فوجی عدالتوں میں توسیع کیلئے ترمیمی بل پیش حکومتی اتحادی محمود اچکزئی کی مخالفت

فوجی عدالتوں میں توسیع کیلئے ترمیمی بل پیش حکومتی اتحادی محمود اچکزئی کی مخالفت

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی+ خبر نگار خصوصی) قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نےآئین میں 28ویں ترمیم اور پاکستان آرمی ایکٹ 1952ءمیں ترامیم پیش کیں‘ فوجی عدالتوں کے قیام کی مدت میں توسیع کی آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں تبدیلی کے بل میں ترامیم پر حکومتی اتحادی جماعت پختونخوا ملی عوامی پارٹی نےآئین ترمیمی بل کی مخالفت کر دی۔ بل پیش کرنے کے بعد وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے کہا یہ اصل بل ہے جو اسمبلی میں پیش ہوا ہے جو مختلف جماعتوں کے ساتھ مذاکرات ہوئے ہیں ان کی ترامیم کے ساتھ یہ بل پیش کیا گیا ہے اس کو ترامیم کے ساتھ پڑھا جائے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہم اس بل کے ذریعے ملک کی تمام عدالتوں پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں‘ ملک میں بار بار آئین کی دھجیاں اڑائی گئیں‘ مارشل لاءلگائے گئے‘ پھانسیاں لگائی گئیں یہ بل ان ججوں کے ساتھ زیادتی ہو گی جنہوں نے اپنی مراعات تنخواہوں کو ٹھوکر مار دی اور گھر چلے گئے اور آئین کے لئے قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا ہزاروں لوگوں نے کوڑے کھائے بہت سے مارے گئے ہمارے ججز جرا¿ت مند ہیں‘ کوئٹہ دھماکے کی تحقیقات جن ججوں نے کی ہے ان کےساتھ بھی زیادتی ہو گی ہم سب نے اس آئین کے دفاع کا حلف اٹھایا ہے‘ افواج پاکستان کا حلف بھی ہماری طرح اور ججوں کی طرح ہے آئین میں صدر کا مواخذہ تین چیزوں پر ہوتا ہے وہ بیمار ہو کوئی اور مسئلہ ہو یا اس نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے ہم ایک فیڈریشن ہیں خدا کے واسطے اس کو نہ چھوڑیں ہمارے درمیاں عمرانی معاہدہ ہے ہم پنجابی،بلوچ، سندھ، پختون سب بھائی ہیں‘ ملک کو آئین کی اصل روح کے مطابق چلانا ہوگا۔ اسی شرط پر میری حمایت نواز شریف کے ساتھ ہے ان سے کہا تھا اگر وہ آئین کے مطابق چلیں گے تو محمود خان کی پارٹی ان کا ساتھ دے گی۔ انہوں نے کہا پختونخوں کے لیے الگ چپ والے کارڈز بنانے کی بات کی گئی میں اپنی پاکستانی شہریت کسی سے نہیں مانگوں گا۔ پانچ سال گزار کر شہری دوسرے ملکوں کے بن جاتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں ان کی نسلیں پیدا ہوئی ہیں ہم نے ان کو شہریت نہیں دی جو فاٹا جاتا ہے اس کے گلے میں خصوصی کارڈز لٹکائے جاتے ہیں جناب سپیکر نہ ہم یہودی ہیں اور نہ آپ ہٹلر۔ انہوں نے کہا اس ملک کو چلانے کے لئے آئین ہی اصل دستاویز ہے میں نے کبھی زندگی میں ووٹ نہیں بیچا لیکن آج اس شرط پر ساتھ دوں گا جن ججوں نے فوجی دور میں حلف نہیں اٹھایا ان کے حق میں دونوں ایوان قرارداد لائیں اور پی اسی او کے تحت حلف اٹھانے والوں کی مذمت کر دیں اور افواج پاکستان کا کوئی بندہ یہ کہہ دے ہم نے جو غلطیاں ماضی میں کیں آئندہ نہیں کریں گے اسی طرح سے دونوں ایوان یہ کہہ دیں گے آئین کو توڑا گیا تو پوری عوام سڑکوں پر ہوگی۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا پٹھانوں کے ساتھ شناختی کارڈز میں زیادتی ہو رہی ہے ۔ بلوچی آج خون کے آنسو رو رہا ہے میں بلوچستان کو اسی طرح دیکھ رہا ہوں جس طرح ڈھاکہ یونیورسٹی میں خطاب کے بعد کہا تھا حالات خطرناک ہیں۔ ملک کو بھارت سے نہیں بلکہ اندر کی دہشتگردی سے خطرہ ہے بارہ لوگوں کو پھانسی ہوئی 1200 کو ہونی چاہئے تھی ۔ یہاں مقابلے میں کوئی نہیں مارا جاتا سب سے زیادہ بے گناہ لوگ پنجاب میں بغیر ٹرائل کے مارے گئے۔ جن لوگوں کو خفیہ کیمپوں میں رکھا ہے انہیںفوری طور پر رہا کر دیا جائے۔ 23 مارچ کی پریڈ ہو رہی ہے سارے راولپنڈی کی چھتوں پر آپ نے گنیں لگا دی ہیں میری استدعا ہے عدالتی نظام کو بہتر کریں۔ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر نوید قمر نے کہا دوسری مرتبہ آئین کے تحت عوام کے حقوق کو معطل کرنے کے لئے بل لائے ہیں یہ شرمناک دن ہے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق 28 ویں ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کی مدت میں 2 سال کی تجویز بل کا حصہ ہے۔ فوجی عدالتوں میں قانون شہادت کے اطلاق کی تجویز بھی بل کا حصہ ہے۔ ملزم کو گرفتاری کی وجوہات بتاکر 24 گھنٹے میں پیش کرنے کی تجویز شامل ہے۔ ملزم کو وکیل کرنے کا حق دینے کی شقیں بھی بل میں شامل ہیں۔ شیخ رشید احمد نے کہا میں تو اعتراف کرتا ہوں میں نے پرویز مشرف کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا مجھے تو سمجھ نہیں آتی ملک میں سیلاب آئے تو فوج‘ آفت آئے تو فوج ہر مسئلے کا حل فوج ہی ہے تو حکمران اور سیاست دان کس مرض کی دوا ہیں؟ ایسا کوئی سیاستدان نہیں جس نے مارشل لاءسے جنم نہ لیا ہو۔ میں 28 ویں آئینی ترمیم کے بل کی حمایت کرتا ہوں۔ آئی این پی کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے اعلیٰ ترین سرکاری افسران کی تقرریوں، ترقیوں کیلئے نگران پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کردیا۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا سول سروسز کے بارے میں عدلیہ نے 2015ءکے سلیکشن بورڈ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے، ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا، پہلے بھی الزامات عائد ہوتے تھے کہ من پسند لوگوں کواوپر لایا جاتا ہے، ایک شخصیت کی ایما پر تقرریاں اور ترقیاں ہوتی ہیں پہلی بار 90افسران کی فائل کو واپس کرایا گیا، پارلیمنٹ میں ان معاملات پر بات ہو چکی ہے، وفاق میں سینئر افسران کو نظرانداز کرنے سے بلوچستان اور سندھ کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار ہوچکا ہے، پسند ناپسند کی بنیاد پر ترقیوں اور تقرریوں سے بچنے کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے، پارلیمانی کمیٹی میں اعلیٰ افسران اپنی اے سی آرز کے ساتھ پیش ہو سکتے ہیں، صوبوں کے سینئر افسران کے ساتھ جاری کھلواڑ سے نفرتیں پیدا ہوتی ہے جس کا وفاق متحمل نہیں ہوسکتا۔نوائے وقت رپورٹ کے مطابق نوید قمر نے کہا پیپلزپارٹی کی 4 ترامیم کو بل کا حصہ بنایا گیا ہے۔ صباح نیوز کے مطابق حکومتی اتحادی جماعت پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے فوجی عدالتوں کے قیام کی مدت میں توسیع کی مخالفت کی۔ آئی این پی کے مطابق انہوں نے آئینی ترمیم کی حمایت کو جمہوریت کے حق میں 5 نکات پر مشتمل قرارداد کی منظوری سے مشروط کر دیا۔ انہوں نے کہا آئینی ترمیم کے ووٹ کیلئے مشروط طور پر تیار ہوں دونوں ایوانوں میں پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والوں کے حق میں قراردادیں منظور کی جائیں ۔ پی سی او کا حلف اٹھانے کی مذمت کی جائے جمہوری ہیروزکے خاندانوں کی کفالت کی جائے۔ قرارداد میں دو ٹوک کہا جائے عسکری ادارے سابقہ غلطیوں کا ادراک نہیں کرتے۔ پارلیمنٹ یہ برملا کہہ دے اگر آئین کو توڑا گیا تو عوام سڑکوں پر ہونگے ۔پیپلزپارٹی نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی آئینی ترمیم کو پاکستان کے 20کروڑ عوام کے حقوق معطل کرنے کی ترمیم قرار دے دیا، پیپلزپارٹی نے واضح کیا ہے آج بھی اسی مقام پر کھڑے ہیں جہاں دوسال پہلے موجود تھے دوسال کے بعد بھی توسیع نہ مانگنے کی کوئی ضمانت نہیں، آئینی ترمیم عدلیہ ، پارلیمنٹ، جمہوری طرز حکمرانی کی کمزوری کی عکاس ہے ، نوید قمر نے مطالبہ کیا (آج) منگل کو آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کی تشکیل کی قراردا دلائی جائے ورنہ ہمارے لئے مشکل صورتحال ہوگی۔ پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر نوید قمر نے ایوان زیر یں میں آئینی ترمیم پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہماری بدقسمتی ہے اپنے آپ کو جمہوریت پسند بھی کہتے ہیں ،آئین کی پاسداری کا بھی حلف اٹھاتے ہیں اور تاریخ میں دوسری بار 20کروڑ عوام کے حقوق کو معطل کرنے کی ترمیم لا رہے ہیں اور ساتھ بڑی بڑی تقاریر بھی کر رہے ہیں ، انتہائی شرمناک ہے حالات اسی ڈگر پر لے آئے ہیں جہاں 2 سال قبل تھے اپنے آئین اور سسٹم پر اعتماد، اعتبار اور یقین نہیں آرہا، عدلیہ پارلیمنٹ جمہوریت پارلیمانی طرز حکمرانی کی کمزوری ہے ، ہم سب ان حالات کے ذمہ دار ہیں ، ملک کو محفوظ نہیں بنا سکے،دو سال قبل بھی یہی کہا گیا تھا عارضی انتظام کی بات کی گئی ، باقی سسٹم کو ٹھیک کر لیا گیا ، اصلاحات نہ ہوسکیں ، آج بھی دوبارہ اسی مقام پر کھڑے ہیں ، ہمیں یقین نہیں دو سال کے بعد دوبارہ توسیع نہیں ہوگی اور یہ حالات ختم ہو جائیں گے۔ کس کو قصور وار ٹھہرائیں کیا ان کو جنہیں 20 نکاتی ایجنڈا دیا گیا کہ ہمارے لوگوں کو تحفظ کیلئے کچھ کریں، یا ان کو قصور وار ٹھہرائیں جو لوگوں کو پکڑ کر عبرتناک کی بات کرتے ہیں یہ کس کیلئے عبرتناک کے الفاظ استعمال کرتے ہیں کس کو ڈرا رہے ہیں پھانسی سے اس دہشتگرد کو ڈرا رہے ہیں جو بم باندھ کر مارنے کیلئے آتا ہے،معاشرے میں انصاف کا فقدان ہے اس کیلئے کیا اقدامات ہوئے،کیا ذہنوں کو تبدیل کرنے کی کوئی کاوش کی گئی کیا سکولوں میں روشن خیال اعتدال پسند پاکستانی کا درس دے رہے ہیں، عدالتی اتحادکو مسمار کرنے کی بات کی گئی ، آج بھی ایجنڈا ایسا ہی نظر آرہا ہے،معمولی اسلحہ کے مقدمے کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں کو بھجوانے کا خدشہ ہے، اس طرح تو فوجی عدالتوں کی ساکھ بھی ختم ہوجائے گی، بدقسمتی سے آرمی پبلک سکول سمیت دیگر واقعات کیلئے اسلام کا نام استعمال کیا گیا، داعش کی بات کی جارہی ہے کیا اداروں نے اس قسم کے حالات سے نمٹنے کی تیاری کی ہے، ہم مذہبی رجحان کے خلاف نہیں جبکہ ہم چاہتے ہیں انتہا پسندانہ ذہنیت کو ختم کرکے ان حالات سے باہر نکلیں، ترمیم کے تحت صاف شفاف ٹرائل کا طریقہ کار ضروری ہے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق نوید قمر نے کہا پیپلزپارٹی کی 4 ترامیم کو بل کا حصہ بنایا گیا ہے۔ صباح نیوز کے مطابق حکومتی اتحادی جماعت پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے فوجی عدالتوں کے قیام کی مدت میں توسیع کی مخالفت کی۔ آئی این پی کے مطابق انہوں نے آئینی ترمیم کی حمایت کو جمہوریت کے حق میں 5 نکات پر مشتمل قرارداد کی منظوری سے مشروط کر دیا۔