یہ تاثر غلط ہے کہ علامہ اقبال کا پاکستان بنانے میں کوئی کردار نہیں تھا : مجید نظامی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) نوائے وقت گروپ کے ایڈیٹر انچیف مجید نظامی نے کہا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ علامہ اقبالؒ کا پاکستان بنانے میں کوئی کردار نہیں تھا‘ مسلمانوں نے پاکستان بناتے ہوئے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ انہیں مال یا جائےداد ملے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چینل۔5 کے پروگرام ”پرامن پاکستان“ میں میزبان ضیاءشاہد سے گفتگو کی تیسری نشست میں کیا۔ مجید نظامی نے مزید کہا کہ چودھری رحمت علی کی ہڈیاں پاکستان میں لانے کی اس لئے مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے قائداعظم کی شدومد کے ساتھ مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ علامہ اقبال کا پاکستان بنانے میں کوئی کردار نہیں تھا۔ علاقائی جماعتیں آئین میں تبدیلی کرکے ختم کرنے کوشش کی جائے گی تو ایجی ٹیشن شروع ہو جائے گی۔ انہیں بڑی جماعتیں اپنے ساتھ ملائیں اور آہستہ آہستہ ان کا وجود ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے مسلمان یہ جانتے تھے کہ وہ سارے پاکستان نہیں جا سکتے‘ تاہم یہ بات ان کے ذہن میں تھی کہ بنگال‘ پنجاب‘ بلوچستان‘ سرحد اور سندھ کو اپنا ملک بنا لیں۔ ان میں سے جن لوگوں نے پاکستان آنا چاہا وہ آگئے۔ آپ دیکھ لیں کراچی مہاجروں کا شہر ہے۔ پنجاب میں بھی جنوبی پنجاب تک مہاجر آکر آباد ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات درست نہیں کہ متحدہ ہندوستان کے لوگوں نے کسی ریزرویشن کے تحت مسلم لیگ کو ووٹ دیئے۔ انہیں اس بات کا علم تھا کہ جب دو ملک بن جائیں گے اور سرحد بھی ہوگی اور آزادانہ آنا جانا بھی نہیں ہو سکے گا‘ تب تقسیم ہوئی۔ اس وقت تو بارڈر کام نہیں کر رہے تھے اور لاکھوں مسلمانوں نے بھارت سے پاکستان ہجرت کی۔ لاہور میں بہت سے علاقے ہندوﺅں کے تھے جو وہ خالی کر گئے تھے۔ پہلے سے یہاں رہنے والوں نے ہجرت کرکے آنے والوں کو پناہ دی اور پھر جو علاقے ہندو خالی کر گئے تھے ہجرت کرکے آنے والوں کو وہ جگہیں الاٹ ہو گئیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فسادات پہلے بھارت میں شروع ہوئے تھے۔ ماسٹر تارا سنگھ نے نعرہ لگایا کہ اب راج کرے گا خالصہ جس کے جواب میں مسلمانوں نے بھی فسادات شروع کر دیئے۔ اس صورتحال کی بالکل توقع نہیں تھی۔ قائداعظم کا خیال تھا کہ تقسیم کا عمل آرام سے مکمل ہو جائے گا۔ اس سوال کے جواب میں کہ بھارتی لٹریچر بتاتا ہے کہ فسادات مسلمانوں نے شروع کئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ریسرچ سیل بنایا جائے جو اصل صورتحال سامنے لائے اور اس پر فلم بنائی جائے۔ اس موضوع پر فلمیں بنی ہیں‘ لیکن وہ معیاری نہیں تھیں۔ ویسے بھی فسادات کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پاکستان میں شامل صوبوں میں ایسی جماعتوں نے حکومتیں بنائیں جنہوں نے تحریک پاکستان میں حصہ نہیں لیا تھا۔ فسادات وہیں سے شروع ہوئے۔ جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں لکھ دیا کہ قائداعظم پاکستان نہیں بنانا چاہتے تھے۔ وہ صرف مسلمانوں کیلئے علیحدہ ریاست چاہتے۔ ایساجھوٹ بولنا تو ٹھیک نہیں‘ وہ صرف یہ تاثر دنیا چاہتا ہے کہ وہ اتنا لبرل ہے کہ قائداعظم پر کتاب لکھ رہا ہے۔ آپ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ ان کی کتاب پر بھارت میں کتنی لے دے ہوئی کہ ہندو کتنا لبرل ہے۔ اسے اپنے ایک سردار کی لکھی کتاب کو بھی ہضم کرنا مشکل ہے کہ انہوں نے جناح پر کیوں لکھا۔ اس سوال پر کہ جب کانگریس تیار نہ ہوئی تو مسلم لیگ کو مطالبہ کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت گروپ سسٹم کا شوشا چھوڑا گیا کیونکہ وہ تقسیم پنجاب اور تقسیم بنگال نہیں چاہتے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بنگال اور پنجاب سے لوگوں سے رائے لی جائے کہ وہ کہاں رہنا چاہتے ہیں۔ قائداعظم نے گروپ سسٹم کو رد کر دیا تھا۔ قائداعظم نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانا چاہتے ہیں۔ وہ بھارت میں اسلام کی تجربہ گاہ کیسے بنا سکتے تھے۔ وہ دو قومی نظریئے پر قائم تھے کہ پاکستان کی بنیاد مسلم قومیت پر ہوگی اور اسلام ہوگا۔ قائداعظم کا اسلام کے ساتھ کیسا تعلق تھا کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ نعرہ لگایا گیا کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ اور وہ اسی نعرے پر الیکشن جیتے تھے۔ عوام اسلام چاہتے تھے اور قائداعظم اسی بناءپر پاکستان چاہتے تھے۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ قائداعظم سوٹ پہنتے تھے‘ انگریزی بولتے تھے تو وہ مولانا شبیر عثمانی کے اقوال پڑھ لے جس میں انہوں نے واضح طورپر لکھا ہے کہ قائداعظم اسلام کو سمجھتے تھے۔ قرآن پاک کی تلاوت بھی کرتے تھے‘ اردو نہیں آتی تھی بعد میں انہوں نے ٹوٹی پھوٹی اردو سیکھی۔ وہ لبرل ضرور تھے‘ لیکن تحریک پاکستان کی بنیاد ہی اسلام تھی۔ جہاں تک معاشی مسئلہ کی وجہ سے پاکستان بنانے کا تعلق ہے وہ ایک ثانوی معاملہ تھا۔ مسلمانوں نے پاکستان بناتے ہوئے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ انہیں مال یا جائیداد ملے گی۔ متحدہ بھارت میں علماءکی جانب سے پاکستان کی مخالفت کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مولانا موودودی جماعت اسلامی کے امیر تھے۔ انہوں داڑھی بھی رکھی ہوئی تھی‘ لیکن انہوں نے پاکستان کی حمایت نہیں کی تھی۔ ان پر جانبداری کا الزام بھی تھا‘ لیکن بعد میں انہوں نے پاکستان کا وجود تسلیم کر لیا۔ آج ان کے جانشین منور حسن نے کہہ دیا کہ مسلم لیگ والے پیپلزپارٹی کے جھنڈا بردار ہیں۔ ہر کوئی لیگی اسی طرح ہے جیسے قائداعظم کی جماعت کا رکن تھا۔ علماءکا خیال تھا کہ ہندو اور مسلمان ایک قوم ہیں۔ حسین احمد مدنی بھی قوم پرست تھے۔ میں آپ کو بھارتی علماءکی بات سناتا ہوں۔ بہت پرانی بات ہے بھارت سے تبلیغی جماعت آئی۔ اس کا ایک وفد مجھے ملنے آیا اور مجھے تبلیغ میں حصہ لینے کی دعوت دی۔ میں نے انہیں کہا کہ آپ کہانیوں والا اسلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا آپ آئیں اور بیان سنیں میں نے کہا کیا آپ اس میں کشمیر اور جہاد کی بات کریں گے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت واپس بھی جانا ہے‘ یعنی انہیں ڈر تھا کہ کشمیر کی بات کریں گے تو جیل جانا پڑے گا۔ ابوالکلام آزاد کی جانب پاکستان کی مخالفت کرنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہندوﺅں نے انہیں کانگریس کا راشٹر پٹی بنا دیا۔ تقسیم ہوگئی تو وہ بھارت کے صدر بن گئے۔ قائداعظم نے انہیں شو بوائے قرار دیا تھا اور وہ ہندو کے شو بوائے تھے۔ وہ ہندو سے متاثر تھے۔ وہ قصور کے رہنے والے تھے۔ آپ قصور سے پتا کر لیں وہ کتنے بڑے دینی عالم تھے۔ اصل عالم صرف حسین احمد مدنی تھے۔ چودھری رحمت علی کا جسد خاکی پاکستان لانے کی مخالفت کرنے کے سوال کے جواب میں مجید نظامی نے کہا باچاخان نے کہا انہیں کابل میں دفن کیا جائے۔ مولانا مودودی سے کسی نے پوچھا ہی نہیں لیکن جہاں تک چودھری رحمت علی کا تعلق ہے‘ انہوں نے قائداعظم کے متعلق نازیبا الفاظ کہہ کر اپنے کئے پر پانی پھیر دیا۔ ان کا جسد خاکی بطور ہیرو پاکستان کیلئے لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چودھری رحمت علی نے جس شدومد کے ساتھ قائداعظم کی مخالفت کی تھی ہم ان کی ہڈیاں پاکستان لانے کی اسی شدومد سے مخالفت کریں گے۔ وہ قائداعظم کے دشمن تھے اس لئے ہمیں قبول نہیں۔ علامہ اقبال کا تحریک پاکستان میں کردار کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے قائداعظم کو لیڈر مانا‘ انہیں خط لکھ کر لندن سے واپس بلایا۔ انہوں نے موجودہ پاکستان کا تصور دیا۔ مشرقی پاکستان میں بنگال اور آسام کی بات کی اور مغربی پاکستان میں پنجاب‘ سندھ‘ سرحد اور بلوچستان کی بات کی۔ علامہ اقبال 1938ءمیں وفات پا گئے۔ جب پاکستان کا تصور دیا گیا تو قائداعظم نے اپنی تقریر میں کہا کہ اگر آج علامہ اقبال زندہ ہوتے تو بہت خوش ہوتے اور یہ کہتے کہ آپ نے وہی کیا جو میں چاہتا تھا۔ یہ نظریہ اقبال کا تھا کہ قائداعظم کو واپس بلایا جائے تاکہ وہ قوم کی رہنمائی کر سکیں۔ اس سوال پر کہ کیا کوئی سیاسی جماعت لسانی یا علاقائی بنیاد پر ہونی چاہیے مجید نظامی نے کہا کہ اردو قومی زبان ہے‘ لسانی بنیاد پر جماعت درست نہیں متحدہ نے بھی مہاجر قومی موومنٹ کا لیبل اتار دیا ہے۔ جہاں تک صوبوں کا تعلق ہے انہیں حقوق ملنے چاہئیں۔ علاقائی جماعتیں نہیں ہونی چاہئیں‘ لیکن اگر ہم انہیں آئین میں غیرقانونی قرار دیں گے تو مسئلہ کھڑا ہو جائے گا اور احتجاج کیا جائے گا۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ قومی جماعتیں جیسے مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی ہیں وہ ان علاقوں میں اپنے آپ کو مضبوط کریں۔ ان کے مقابلے میں مضبوط امیدوار لائیں اور اس طرح ان کا مقابلہ کریں۔ ویسے بھی دیکھ لیں جے یو پی مسلم لیگ کا حصہ ہے۔ جمعیت اہلحدیث بھی نوازشریف کے ساتھ ہے۔ مولانا فضل الرحمن‘ مولانا ڈیزل ہیں جو حکومت انہیں ڈیزل کا لائسنس دے گی تو وہ اس کے ساتھ مل جائیں گے۔ قوم پرست جماعتوں کو دیکھیں‘ ممتازبھٹو کے ساتھ کون ہے‘ وہ صرف ٹی وی اور اخباری بیان کی حد تک ان کی اہمیت ہے۔ ویسے عملی سیاست میں ان کا کوئی رول نہیں۔ آمروں نے ہمیشہ قوم پرستوں کو نظریہ ضرورت کے تحت استعمال کیا۔ ویسے تو آمر ملائیت کو بالکل برداشت نہیں کرتے۔