لاپتہ افراد کیس: فوجی افسروں کیخلاف ایف آئی آر درج نہ ہو سکی‘ کوئی ماورائے آئین اقدام کا نہ سوچے: جسٹس جواد

لاپتہ افراد کیس: فوجی افسروں کیخلاف ایف آئی آر درج نہ ہو سکی‘ کوئی ماورائے آئین اقدام کا نہ سوچے: جسٹس جواد

اسلام آباد (وقائع نگار+ ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے مالا کنڈ کے حراستی مرکز سے لاپتہ 35 افراد کے مقدمہ کی سماعت آج تک ملتوی کرتے ہوئے خیبرپی کے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ مالا کنڈ میں ان افراد کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے فوجی افسروں کے خلاف دائر کی گئی ایف آئی آر کی نقل آج پیش کی جائے۔ جبکہ اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ نے وزیر دفاع کی درخواست پر درج کی گئی رپورٹ کی نقل عدالت میں پیش کی جس پر عدالت نے اظہار اطمینان کیا۔ اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے تھانہ سیکرٹریٹ میں درج کی گئی رپورٹ کی کاپی عدالت میں پیش کی۔ انہوں نے وزارت دفاع کی طرف سے تھانہ سیکرٹریٹ کو لکھے گئے مراسلوں کی کاپیاں بھی عدالت میں پیش کیں ۔ رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ رپورٹ میں غلط بات لکھی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے ایک درخواست موصول ہوئی ہے۔ ایسا کیوں لکھا گیا تاہم انہوں نے رپورٹ کے اندراج پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ یہ خوش آئند پیشرفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب قانون کے تابع ہیں کسی کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ ماورائے آئین کوئی اقدام کر سکتا ہے۔ عدالت نے رپورٹ میں غلط الفاظ لکھے جانے پر ایس ایچ او تھانہ سیکرٹریٹ عبدالرحمان کو طلب کر لیا اور سماعت میں وقفہ کر دیا۔ سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو ایس ایچ او نے عدالت کو بتایا کہ وزیر دفاع کی درخواست پر تھانہ سیکرٹریٹ میں صرف رپورٹ درج کی گئی ہے جبکہ ایف آئی آر کے اندراج کے لئے شکایت مالا کنڈ تھانہ کو بھجوا دی گئی ہے ۔ جہاں پر متعلقہ تھانے کے حکام قانون کے مطابق ایف آئی آر درج کریں گے۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل خیبر پی کے نے عدالت کو بتایا کہ تھانہ سیکرٹریٹ کی رپورٹ ملنے کے بعد ڈی سی او مالاکنڈ اس کا جائزہ لے رہے ہیں ان کی منظوری کے بعد متعلقہ دفعات لگا کر ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ جس پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو آج پھر طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ آج عدالت کو بتائیں کہ مقدمہ درج کیا گیا ہے یا نہیں اور مالا کنڈ میں درج کی جانے والی ایف آئی آر کی کاپی عدالت میں پیش کریں۔ وقائع نگار کے مطابق جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دئیے کہ ہمارے اس اقدام کا مقصد کسی کو اونچا یا نیچا دکھانا نہیں۔ آئین کی پاسداری ہر شخص کی ذمہ داری ہے۔ ہر کوئی آئین کے تابع ہے۔ عدالت کیس میں 7 بار احکامات دے چکی ہے جن پر عملدرآمد ہونا چاہئے تھا۔ آئین اور قانون کی عملداری یقینی بنائیں گے۔