پاکستان نے امریکہ سے تعاون کو دستاویزی معاہدے کی شکل دینے کا مطالبہ کر دیا: ذرائع

اسلام آباد (سہیل عبدالناصر) ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے باہمی تعاون کے تمام شعبوں بالخصوص سلامتی کے امور میں تعاون کو ایک باضابطہ معاہدے کی صورت دینے کا مطالبہ اور امریکہ کا ٹال مٹول پر مبنی رویہ پاکستان امریکہ تعلقات کی سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مطالبہ ہر لحاظ سے بجا ہے کہ تعاون کو دستاویزی شکل دی جائے۔ مشرف کے شاہانہ فیصلوں نے اس حوالے سے پاکستان کو مشکل صورتحال سے دوچار کیا ہوا ہے، تعاون کی حدود متعین نہ ہونے کی وجہ سے امریکی من مانی کر رہے ہیں اور پاکستان میں دندناتے پھرنا چاہتے ہیں۔ دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق امریکی اہلکاروں کی پاکستان کے اندر نقل و حرکت کا مسئلہ کافی حد تک طے کر لیا گیا ہے۔ تعاون کے کئی شعبوں میں پیشرفت بھی ہو رہی ہے لیکن امریکی پاکستان کے ساتھ باضابطہ اور دستاویزی شکل میں کسی سمجھوتے سے مسلسل گریز کر رہے ہیں۔ مشرف دور سے انہیں پاکستان میں من مانی کرنے کی لت پڑی ہوئی ہے۔ پاکستان بار بار واشنگٹن کو باور کرا رہا ہے کہ تعاون کی حدود متعین نہ ہونے سے ریمنڈ کیس سے لے کر ایبٹ آباد آپریشن جیسے سنگین مسائل ہو رہے ہیں لیکن کوشش کی جا رہی ہے کہ اگلے ماہ جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر پاکستان اور امریکی وزرائے خارجہ کی ممکنہ ملاقات کے علاوہ پاکستان کے وزیراعظم اور امریکی صدر کے درمیان بھی ملاقات طے پا جائے اس کے نتیجے میں کوئی بریک تھرو ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی سی آئی اے اور جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے نئے سربراہ اپنی پہلی فرصت میں پاکستان آنے کو ترجیح دینگے، اس سے حالات مزید بہتر ہو سکتے ہیں۔
پاکستان مطالبہ/ ذرائع