مذاکراتی کمیٹیوں کی اہم ملاقات آج ہو گی: کل حکومت‘ طالبان ابتدائی مذاکرات ہو سکتے ہیں: سمیع الحق

مذاکراتی کمیٹیوں کی اہم ملاقات آج ہو گی: کل حکومت‘ طالبان ابتدائی مذاکرات ہو سکتے ہیں: سمیع الحق

اسلام آباد  (نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان آج  جمعہ  کو انتہائی اہم ملاقات  متوقع ہے اس ملاقات میں دونوں کمیٹیوں کی طالبان شوریٰ  سے ملاقات  کے  مقام  کے  تعین سمیت  کئی اہم ایشوز زیر بحث  آئینگے‘ دونوں اطراف سے ایک دوسرے کو شرائط بھی پیش کی جائیں گی‘ ذرائع کے مطابق  حکومتی کمیٹی کی طرف سے طالبان کمیٹی پر واضح کیا جائے گا کہ انہیں طالبان  رہنمائوں  سے ڈسپلن میں نہ آنے والے گروپس کی نشاندہی کرانا ہوگی تاکہ حکومت ایسے گروپس کے خلاف کارروائی کرے۔ ذرائع کے مطابق طالبان کمیٹی کو طالبان کیلئے یہ واضح پیغام بھی دیا جائے گا کہ فوج کسی صور ت جنوبی وزیرستان سے نہیں  نکلے گی۔ دریں اثناء ذمہ دار ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکومت اور طالبان کمیٹیوں کے درمیان طالبان سے براہ راست مذاکرات کیلئے بنوں ایئرپورٹ کے مقام پر اتفاق ہوگیا اور آج دونوں کمیٹیوں کی ملاقات سے قبل یا فوری بعد اس کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں کمیٹیوں کی (آج) ملاقات کے دوران  طالبان کمیٹی کی طرف سے بات چیت کے لئے آنے والے طالبان رہنمائوں  کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہ کرنے کی ضمانت بھی طلب کی جائے گی۔ طالبان مذاکراتی کمیٹی کے کوآرڈینیٹر مولانا یوسف شاہ نے کہا ہے کہ مذاکرات کے موقع پر اسامہ سے متعلق امریکی میڈیا کی رپورٹ ملک میں افراتفری پیدا کرنے کی سازش ہے‘ طالبان نے شریعت کے نفاذ کا مطالبہ نہیں کیا‘ غیر عسکری قیدیوں کی رہائی  کیلئے طالبان نے صرف تجویز پیش کی ہے‘ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے مقام کا فیصلہ (آج) جمعہ کو کیا جائے گا‘ طالبان (کل) ہفتہ سے براہ راست مذاکرات میں شامل ہوجائیں گے۔ مولانا یوسف نے کہا کہ کچھ اندرونی و بیرونی قوتیں مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں لیکن انہیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے شریعت کے نفاذ کا مطالبہ نہیں کیا یہ صرف میڈیا کے ذریعے سامنے آیا ہے اور نہ ہی انہوں نے غیر عسکری قیدیوں کی رہائی کیلئے مطالبہ کیا ہے صرف تجویز پیش کی ہے۔ حکومت اور طالبان کے درمیان رابطہ کاری کا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے اب فیصلہ سازی کا مرحلہ شروع ہونے والا ہے۔ مولانا یوسف شاہ نے کہا ہے کہ مذاکرات کے بارے میں قوم کو جلد خوشخبری دینگے، مذاکرات کے حوالے سے آئندہ چوبیس گھنٹے اہم ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواہش ہے کہ حکومت اور طالبان آمنے سامنے بیٹھ کر مسائل حل کرینگے۔ دریں اثناء جمعیت علمائے اسلام (س) اور طالبان مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ حکومت اور طالبان کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کے مقام کا آج تعین ہوجائے گا جب کہ پاکستان کا آئین اسلام سے متصادم نہیں صرف اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا سمیع الحق نے کہا کہ ہمار آئین اسلام سے متصادم نہیں صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے، حکومت چاہتی ہے آئین پر عمل کیا جائے اور مسئلے کا پرامن حل تلاش کیا جائے جس کے لئے ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور طالبان کمیٹیوں کی ملاقات کے مقام کے تعین کے بعد کوشش ہوگی کہ کمیٹیاں کل ہی ملاقات کریں اور جب دونوں فریق بیٹھیں گے تو ہی اصل مطالبات سامنے آئیں گے۔مولانا سمیع الحق نے کہا کہ ہم امریکی تسلط سے نکل گئے تو ملک میں خود ہی امن قائم ہوجائے گا لیکن اگر پرویز مشرف کی پالیسیاں جاری رہیں تو امن قائم نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے طالبان سے کہا ہے کہ وہ خیر سگالی کے جذبے کے تحت کچھ افراد کو رہا کر دیں اور مذاکرات کے دوران اگر کوئی گروپ شرپسندی کرتا ہے تو طالبان اور دیگر گروپ اس کا قلع قمع کریں گے۔مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ مذاکرات سبوتاژ کرنے کیلئے فرضی گروپ کارروائیاں کر رہے ہیں، کل تک دونوں کمیٹیوں کے ارکان کی ابتدائی ملاقات ہو سکتی ہے۔ مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ جو لوگ جنگ کا کہتے ہیں وہ ملک دشمن ہیں، امریکہ جنگ سے بھاگ گیا ہے۔ اگر حکومت امریکہ کی جنگ سے نکلنے کی بات کرے تو کل ہی بغیر مذاکرات کے امن قائم ہو جائے گا۔ نجی ٹی وی کے مطابق حکومتی ٹیم نے قیدیوں کی فہرست تیار کر لی جو طالبان رہنمائوں کو پیش کی جائے گی۔ فہرست میں طالبان کے زیر حراست اہم شخصیات کے نام شامل ہیں۔ سرکاری کمیٹی پروفیسر اجمل، حیدر گیلانی، شہباز تاثیر اور دیگر کی بازیابی کا مطالبہ کرے گی۔ ذرائع کے مطابق حکومتی کمیٹی نے بنوں ائرپورٹ پر طالبان رہنمائوں سے ملاقات کی تیاریاں کیں۔  دریں اثناء طالبان شوریٰ کا اجلاس ہوا جس میں حکومت سے مذاکرات کیلئے مختلف مقامات پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق طالبان شوریٰ نے شکتوئی کے مقام پر مذاکرات کی تجویز دیدی۔ حکومتی کمیٹی مذاکراتی کمیٹی کو مکمل تحفظ دینے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں مذاکرات کی مخالفت کرنے والوں سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا۔