سعودی عرب اور بحرین سمیت کسی ملک نے فوج مانگی نہ دیں گے: وزیراعظم

سعودی عرب اور بحرین سمیت کسی ملک نے فوج مانگی نہ دیں گے: وزیراعظم

میانوالی+ اسلام آباد ( این این آئی+ نمائندہ خصوصی) وزیراعظم ڈاکٹر محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان سے کسی نے فوج مانگی ہے اور نہ ہی ہم فوج کہیں بھیج رہے ہیں، بحرین کے شاہ نے کئی سالوں بعد پاکستان کا دورہ کیا، اس دورے میں جو معاہدے ہوئے وہ میڈیا میں آ چکے ہیں، سعودی عرب اور بحرین کے سربراہان نے بہت عرصے بعد پاکستان کا دورہ کیا جبکہ  دوسرے دوست ممالک کے سربراہان بھی پاکستان کا دورہ کریں گے، پاکستان کو ماضی میں بھی بہترین ملک بنایا جا سکتا تھا، مگر کسی نے توجہ نہ دی، چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر دیگر فورسز کے لوگ بھی آ سکتے ہیں اور ماضی میں بھی اس عہدے پر دیگر فورسز کے افسران آتے رہے ہیں، پاکستان اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں لیکن اپنے دفاع سے غافل بھی نہیں۔ خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جنوبی ایشیا کے ممالک کی ایک بڑی تعداد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اس لئے میں جنوبی ایشیا کی قیادت کو دعوت فکر دیتا ہوں کہ وہ اسلحے کی دوڑ کی بجائے غربت اور افلاس کو مرکز بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی اے ایف میانوالی بیس کو پی اے ایف ایم ایم عالم بیس کے نام سے منسوب کرنے کی تقریب سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کر تے ہوئے کیا ۔ ڈاکٹر نواز شریف نے کہا کہ شاہ بحرین کا دورہ پاکستان کے مفاد میں ہے، پاک فوج کو بحرین نہیں بھیج رہے، انہوں نے کہا کہ ملک کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے اور اس حوالے سے فوری اور جلد فیصلے کرنا ہوں گے، جے ایف اے 17 تھنڈر کی طرح دیگر شعبوں میں بھی ترقی کی ضرورت ہے۔ وقت ضائع کیے بغیر ملک کو ترقی کی راہ پر لے کر جا رہے ہیں۔ بعد ازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم ڈاکٹر محمد نواز شریف نے کہا کہ آزادی ایک نعمت ہے ہر نعمت تقاضا کرتی ہے کہ اسکی حفاظت کی جائے۔ جو قوم آزادی کی قدر و قیمت سے واقف ہوتی ہے وہ اسکی حفاظت کو اپنی پہلی ترجیح بناتی ہے اور پھر اس قوم میں ایسے سپوت جنم لیتے ہیں جو ملک اور قوم کی آزادی کی خاطر اپنی سب سے قیمتی جان نچھاور کرنے کیلئے ہر وقت آمادہ رہتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ ایسے فرزندوں کے تذکرے سے بھری پڑی ہے۔ پاکستان کی آزادی ان شہداء اور غازیوں کی مرہون منت ہے جنہوں نے ہر مشکل وقت میں اپنی جانیں دائو پر لگا کر قوم اور ملک کو سرخرو کیا۔ ائیر کموڈور محمد محمود عالم پاکستان کے ایسے ہی ایک سپوت تھے جن پر ہم فخر کرتے ہیں اور دنیا ان پر رشک کرتی ہے۔ پاکستان ائیر فورس کے لئے یہ بات باعث افتخار ہے کہ ایم ایم عالم کا تعلق اسکی صفوں سے تھا۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری ائیر فورس میں ایسے بے شمار نوجوان موجود ہیں جو پلٹ کر جھپٹنے اور جھپٹ کر  پلٹنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور ہم امن کی بحالی کے علمبردار ہیں۔ ہم کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے۔ ہمیں اپنی سیاسی اقتصادی اور ثقافتی آزادی کی حفاظت کرنی ہے۔ وہ آزادی جس کے لئے ایم ایم عالم جیسے مجاہدوں نے بہادری کی ناقابل فراموش تاریخ رقم کی۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی حکم ہے کہ ہم اپنے گھوڑے تیار رکھیں آج کے دور میں کہ ہماری افواج کے پاس بہترین اسلحہ اور ہمارے جوانوں کو دنیا کی بہترین فوجی تربیت میسر ہے۔ مضبوط پاکستان کے لئے افواج پاکستان کا مضبوط ہونا ضروری ہے پاکستان کی بری‘ بحری اور فضائی افواج کو طاقتور بنانے کے لئے ہر اقدام اٹھایا جائے گا۔ پاک فضائیہ کے جوانوں پر پاکستانی قوم کو فخر ہے قوم ہر جوان کے چہرے میں ایم ایم عالم کو تلاش کرتی ہے۔ ایم ایم عالم ہونے کے لئے ہوا باز ہونا ضروری نہیں ائیر فورس اور زندگی کے دیگر شعبوں میں کام کرنے والا بھی ایم ایم عالم بن سکتا ہے ایم ایم عالم ایک جذبے کا نام ہے۔ قوم ایسے سپوتوں کو ہمیشہ خراج عقیدت  پیش کرتی ہے اور انکی یاد کو کبھی محو نہیں ہونے دیتی۔ اس جذبے کے ساتھ میں اعلان کر رہا ہوں پی اے ایف میانوالی بیس آج کے بعد پی اے ایف ایم ایم عالم بیس کہلائے گا۔ اس نئے نام کے بعد مجھے یقین ہے کہ ائیر فورس میں جوش و جذبے کی ایک نئی لہر دوڑ جائے گی۔ وزیراعظم نواز شریف نے ایم ایم عالم کی پہلی برسی کی مناسبت سے محکمہ ڈاک کی جانب سے ڈاک ٹکٹ کا بھی افتتاح کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ افواج کو طاقتور بنانے کے لئے ہر اقدام اٹھائیں گے۔ اے پی پی کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب، بحرین اور کویت سمیت دوست ممالک کی قیادت کے حالیہ دورے ان ممالک کی پاکستان کے ساتھ دوستی کا ثبوت ہیں اور اسے ایسی کسی قیاس آرائی کے ساتھ منسلک نہیں کیا جانا چاہئے۔ دریں اثناء وزیراعظم نے حکم دیا ہے کہ اسلام آباد کے نئے انٹرنیشنل ائرپورٹ کو 31 مارچ تک مکمل کیا جائے۔ اس منصوبے کی تکمیل میں اب کوئی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیراعظم نے گزشتہ روز نئے اسلام آباد ائرپورٹ کے زیر تعمیر منصوبے کا معائنہ کیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف، سیکرٹری ایوی ایشن بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیراعظم نے ائرپورٹ منصوبے میں تاخیر اور غیر معمولی طور پر لاگت بڑھنے کی تحقیقات کا حکم دیدیا۔ انہوں نے کہا کہ نئے ہوائی اڈے پر پانی کی فراہمی میں تسلسل کیلئے پنجاب حکومت سمال ڈیم تعمیر کرے گی۔ بلا رکاوٹ بجلی کی فراہمی کے حوالے سے انہوں نے جدید پاور پلانٹ لگانے کی بھی ہدایت کر دی ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ 1994ء میں یہ منصوبہ شروع کرنے کی تجویز دی گئی تھی لیکن اس کا سنگ بنیاد 2007ء میں رکھا گیا وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ ائرپورٹ پر 98 فیصد سول ورکس اور 98 فیصد ہی ایندھن بھرنے کا سسٹم مکمل کر لیا گیا ہے۔ دریں اثناء وزیراعظم ڈاکٹر نواز شریف سے وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمن نے ملاقات کی  اور انہیں اپنی وزارت کی کارکردگی سے متعلق آگاہ کیا۔ 
اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں+ سٹاف رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ) بحرین کے وزیر خارجہ خالد بن احمد اور وزیر مواصلات کمال احمد نے کہا ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک بالخصوص بحرین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے جس پر ہمارے سخت تحفظات ہیں، بحرین اور پاکستان کے مابین تاریخی تعلقات اور دفاعی تعاون موجود ہے، امیر بحرین کی وزیراعظم ڈاکٹر نواز شریف اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقاتوں میں شام کے سیاسی حل پر بات ہوئی، پاکستان سے کسی قسم کے دفاعی تعاون کا مطالبہ نہیں کیا نہ ہی پاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ کے لئے کوئی رقم دینے کی یقین دہانی کرائی ہے، بحرین پاکستان میں توانائی کے شعبے بالخصوص بجلی گھروں کی تعمیر میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے، پاک بحرین دوطرفہ تجارت کا حجم 6 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھائیں گے، بحرین اور پاکستان کے درمیان متعدد باہمی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ وہ امیر بحرین کے دورہ پاکستان کے اختتام پر پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ بحرینی وزیر خارجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک سمیت سب شام کے مسئلے کا جنیوا ون اعلامیے کے تحت سیاسی حل چاہتے ہیں جبکہ پاکستانی حکام نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شام کے مسئلے پر پاکستان سے مدد لینے نہیں آئے بلکہ بحرین کے پاکستان سے تاریخی اور وسیع تر تعلقات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امت مسلمہ کا ایک اہم ترین اور بڑا ملک ہے۔ ایران  بھی خطے کا اہم ملک ہے مگر ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے ممالک بالخصوص بحرین میں مداخلت پر ہمارے شدید تحفظات ہیں، انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دینے کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہیں۔ اس موقع پر بحرینی وزیر مواصلات کمال بن احمد نے کہا کہ سعودی عرب کی طرز پر پاکستان ڈویلپمنٹ میں حصہ ڈالنے کی کوئی حامی نہیں بھری البتہ بحرین کے 450 ادارے ہیں جو پاکستان کے اندر مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے لئے تیار ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں بحرینی وزیر خارجہ نے کہا کہ بحرین اور پاکستان کے تاریخی دفاعی تعلقات ہیں جبکہ دونوں ملکوں کے مابین دفاعی تعاون آئندہ بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے دفاعی تعاون کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ بحرینی فرمانروا کے دورہ کا مقصد پاکستان سے کسی قسم کی دفاعی مدد حاصل کرنا نہیں تھا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شام بارے جنیوا ون اور ٹو معاہدوں کی حمایت کا مقصد اسرائیل کو فائدہ پہنچانا نہیں بلکہ شام میں انسانوں کا خون بہایا جا رہا ہے اس کو روکنا ہے۔ این این آئی کے مطابق بحرین کے وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد بن محمد الخلیفہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے اور ہم کسی طرح اس پر اثرانداز نہیں ہو رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کی صورتحال پر پاکستان کی پوزیشن واضح ہے۔ بحرین کے امیر حمد بن موسیٰ الخلیفہ کے دورہ پر دفتر خارجہ نے مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا جس کے مطابق پاکستان اور بحرین نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستان اور بحرین نے اعلیٰ سطح کے سیاسی تبادلوں کو مزید بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ پاکستان اور بحرین دفاع، سکیورٹی اور عوامی رابطوں کو بڑھانے پر متفق ہیں۔ دونوں ممالک نے اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے وزراء خارجہ کی مشاورت دوطرفہ تعاون کا فریم ورک فراہم کریگی۔ اعلامیہ میں پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمشن کے قیام کا خیرمقدم کیا گیا۔ پاک بحرین وزرائے خارجہ مذاکرات کا آئندہ دور بحرین میں ہو گا۔ پاک بحرین سکیورٹی ڈائیلاگ ہر سال کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے مشترکہ کوششیں کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ پاکستان اور بحرین نے مختلف شعبوں بالخصوص اقتصادی شعبے میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کا فیصلہ کیا ہے، دونوں ممالک نے اعلیٰ سطحی سیاسی وفود کے تبادلے، اقتصادی شعبوں میں تعاون، تجارت، سرمایہ کاری، دفع اور سکیورٹی کے شعبوں میں عوامی رابطوں میں اضافہ پر اتفاق کیا ہے۔ دریں اثناء ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم دنیا پر یقین رکھتا ہے‘ تقسیم شدہ مسلم دنیا پر نہیں‘ بحرین اور ایران سمیت ہمسایہ مسلم ممالک کے دوطرفہ تنازعات میں مداخلت کریں گے اور نہ ہی کسی ایک کے مقابلے میں دوسرے کا ساتھ دیں گے۔ بھارت سے تجارت کیساتھ ساتھ کشمیر اور سیاچن سمیت دیگر معاملات پر بھی بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔ ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ بحرین کے فرمانروا حمد بن عیسیٰ الخلیفہ کا دورہ پاکستان کے مفادات کے حوالے سے کافی کامیاب رہا۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا کے گمشدہ طیارے کے جنوبی بحیرہ ہند کی جانب جانے کی معلومات بھی ہیں جبکہ اس کے جنوبی یاشمالی وزیرستان میں ہونے کی قیاس آرائیاں محض ایک لطیفہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ ہمسایہ مسلم ممالک کے حوالے سے خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جبکہ ہمارے ایران اور خلیجی ممالک سے قریبی تعلقات ہیں۔ ہم شام سمیت تمام تنازعات کے بات چیت کے ذریعے حل پر یقین رکھتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے افغان مشران الجرگہ کے الزامات کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔ ہم افغانستان میں قیام امن کیلئے کوشاں ہیں۔ پاکستان بھارت کے مابین منڈیوں تک غیر امتیازی رسائی (این ڈی ایم اے) کے معاہدے پر دستخط ہونے کا امکان ہے مگر ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت کیساتھ کشمیر اور سیاچن سمیت دیگر معاملات پر بھی بات کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اخوان المسلمون کے حوالے سے بحرینی اور سعودی حکومت کا موقف ان کا ذاتی ہے‘ مصر کیساتھ پاکستان کے تعلقات آزادانہ نہیں دوستانہ ہیں۔