قرضے معافی کے سرکلر واپس لئے جائیں‘ ادائیگی نہ کرنے والوں کو اڈیالہ جیل بجھوا دیا جائے : چیف جسٹس

اسلام آباد (خبر نگار + مانیٹرنگ نیوز + ایجنسیاں) سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرض معاف کرانے کے ازخود نوٹس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کرتے ہوئے سٹیٹ بنک کو قرضہ معافی کے تمام سرکلرز واپس لینے کی ہدایت کی ہے اور قرض معاف کرنے والے تمام بنکوں کو نوٹس جاری کرنے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ سٹیٹ بنک نے معاف کئے گئے 50 افرادکے قرضوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ریمارکس میں کہا قرض واپس نہ کرنے والوں کی جائیداد ضبط کر کے انہیں اڈیالہ جیل بھجوا دیا جائے۔ انہوں نے سٹیٹ بنک کو ہدایت کی جن لوگوں کے قرضے معاف کئے گئے ان کو نوٹس جاری کئے جائیں اور سٹیٹ بنک یہ کام خود کرے جبکہ سپریم کورٹ نے سٹیٹ بنک کی طرف سے مہلت کی درخواست مسترد کر دی۔ دوران سماعت جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا عدالت کو کہا جا رہا ہے کیس بند کر دیں ورنہ ملک کا نظام تباہ ہو جائے گا‘ چیف جسٹس نے سٹیٹ بنک کے وکیل سے کہا وہ قرض واپس لینے میں مدد کریں ہمیں بتایا جائے قوم کا پیسہ کیسے واپس آئے گا یہ نہ بتائیں رفیق کریانہ سٹور کے ذمہ 20 ہزار روپے ہیں لگتا ہے کہ سٹیٹ بنک قومی دولت لوٹنے والوں کا خود دفاع کر رہا ہے‘ چیف جسٹس نے کہا قرضے معاف کرنے کے بارے سٹیٹ بنک تمام سرکلرز واپس لے سپریم کورٹ میں کیس زیر سماعت ہے اور دیکھتے ہیں قرض معاف کرانے والے کیسے آ کر اپنا دفاع نہیں کرتے۔ قرض واپس نہ کرنے والوں کی جائیداد ضبط کر لی جائے بینک قرض معاف کرانے والوں کا اشتہار دے اور قرض واپس جمع کرانے کا کہے قومی دولت اس طرح نہیں جانے دیں گے‘ سٹیٹ بنک چاہے تو قرضے شام سے پہلے واپس آ سکتے ہیں سٹیٹ بنک کے پاس قرض واپس لینے کا بہترین موقع ہے بنک کو قرض واپسی کا موقع دے رہے ہیں ورنہ ہم خود یہ کام کریں گے سٹیٹ بنک کے نئے گورنر سے قرض معاف کرانے کی انکوائری کرائیں گے کہ قرض معافی کا کون ذمہ دار ہے سنیئر وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے عدالت کو بتایا 1971ءسے اب تک 300 ارب کے قرضے معاف کئے گئے موجودہ حکومت نے 2 سال کے دوران پچاس ارب کے قرضے معاف کئے۔ فہرست کے مطابق یوبی ایل قرضے معاف کرنے والوں میں سرفہرست ہے جس نے مجموعی طور پر بارہ ارب بیالیس کروڑ کے قرضے معاف کئے‘ قرض معاف کرانے والی کمپنیوں میں یورو گلف سرفہرست ہے جس نے پانچ ارب چونتیس کروڑ روپے معاف کرائے یونس حبیب نے دو ارب سینتالیس کروڑ، ریسٹ پاک ٹرمینل نے ایک ارب اکتیس کروڑ، مرکری گارمنٹس نے ایک ارب چھپن کروڑ، سراج سٹیل نے ایک ارب اکتالیس کروڑ، رپننگ مشینری نے ایک ارب اڑتیس کروڑ، صادق سیمنٹ نے ایک ارب چھبیس کروڑ، پاکستان نیشنل ٹیکسٹائل نے ایک ارب سولہ کروڑ، دستگیر سپننگ نے ایک ارب سولہ کروڑ، محب ٹیکسٹائل نے ایک ارب گیارہ کروڑ، ریڈکو ٹیکسٹائل نے ایک ارب گیارہ کروڑ، چودھری کیبل نے ایک ارب پانچ کروڑ، عبدالراجی نے ایک ارب تین کروڑ، کوالٹی سٹیل نے اٹھانوے کروڑ، مکران فشریز نے چھیانوے کروڑ، کوہ نور لومز نے چورانوے کروڑ، کیچ انٹرنیشنل نے نوے کروڑ، کورل گیٹ نے نوے کروڑ، عزیز سپننگ نے چھیاسی کروڑ، رشید ٹیکسٹائل نے پچاسی کروڑ، فاروق حبیب نے بیاسی کروڑ، نادرن پولی تھین نے بیاسی کروڑ پچاس لاکھ اور فردوس سپننگ نے اٹھہتر کروڑ روپے معاف کروائے۔ عدالت نے سٹیٹ بنک کو حکم دیا وہ ان افراد کو نوٹس جاری کریں جنہوں نے قرضے معاف کرائے اور متعلقہ بنکوں کے ان افراد کو بھی عدالت میں طلب کیا جنہوں نے قرضے معاف کئے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سٹیٹ بنک کے قوانین سخت ہوتے تو حالات اس نہج پر نہ پہنچتے۔ کچھ قرضوں کی معافی میں ایسا محسوس ہوتا ہے وہ قواعد و ضوابط کے مطابق معاف نہیں کئے گئے۔ قرضے واپس ہوں گے تو ملکی معشت میں بہتری آئے گی۔ عدالت میں پیش کی جانے والی فہرست میں سب سے زیادہ قرضہ یورو گلف انٹرپرائزز کا معاف کیا گیا‘ دوسرا بڑا قرضہ یونس حبیب نے معاف کروایا جس کی مالیت دو ارب روپے سے زائد ہے‘ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے دوسرے دور حکومت کے دوران احتساب کمشن کے چیئرمین سیف الرحمن کی کمپنی ریڈکو نے بھی ایک ارب گیارہ کروڑ روپے سے زائد کا قرضہ معاف کرایا۔ فہرست میں بارہ ایسی کمپنیاں ہیں جن کے ذمہ ایک ارب روپے سے زائد کے قرضے تھے جو انہوں نے معاف کرائے جبکہ دس سے زائد ایسی کمپنیوں کے نام ہیں جن کے ذمہ 85 سے 92 کروڑ کے درمیان قرضے تھے جو معاف کئے گئے۔ چیف جسٹس نے کہا مرکزی بنک ریگولیٹری اتھارٹی ہے اگر متعلقہ بینک جس نے قرضے معاف کئے ہیں وہ سٹیٹ بنک کو ایڈریس یا دیگر معلومات فراہم نہیں کرتے تو ان کے لائسنس منسوخ کر دیں قرض خوروں کی فہرست پیش کریں اورکل اشتہار دیں کہ قرضے واپس کرو‘ اگر پیسے نہیں دیتے تو ان کے اثاثے نیلام کر دیں اور پھر بھی نہ دیں تو ان کو اڈیالہ جیل بھیج دے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آج تک کیلئے ملتوی کرتے ہوئے سٹیٹ بنک کے وکیل کو ہدایت کی ہے کہ پچاس بڑے قرض خوروں کو نوٹس جاری کر کے عدالتی سماعت سے متعلق آگاہ کریں۔