چیئرمین ایف بی آر کا مشرف کی ٹیکس تفصیلات پیش کرنے سے انکار‘ خواجہ آصف کا واک آﺅٹ

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کے سامنے ایف بی آر کے چیئرمین نے جنرل (ر) پرویز مشرف کا انکم ٹیکس ریکارڈ پیش کرنے سے انکارکر دیا۔ چیئرمین ایف بی آر سہیل احمد نے کہا کہ قانون کے مطابق پرویز مشرف کا ریکارڈ آڈیٹر جنرل کو پیش کروں گا جو بے شک کمیٹی کے سامنے پیش کر دیں جس پر آڈیٹر جنرل تنویر آغا اور ایف بی آر کے چیئرمین سہیل احمد کے درمیان تلخی پیدا ہو گئی خواجہ آصف نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ صدر‘ وزیراعظم‘ ارکان پارلیمنٹ کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں مگر سرکاری اعلیٰ ملازمین اب بھی مشرف سے وفاداری نبھا رہے ہیں اور اب قانون یاد آ گیا جس کے بعد خواجہ آصف نے پی اے سی کے اجلاس سے واک آوٹ کر دیا اور کمیٹی روم سے باہر چلے گئے۔ تفصیلات کے مطابق خواجہ آصف نے کہا کہ پرویز مشرف 9 سال اقتدار میں رہے اور ان کا انکم ٹیکس ریکارڈ پیش نہیں کیا جا رہا ہے جبکہ صدر‘ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی پگڑی اچھالی جاتی ہے جس پر ایف بی آر کے چیئرمین سہیل احمد نے کہا کہ میں پرویز مشرف کا ریکارڈ انکم ٹیکس قانون کے مطابق پی اے سی کو پیش نہیں کر سکتا آڈیٹر جنرل کو پیش کروں گا جس پر آڈیٹر جنرل تنویر آغا جذباتی ہو گئے اور کہا کہ مجھے کیوں پیش کیا جائے گا کمیٹی کو پیش کیا جائے اگر پرویز مشرف کے انکم ٹیکس کا ریکارڈ مجھے پیش کیا گیا تو پھر میں بھی قانون کا جائزہ لوں گا کہ قانون مجھے اجازت دیتا ہے یا نہیں دیتا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ چیئرمین ایف بی آر اور آڈیٹر جنرل ہمیں ریکارڈ کے متعلق قانون کی کہانیاں بنا رہے ہیں‘ ان کے دیگر ممبران ساتھی ان کو منانے کی کوشش کرتے رہے مگر وہ ایوان میں نہ آئے۔ پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس چودھری نثار علی خان کی زیر صدارت ہوا۔کمیٹی نے وزارتوں کے زیر استعمال گاڑیوں کی تفصیل دینے میں تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تمام ادارے مکمل تفصیل جلد از جلد فراہم کریں‘ یہ برداشت نہیں کیا جائے گا‘ عوام کے پیسے کا جواب دینا ہو گا۔ چودھری نثار نے کہا کہ کچھ ریٹائرڈ افسران بھی حکومتی گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں ان سے گاڑیاں واپس لی جائیں اگر وزارتوں نے معاملات درست نہ کئے تو فنڈنگ روک دی جائے گی۔ چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے کہا کہ ایف ڈبلیو او نے ٹول ٹیکس کی مد میں 200 ارب روپے دینے ہیں مگر وہ دینے سے انکار کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ ترقیاتی فنڈز ریلیز کرائے جائیں اور پھر یہ ادائیگی کی جائے گی۔ کمیٹی نے مختلف سرکاری اداروں میں ایک سے زائد گاڑیوں کے استعمال کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وزراء اور اداروں کے سربراہوں سے چار دنوں میں اضافی گاڑیاں واپس لی جائیں بصورت دیگر اداروں کے پرنسپل اکاﺅنٹنگ افسران کیخلاف کارروائی کی جائےگی۔ چودھری نثار نے کہا کہ انجلینا جولی کا اقوام متحدہ کو جو خط گیا ہے کہ اس پر تمام پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک گئے ہیں ہماری شاہ خرچیاں عرب شیوخ سے بھی زیادہ ہیں۔ گاڑیوں کے حوالے سے گزشتہ چھ ماہ سے تفصیلات مانگ رہے ہیں مگر کوئی جواب دینے کو تیار نہیں ہے۔ انہوں نے وزیراعظم یوسف گیلانی سے کہا ہے کہ مختلف شخصیات کے زیر استعمال لگژری گاڑیوں کے استعمال اور نئی خریداریوں کا نوٹس لیں اور اس سلسلے میں عائد پابندی پر عملدرآمد یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔