زرداری منتخب صدر ہیں ان کے انتخاب کیلئے ان کا نام خود ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے تجویز کیا تھا۔ دریں اثناءلاہور ساہیوال فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی سے ملاقات میں وزیراعظم گیلانی نے کہاکہ نوازشریف ہمیں الیکشن کا مشورہ دینے کی بجائے پہلے پنجاب میں بلدیاتی الیکشن اور لاہور میں آزاد کشمیر اسمبلی کی خالی نشست پر الیکشن کیوں نہیں کراتے، الیکشن کرانے بھی ہوئے تو اپنے اتحادیوں سے پوچھیں گے مگر وہ بھی یہ کہتے ہیں کہ حکومت کو مدت پوری کرنی چاہئے، سسٹم چلتا رہنا چاہئے، ہم پنجاب حکومت کو کسی صورت ڈی ریل نہیں ہونے دینگے۔ اس موقع پر گورنر پنجاب لطیف کھوسہ، پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر امتیاز صفدر وڑائچ، قمر الزماں کائرہ، وفاقی وزیر ماحولیات ثمینہ خالد گھرکی، صمصام بخاری اور دیگر ارکان اسمبلی اور سینیٹر موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال بالخصوص کراچی کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا اور ارکان اسمبلی نے کہا کہ اگلا سال انتخابات کا ہے، حکومت پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی کے حلقوں میں میگا پراجیکٹس شروع کرائے جو عام انتخابات سے قبل مکمل ہو سکیں۔ انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کے فنڈز منجمد کر دئیے جائیں۔ این این آئی کے مطابق گیلانی نے کہاکہ نوازشریف کی مڈٹرم انتخابات کی آواز تنہا ہے، اسے پارٹی میں بھی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے منشور کمیٹی کی سفارشات پر عملدآرمد کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر چنگیز خان جمالی نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی اور انہیں بلوچستان کی بگڑتی صورتحال پر بریفنگ دی۔