عدلیہ سے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے‘ توقع ہے سپریم کورٹ 18 ویں ترمیم پرمثبت فیصلہ دیگی : وزیراعظم گیلانی

اسلام آباد (وقائع نگار + نمائندہ خصوصی) وزےراعظم سےد ےوسف رضا گےلانی نے کہا ہے کہ کراچی مےں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لئے فو ج کو طلب نہےں کےا جا رہا ہے صوبائی حکومت سےاسی قےادت اور سول انتظامےہ کے ساتھ مل کر امن قائم کےا جائے گا حکومت عدالتی فےصلوں پر عمل درآمد کرا رہی ہے‘ عدلیہ سے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے۔ امےد ہے کہ اٹھاروےں ترمےم پر عدالت عظمی کا فےصلہ مثبت ہو گا۔ سی ڈی اے مالی بحران سے نکلنے کے لئے پبلک پرائےویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبے شروع کرے۔ اسلام آباد مےں ماحولےات کے حوالے سے مسائل ترجےحی بنےادوں پر حل کئے جائےں۔ ان خےالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز سی ڈی اے کے اچانک دورے کے موقع پر کےا۔ وزےر اعظم نے مےڈےا سے بات چےت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے حالات انتہائی خراب ہےں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان افسوس ناک واقعات کو سنجےدگی سے دےکھ رہی ہے اور ان کو کنٹرول کرنے کے لئے جامع حکمت عملی تشکےل دے رہے ہےں۔ اےک سوال کے جواب مےں وزےر اعظم نے بتاےاکہ امن و امان کی صورت حال کو معمول پر لانے کے لےے کراچی مےں فوج کو طلب نہےں کےا جا رہا ہے وفاقی حکومت نے وزارت داخلہ سے اس حوالے سے برےفنگ لی ہے وزےراعظم نے بتاےا حکومت صوبائی حکومت سےاسی جماعتوں اور سول انتظامےہ کے ذرےعے کراچی مےں امن وامان کی صورت حال بہتر بنانے کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے بتاےا کہ تمام سٹےک ہولڈرز کی مشاورت سے کراچی مےں جلد امن قائم ہو گا۔ اےک سوال کے جواب مےں وزےر اعظم نے کہا کہ اےم اےن اے نبےل گبول کا کراچی مےں فوج طلب کرنے کا بےان ان کی ذاتی رائے ہے حکومت اس تجوےز پر غور نہےں کر رہی۔ حکومت عدالتی فےصلوں پر عمل درآمد کرا رہی ہے‘ ججز کی بحالی کے حکم نامے کی واپسی کی خبرےں صداقت پر مبنی نہےں۔ اےک سوال پر وزےر اعظم نے بتاےا کہ امےد ہے کہ سپرےم کورٹ کا اٹھاروےں ترمےم پر فےصلہ مثبت ہو گا۔ سی ڈی اے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزےر اعظم نے کہا کہ سی ڈی اے انتظامےہ کو ہداےت کی ہے کہ وہ اس ادارے کو عوام دوست بنائےں اور شہرےوںکو درپےش مسائل کو ترجےی بنےادوں اقدامات کرےں۔ انہوں نے انتظامےہ کو ہداےت کی کہ ادارے کی املاک پر قابض عناصر کے خلاف سخت کاروائی کرے۔ انہوں نے کہاکہ سی ڈی اے اپنے مالی خسارے کو کم کرنے کے لےے پبلک پرائےویٹ پارٹنر شپ کے تحت منصوبے شروع کرے۔ وزےر اعظم نے کہاکہ اسلام آباد مےں ماحولےات کے حوالے سے مسائل کو فوری طور پر حل کےا جائے۔ وزارت ماحولےات اور سی ڈی اے ہنگامی بنےادوں پر اقدامات کرےں۔ وزیراعظم نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ صحافیوں کے بارے میں راجہ ریاض کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے‘ حکومت میڈیا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔ نوازشریف سوشل کنٹریکٹ سامنے لائیں اس پر بات کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اب فرینڈلی اپوزیشن نہیں رہی۔ پی اے آر سی کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الطاف سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ زراعت معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہے حالیہ سیلاب سے زرعی زمینوں کو شدید نقصان ہوا ہے تاہم حکومت زرعی اراضی کو بحال کرے گی۔ حکومت نے 25 ایکڑ تک زمین رکھنے والوں کو بیج اور کھاد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پی اے آر سی کا کردار سیلاب کی وجہ سے بہت اہم ہو گیا ہے۔ ادارے کو زرعی شعبے کے استحکام کے لئے صوبائی اداروں کے ساتھ رابطہ رکھنا چاہئے۔چیئرمین پی اے آر سی نے وزیراعظم کو ادارے کے مختلف منصوبوں کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو زرعی ٹیکنالوجی سے آگاہ کرنے کے لئے بےنظیر ٹی وی اور ایف ایم ریڈیو شروع کیا گیا ہے‘ اس چینل سے 6.6 ملین کاشتکاروں تک رسائی حاصل ہو گی۔وزیراعظم گیلانی نے کہا ہے کہ تباہ کن سیلاب کے باوجود حکومت متاثرہ علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبے پورے کرے گی۔ متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کے لئے ہرممکن وسائل استعمال کئے جائیں گے۔ وہ وفاقی وزیر مذہبی امور سید حامد سعید کاظمی‘ وزیر ریلوے غلام بلور‘ وزیر مملکت برائے ہاوسنگ و تعمیرات طارق امین‘ ارکان قومی اسمبلی نفیسہ شاہ‘ احمد یار ہراج‘ طارق محمود باجوہ‘ ممتاز اختر کاہلوں اور سیاسی امور کے بارے میں مشیر نوابزادہ غضنفر گل سے الگ الگ ملاقاتوں میں بات چیت کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حج آپریشن زیادہ شفاف بنائے جائیں۔