سابق صدر فاروق لغاری چوٹی زیریں میں سپرد خاک‘ نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت

ڈیرہ غازیخان / چوٹی زیریں (بیورو رپورٹ + نامہ نگار) سابق صدر فاروق احمد خان لغاری کو ان کے آبائی گاﺅں چوٹی زیریں میں ان کے والد محمد خان لغاری کے پہلو میں بدھ کے روز سپرد خاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں سابق گورنر شاہد حامد‘ محمد علی درانی‘ سابق وزیراعلی افضل حیات‘ جعفر لغاری‘ سیاسی و دینی شخصیات سمیت ہر مکتبہ فکر کے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ تفصیلات کے مطابق فاروق لغاری کی میت کو بدھ کو علی الصبح ساڑھے تین بجے خصوصی طیارے سے ڈی جی خان لایا گیا تھا۔ مرحوم کی نماز جنازہ ممتاز دینی سکالر ڈاکٹر محمد ادریس زبیر نے پڑھائی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ فاروق لغاری مرحوم کی نماز جنازہ میں ان کی اپنی پارٹی مسلم لیگ ق کی مرکزی و صوبائی قیادت نے شرکت نہیں کی اسی طرح مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے کسی بڑے رہنما نے بھی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی۔ نماز جنازہ کے موقع پر فاروق لغاری کے بیٹے جمال لغاری‘ اویس لغاری آبدیدہ تھے‘ مرحوم نے والدہ‘ بیوہ‘ دو بیٹے جمال لغاری‘ اویس لغاری اور تین بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔ فاروق لغاری کے انتقال پر ڈیرہ اور راجن پور اضلاع میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیراعظم یوسف گیلانی نے فاروق لغاری کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا ہے۔ انہوں نے جمال لغاری‘ اویس لغاری کے نام تعزیتی پیغام میں مرحوم کے لئے دعائے مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔ چودھری شجاعت‘ پرویز الہی‘ مونس الہی اور دیگر نے دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فاروق لغاری ہماری جماعت کا قیمتی اثاثہ تھے‘ ملک و قوم کیلئے ان کی شاندار خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ سید منور حسن‘ قاضی حسین احمد‘ پروفیسرغفور احمد‘ پروفیسر خورشید احمد‘ سراج الحق‘ لیاقت بلوچ نے مرحوم کے صاحبزادوں اویس احمد خان لغاری اور جعفر خان لغاری کے نام الگ الگ تعزیتی خطوط ارسال کئے ہیں۔ طاہر القادری نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فاروق لغاری محب وطن اور ہمدرد انسان تھے۔ فاروق ایچ نائیک‘ جان جمالی‘ وسیم سجاد‘ میر ہزار بجارانی نے بھی تعزیت کی ہے۔