سپریم کورٹ نے گورنرسٹیٹ بینک کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام بینکوں کے سربراہوں کا اجلاس بلا کر قرضے وصول کرنے کیلئےنئی حکمت عملی طے کریں

سپریم کورٹ نے گورنرسٹیٹ بینک کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام بینکوں کے سربراہوں کا اجلاس بلا کر قرضے وصول کرنے کیلئےنئی حکمت عملی طے کریں

چیف جسٹس افتحار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے دو سو چھپن ارب روپے کے قرضے معاف کرانے کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ سٹیٹ بینک کے وکیل اقبال حیدر نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر قرضے معاف کرانے والے بڑے پچاس افراد کو نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں ۔ سماعت کے دوران فاضل بینچ نے ہدایت کی کہ نوٹس ایک مرتبہ بھجوائے جائیں پھر تمام افراد انتیس اکتوبر کو عدالت میں پیش ہو کر بتائیں کہ انہوں نے قرضے کیوں اور کس قانون کے تحت معاف کرائے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب ہر ایک کے دل میں ملک کے مفاد کی چنگاری موجود ہونی چاہیے جن لوگوں نے قرضے معاف کرائے ہیں انہیں ہر صورت واپس کرنا ہوں گے ۔ سٹیٹ بینک کے وکیل اقبال حیدر نے کہا کہ ملکی معیشت فوری طور قرضے وصول کرنے کی اجازت نہیں دیتی تو اس پر جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ ملیں چل رہی ہیں، کاروبار بھی عروج پر ہیں اور چوربازاری بھی ہورہی ہے۔ ایسی چوربازاری پر قائم معیشت تباہ ہو جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ چیف جسٹس نے گورنر سٹیٹ بینک کو ہدایت کی کہ اگلی سماعت تک گزشتہ دو سال میں معاف کرائے گئے پچاس ارب روپے وصول کیے جائیں ۔ مزید سماعت انتیس اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔