مزید تاخیر خطرناک ہوگی: اوباما مسئلہ کشمیر حل کرانے میں کردار ادا کریں: امریکی تھنک ٹینک

مزید تاخیر خطرناک ہوگی: اوباما مسئلہ کشمیر حل کرانے میں کردار ادا کریں: امریکی تھنک ٹینک

واشنگٹن (کے پی آئی) امریکی پالیسی سازوں نے اوباما انتظامیہ کو مشورہ دیا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو حل کرانے کے لئے امریکی صدر کو اپنا رول ادا کرنا چاہئے تاکہ جنوبی ایشیاء میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کو روکا جا سکے ،جبکہ بھارت اور پاکستان کے مابین تعلقات کو مزید کشیدہ ہونے سے بچایا جا سکے ۔ کشمیر مسئلے کو اہم قرار دیتے ہوئے پالیسی سازوں نے کہا ہے کہ  اس دیرینہ مسئلے کو حل کرانے کے لئے بڑی طاقتوں نے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات نہ اٹھائے تو برصغیر میں حالات  بد سے بدتر ہو سکتے ہیں اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے رحجان کو روکنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ امریکی تھنک ٹینک دی نیو امریکہ فائونڈیشن نے ایک رپورٹ میں  اوباما انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا  ہے کہ جنوبی ایشیاء میں امریکہ مخالف لابی سرگرم ہو رہی ہے جس کی وجہ سے امریکی مفادات کو بھی نقصان پہنچنے کا احتمال ہے پالیسی سازوں نے اپنے مشورے میں کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں سب سے اہم مسئلہ کشمیر کا ہے جسے حل کرانے کے لئے امریکہ اہم رول ادا کر سکتا ہے اور اگر اوباما انتطامیہ نے کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے میں مزید تاخیر کا مظاہرہ کیا تو اس کے بھیانک نتائج  سامنے آ سکتے ہیں ۔ تھنک ٹینک نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی اور تنائو کے ماحول سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے کشمیر کے مسئلے کا حل نکالنا ضروری ہو گیا ہے تاکہ خطے میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے طوفان کو روکا جا سکے ۔پالیسی سازوں نے اوباما انتظامیہ کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ پاکستان میں انتہا پسند گروپوں کو لگام دینا  چاہتے ہیں تو کشمیر کے مسئلے کو حل کرنا ضروری  ہے  ۔بیان میں امریکی پالیسی سازوں نے کہا ہے کہ خطے میں امن کو شدید خطرہ لاحق ہے اور اگر مسائل کا حل تلاش نہ کیا گیا تو بھارت اور پاکستان کے مابین تعلقات ایک دفعہ پھر بگڑ سکتے ہیں ۔ تھنک ٹینک نے پاکستان میں قائم انتہا پسند گروپوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر جنوبی ایشیا میں مسائل کو حل کرانے میں امریکی انتظامیہ نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تو امریکی مفادات کو بھی نقصان پہنچنے کا احتمال ہے ۔ جنوبی ایشیا کے کئی ملکوں میں امریکہ کیخلاف ناراضگی میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ مسائل کا حل نہ ہونا ہے۔