پنجاب اسمبلی: 48 ہزار لیڈی ہیلتھ ورکر ز 1947 سپروائزرز کو مستقل کرنے کا متفقہ بل منظور

پنجاب اسمبلی: 48 ہزار لیڈی ہیلتھ ورکر ز 1947 سپروائزرز کو مستقل کرنے کا متفقہ بل منظور

لاہور (سپیشل رپورٹر+ خبر نگار+ کامرس رپورٹر+ خصوصی نامہ نگار) پنجاب اسمبلی میں 48 ہزار لیڈی ہیلتھ ورکز اور 1947 ہیلتھ سپروائزرز کو ریگولر کرنے کے لئے پنجاب اسمبلی میں پیش کئے جانے والے مسودہ قانون تولیدی، میٹرنل، نومولود چائلڈ ہیلتھ اتھارٹی بل پر کئے جانے والے تمام اعتراضات واپس لینے پر بل متفقہ طور پر منظور ہو گیا۔ وزیر قانون نے بل پیش کیا تو سپیکر نے اپوزیشن کے ارکان کی طرف سے جو اعتراضات پیش کئے گئے تھے اس پر بات چیت کی جس پر اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے کہا کہ چونکہ لیڈی ہیلتھ ورکز کا مسئلہ ہے اس لئے اپوزیشن نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ ان کو جلد از جلد ریگولر ہونا چاہیے اس لئے ہم اپنے تمام اعتراضات واپس لیتے ہیں جس پر وزیر قانون نے کہا کہ یہ معاملہ اس لئے تاخیر کا شکار ہوا تھا کیونکہ صوبوں کا موقف تھا صوبوں کے حوالے اب یہ کیا گیا ہے اس لئے اگلے پانچ سال یعنی2017ء تک وفاقی حکومت اس کے لئے رقم دے اب معاملہ طے ہو گیا ہے اس لئے اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جس پر بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ علاوہ ازیں بجٹ کے حوالے سے تجاویز پر بحث کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے کہا ہے کہ حکمران سادگی اپنائیں جب تک حکمران سادگی اختیار نہیں کر یں گے اس وقت تک نیچے بہتری نہیں آئے گی وزیر اعلی نے خود اعلان کیا تھاکہ وہ اپنے سیکرٹریٹ کا بجٹ 30 فیصد کم کر دیں گے لیکن وزیر اعلی سیکرٹریٹ کا بجٹ اکتوبر میں ہی ختم ہو گیا اب تک وزیر اعلی اور گورنر اپنے سیکرٹریٹ کے لئے کروڑوں میں گرانٹ لے چکے ہیں وزیراعلی سیکرٹریٹ کی سکیورٹی کے لئے 20 کڑور جاری ہوئے انہوں نے کتنے ہی کیمپ آفس بنا رکھے ہیں مری، ماڈل ٹاؤن، رائے ونڈ ایک آفس بنا لیں اخراجات کم ہونگے۔ ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے ترجیحات کو سیٹ کیا جائے۔ وزیر اعلی سیکرٹریٹ 4 نئی بلٹ پروف گاڑیاں کروڑوں روپے سے خرید رہا ہے پہلے ہی ان کے پاس 8 بلٹ پروف گاڑیاں ہیں عوام کے خون پسینے کی کمائی کو کس طرح خرچ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رائے ونڈ میں 20 پولیس والے موروں کی حفاظت نہ کرنے پر معطل کر دئیے گئے کیا وہ پولیس والے اس لئے رکھے گئے تھے تو پھر انسانوں کی حفاظت کون کرے گا۔ لاہور میٹرو پر اربوں روپے ابھی بھی خرچ ہو رہے ہیں لوگوں کی دکانیں، مکان گرائے جارہے ہیں۔ جبکہ پنجاب میں اس وقت 57 ہزار 9 سو 91 سکول ہیں جن میں سے 11 ہزار ایک سو سکولوں کی بلڈنگ مکمل نہیں، 8 ہزار سکولوں کی باؤنڈری وال نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی میاں اسلم اقبال نے بحث کر تے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 20 کروڑ عوام حکمرانوں کو پال رہے ہیں۔ اب انصاف ہی لے لیں اس کے لئے بھی خود کشی کرنی پڑتی ہے پہلے اپنے آپ کو ماریں پھر وزیر اعلی انصاف دیں گے۔ پی آئی سی میں جعلی ادویات سے 300 لوگ مر گئے کچھ نہیں ہوا۔ شاہدرہ میں جعلی سیرپ پینے سے لوگ مر گئے کچھ نہیں ہوا۔ پولیس کو اربوں روپے دے دئیے یہ حالت ہے کہ پولیس اپنے ملازمین ڈاکوؤں سے مذاکرات کر کے چھڑاتے ہیں۔ پولیس میں موجودہ حکمرانوں نے سیاسی بھرتیاں نہ کی ہوتیں تو اس وقت یہ حال نہ ہوتا۔ علاوہ ازیں صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان نے تحریک انصاف کی خاتون رکن راحیلہ انور سے ان کی دلآزاری کرنے پر معذرت کر لی۔ رانا مشہود احمد خان نے اپنے گذشتہ روز کے الفاظ اسمبلی میں دہرائے اور کہا کہ ان میں کوئی ذو معنی الفاظ نہیں ہے۔ اگر ان کی کسی بات سے کسی کی دلآزاری ہوئی ہے تو وہ اسمبلی کے فلور پر معذرت کرتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ اس معاملے پر ایوان میں بات کرنے کی بجائے سپیکر کے چیمبر میں بات کر لی جاتی۔ اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید، میاں اسلم اقبال، شہاب الدین جا کر راحیلہ انور کو ایوان میں لے آئے۔ سپیکر نے سرکاری کارروائی ختم ہونے کے بعد اسمبلی میں پری بجٹ بحث شروع کی تو اعلان کیا کہ اپوزیشن کے 2 اور حکومتی بینچوں سے ایک رکن بولے گا جس پر حکومتی رکن اسمبلی وارث کلوں نے کہا کہ سپیکر اس طرح کے غیر جمہوری فیصلے نہ کریں۔ سپیکر نے کہا کہ ہر رکن اسمبلی پانچ منٹ بولے گا جس پر اسلم اقبال نے کہا کہ فیصلہ ہوا تھا جو جتنا بولنا چاہے گا بول سکے گا یہ پابندی نہیں لگائی جا سکتی ہے جس پر اپوزیشن لیڈر نے بھی ان کی حمایت کر دی۔ علاوہ ازیں محکمہ مال اور کالونیز سے متعلق وقفہ سوالات میں پارلیمانی سیکرٹری محکمہ مال و کالونیز چودھری زاہد اکرم نے کہا کہ پنجاب میں جون 2014ء تک تمام اضلاع میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کر دیا جائے گا۔ اب تک 2 اضلاع لودھراں اور حافظ آباد میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیا جا چکا ہے۔ منصوبے پر لاگت کا موجودہ تخمینہ 11 ارب 20 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ صوبہ پنجاب میں ایک مرلہ کی پیمائش ضلع لاہور کے چند دیہات اور دوسرے شہروں اور دیہات سے مختلف ہے۔ اگر سابقہ پیمانہ کو بدلنے کی کوشش کی گئی تو مقدمے بازی بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع فیصل آباد میں ناجائز قابضین 3896 کنال پر قباض ہیں۔ ان سے رقبہ واگزار کروانے کے لئے کارروائی کر رہے ہیں۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان نے آٹھویں جماعت کے طالبعلم سے زیادتی کے بارے میں توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں بتایا ہے کہ وقوعہ درست ہے لیکن مقدمہ 2 دن کی تاخیر سے درج کیا گیا ہے جس پر آئی جی پنجاب کو ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے ایک ملزم گرفتار ہو گیا ہے جبکہ دوسرے نے ضمانت کرائی ہے اس کی ضمانت کینسل کروا کر اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ علاوہ ازیں تمام محکموں کے بارے میں تحاریک التوائے کار کے جواب محکمہ پارلیمانی امور کے پارلیمانی سیکرٹری نذر حسین گوندل کے دینے پر سرکاری رکن اسمبلی شیخ علاؤالدین کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا۔ انہوں نے سپیکر کی گذشتہ روز کی رولنگ کو پھر غلط قرار دیا۔ پارلیمانی سیکرٹری نذر گوند نے تحریک انصاف کے رکن مراد راس کے گاڑیوں کی نمبر پلیٹوں کے بارے جواب دیا تو شیخ علاؤالدین نے جواب کو غلط قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 17 لاکھ گاڑیوں کی نمبر پلیٹیں محکمے نے عوام کو دینی ہیں۔ عوام سڑکوں پر ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ ان کی گاڑیاں روکی جاتی ہیں۔ اگر اسی طرح کے جواب ایوان میں دینے ہیں تو پارلیمانی سیکرٹری کی بجائے ٹیپ یا سی ڈی منگوا کر سنا دیا کریں۔ ہم سن لیا کریں گے۔ سبزی و فروٹ منڈی بادامی باغ لاہور کے بارے اپنی تحریک التوائے کار کے جواب کو بھی شیخ علاؤالدین نے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر اجازت دیں ایک گھنٹے کے نوٹس پر تمام آڑھتی پنجاب اسمبلی پہنچ جائیں گے۔ کسی ایک نے بھی سبزی و فروٹ منڈی منتقل کرنے کی بات نہیں کی نہ حمایت کی ہے۔ سپیکر نے تحریک التوائے کار کے جواب پر معاملہ ختم قرار دے کر اگلی تحریک التوائے کار کی طرف بڑھنا چاہا تو شیخ علاؤالدین نے کہا کہ حقائق کے منافی بات کیسے تسلیم کر لیں۔ سپیکر شیر علی گورچانی نے شیخ علاؤالدین سے کہا کہ وہ زیادتی کر رہے ہیں۔ اگر اعتراض ہے تو تحریک استحقاق لے آئیں۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے میاں اسلم اقبال نے شیخ علاؤالدین کی حمایت کی۔ پارلیمانی سیکرٹری نذر حسین گوندل نے کہا کہ سپیکر کی طرف سے تحریک التوائے کار کو نبٹایا جا چکا ہے۔ اب اس بر بحث نہیں ہو سکتی۔ شیخ علاؤالدین نے کہا کہ غلط جواب دیا جائے گا تو بحث تو ہو گی۔ پارلیمانی سیکرٹری غلط جواب دیں گے تو ہم نہیں چھوڑیں گے۔ اس پر سپیکر نے کہا کہ سپیکر سے مخاطب ہونے کا یہ غلط طریقہ ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے اس مسئلہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تحاریک التوائے کار کے ذریعے مفاد عامہ کے بڑے مسائل سامنے لاتے ہیں یہاں ایشو کو ختم کرنے کیلئے جواب دیا جاتا ہے۔ انہوں نے سپیکر سے کہا کہ مفاد عامہ کی تحریک التوائے کار کبھی منظور بھی کر لیا کریں۔ ہر ایک کو ’’ڈسپوز آف‘‘ نہ کر دیا کریں۔ علاوہ ازیں پری بجٹ تجاویز پر اظہار خیال کرتے ہوئے رکن اسمبلی نگہت ناصر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے بجٹ پر تنقید برائے تنقید کر کے سیاست چمکانے کی کوشش کی جا رہی ہے ضرورت اس امر کی تھی کہ تجاویز دی جاتیں۔ مراد راس کا کہنا تھا کہ لاہور کا پانی انتہائی مضر صحت ہوتا جا رہا ہے میرے اپنے حلقہ انتخاب جو پوش ایریا میں شامل ہوتا ہے۔ اسکے مکینوں کو بھی صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔ اپوزیشن رکن سردار وقاص حسن موکل کا کہنا تھا کہ بجٹ پہلے سے تیار ہو چکا ہے اب اس حوالے سے تجاویز دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے حکومت کو چاہیے کہ جب بھی بجٹ تیار کرنا ہوتا ہے پہلے وہ ارکان اسمبلی کی تجاویز لے بعد میں بجٹ تیار کرے۔ فرحانہ افضل کا کہنا تھا کہ میری تجویز ہے کہ کسان کو زیادہ سے زیادہ فائدہ دینے کے لئے گندم کی قیمت 15 سو روپے فی من مقرر کی جائے جبکہ کسانوں کے لئے ٹریکٹر کی قیمت میں ایک لاکھ روپے تک سبسڈی دی جائے۔ سعدیہ سہیل رانا کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اس کے باوجود غذائی ضروریات کے لئے 5 سو ارب  کی اشیا بیرون ملک سے منگوائی جاتی ہیں جو لمحہ فکریہ ہے۔ علاوہ ازیں پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں محمود الرشید نے کہا ہے کہ پولیس کی تقرریاں میرٹ پر کی جاتیں تو اب تک امن و امان قائم ہو چکا ہوتا۔ حلقہ بندیوں کے متعلق ہماری شکایات نہ سنی گئیں تو ہمیں عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔ مردم شماری کی آڑ میں حکومت کو بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی اجازت نہیںدیں گے۔ صوبائی وزیر قانون منفی باتیں کرنا چھوڑ دیں۔  میں نے پنجاب یوتھ فیسٹیول میں بڑے پیمانے پر کرپشن کے حوالے سے ثبوتوں کے ساتھ خط وزیر اعلی کو لکھ دیا ہے جو ایک دو دن میں منظر عام پر آجائے گا۔