کاروکاری کیس: ایف آئی آر اور پولیس فائل پیش نہ کرنے پر سپریم کورٹ کا اظہار برہمی

کاروکاری کیس: ایف آئی آر اور پولیس فائل پیش نہ کرنے پر سپریم کورٹ کا اظہار برہمی

 کراچی + شکارپور (آئی این پی+نوائے وقت رپورٹ) سپریم کورٹ نے شکارپور کاروکاری کیس سے متعلق کیس میں درج مقدمہ کی ایف آئی آر اور پولیس فائل پیش نہ کرنے پر ایس ایس پی شکارپور پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے (آج) جمعہ کو ایف آئی آر اور پولیس فائل پیش کرنے کا حکم دے دیا۔  ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ نے مقدمہ سے متعلق رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ دو مارچ کو شکارپور میں بچیوں کو قتل کیا گیا جبکہ تین مارچ کو بچیوں کے والد کی مدعیت میں مقدمہ کا اندراج ہوا۔ اس موقع پر جسٹس خلجی عارف حسین نے ایس ایس پی شکارپور سے استفسار کیا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ کتنے ملزمان گرفتار ہوئے ایس ایس پی شکارپور نے کہا کہ ابھی تک کوئی ملزم گرفتار نہیں ہو سکا جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ایس ایس پی شکارپور سے پوچھا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے پولیس نے اب تک کیا اقدامات کئے۔ ایس ایس پی شکارپور نے جواب دیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔  کاروکاری سے متعلق معاملے کی دو ایف آئی آر درج کی گئی ہیں ۔ ایک مقدمہ میں ثناء اللہ نامی شخص کو نامزد کیا گیا ہے۔ دوسری ایف آئی آر غوث بخش مہر سمیت جرگے کے دیگر افراد کے خلاف درج کی گئی جسٹس امیرہانی مسلم نے پوچھا کہ معاملے کی دوسری ایف آئی آر سے متعلق پولیس نے اب تک کیا کیا، جس پر ایس ایس پی شکارپور کوئی جواب نہ دے سکے۔