پاکستان بھارتی آبی جارحیت کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا: منور حسن

پاکستان بھارتی آبی جارحیت  کے باعث  تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا: منور حسن

لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستانی دریائوں پر 65ڈیم بنا لئے ہیں، جبکہ ہمارے حکمران اور بیوروکریسی تھر اور چولستان میں بدترین قحط سالی سے سینکڑوں انسانی جانوں کے ضیاع کے باوجود ہوش میں نہیں آئے، پاکستان بھارتی آبی جارحیت کی وجہ سے تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے، حکمران فوری طور پر پانی کے ذخائر تعمیر کرنے کی طرف توجہ دیں ،متنازعہ ڈیم نہیں بنتا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ چھوٹے ڈیم بھی نہ بنائے جائیں ،قومی معیشت کا انحصار اور دارومدار اور ملکی آبادی کا 68فیصد آج بھی زراعت سے وابستہ ہے، بھارت دھڑا دھڑ ڈیم بنا کر پاکستان کو بنجر بنانے کے منصوبہ پر کاربند ہے، بھارت سے تجارت سے پہلے اس کے ساتھ پانی چوری کا مسئلہ اٹھایا اور اسے حل کیا جائے۔  ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی روانگی سے قبل منصورہ میں کسانوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔  منورحسن نے کہاکہ زراعت سے وابستہ ملک کی 68فیصد آبادی حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے بدترین معاشی مشکلات کا شکار ہے ،زمینوں کی دیکھ بھال کیلئے کسانوں کے پاس وسائل نہیں۔ پانی کی کمی کی وجہ سے قابل کاشت رقبہ تیزی سے کم ہورہا ہے۔ غیر آباد زمینیںبے زمین کاشتکاروں میں تقسیم کی جائیں اور انہیں آباد کرنے کیلئے زرعی مشینری کیلئے غیر سودی قرضے دیئے جائیں۔ اگر حکومت نے غربت کے خاتمے اور آئندہ ملک کو قحط سالی سے بچانے کیلئے فوری منصوبہ بندی نہ کی تو خطرہ ہے کہ چند سال بعد ملک و قوم کو ایک گھمبیر صورتحال سے دوچار ہونا پڑے گا۔دریں اثنا منورحسن نے کراچی ائرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں اہل کراچی کو دعوت دی ہے کہ وہ 23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر تحفظ پاکستان کنونشن میں بھرپور شرکت کرکے پاکستان کی یکجہتی کیلئے امن دشمن قوتوں کو مسترد کردیں،انہوںنے کہا کہ جماعت اسلامی نے بڑے پیمانے پر رابطہ عوام مہم کے ذریعے عوام کو مسائل سے نکالنے کا راستہ تجویز کیا ہے، 23 مارچ کو سہ پہر تین بجے نشتر پارک میں منعقد ہونے والا تحفظ پاکستان کنونشن کراچی اور پاکستان کے حالات کی تبدیلی کیلئے سنگ میل ثابت ہوگا، فوج ٹیک اوور کی دعوت دینے والوں کی بات پر کان نہیں دھرے گی، الطاف حسین برطانوی شہری ہیں، انہیں پاکستان کے معاملات میں مداخلت کا حق نہیں، ایم کیو ایم کا حکومت کی چھتری کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔ مڈل ایسٹ میں اٹھنے والی عرب بہار نے عوام میں بیداری کی لہر پیدا کی ہے۔