اٹھارہویں آئینی ترمیم میں ججوں کی تقرری سے متعلق سپریم کورٹ کے عبوری فیصلے کو وکلاء نے خوش آئند قراردیا ہے۔ 

اٹھارہویں آئینی ترمیم میں ججوں کی تقرری سے متعلق سپریم کورٹ کے عبوری فیصلے کو وکلاء نے خوش آئند قراردیا ہے۔ 

وقت نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اشتر اوصاف نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے ثابت ہوگیا ہے کہ عدالتیں عوامی فلاح کےلیے کام کررہی ہیں اور حکومتوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے عدالت عظمی کو تنقید کا نشانہ بنانے والے عناصر کے عزائم خاک میں مل گئے ہیں۔
معروف قانون دان اے کے ڈوگر کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ توقعات کے عین مطابق ہے جس میں کوئی خامی موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے پر عملدرامد سے عدلیہ اور حکومت کے درمیان موجودہ کشیدگی میں کمی  ہوگی۔ 
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نامور وکیل عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ اور حکومت دونون کا مقصد ججز کی میرٹ پر تقرری ہے اور عدالت عظمی کے حالیہ فیصلے کی جتنی حوصلہ افزائی کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے سیاسی فضاء میں بھی بہتری آئے گی۔