سپریم کورٹ فیصلوں پر عملدرآمد کےلئے فوج طلب کر سکتی ہے: آئینی و قانونی ماہرین

پشاور + اسلام آباد + لاہور (رپورٹنگ ٹیم + نیوز ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) آئینی و قانونی ماہرین نے سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے پر عملدرآمد کرے تو آسمان گرنے سے بچ جائے گا بصورت دیگر عدالت فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے فوج سے مدد مانگ سکتی ہے۔ زرداری آرٹیکل 62‘ 63 کے تحت صدارت کے اہل نہیں کیونکہ ان کے خلاف پاکستان میں 18 اور بیرون ملک پانچ مقدمات درج ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سینئر وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ‘ سپریم کورٹ بار کے صدر قاضی انور‘ سابق چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی‘ خالد انور‘ احمد رضا قصوری‘ جسٹس (ر) طارق محمود‘ اشتر اوصاف‘ جسٹس (ر) وجیہہ الدین‘ اے کے ڈوگر‘ چودھری محمد امین جاوید‘ رکن پنجاب بار رانا قمر‘ محمد اظہر صدیق اور لاہور بار کے صدر ساجد بشیر و دیگر وکلا نے کیا۔ قاضی انور نے کہا کہ این آر او فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ فیصلہ لارجر بنچ نے دیا ہے۔ احمد رضا قصوری نے کہا کہ صدر کو حاصل استثنیٰ فوجداری مقدمات میں ہے باقی مقدمات میں صدر کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔ حفیظ پیرزادہ نے کہا کہ حکومت نے فیصلے پر عملدرآمد نہ کیا تو سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔ عدالت کو فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے فوج کو بلانے کا اختیار حاصل ہے۔ سعید الزماں نے کہا کہ این آر او ختم ہونے کے بعد صدر زرداری کی اہلیت آرٹیکل 62‘ 63 کے تحت چیلنج کی جا سکتی ہے۔ جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کے بعد زردری کی اہلیت ایک سوال بن گئی۔ نااہلیت کی صورت میں صدر کے معاملے میں آرٹیکل 248 آڑے نہیں آ سکتا۔ حامد خان نے کہا کہ عدالتی فیصلے کا ہر کسی کو احترام کرنا چاہئے اور لوٹی گئی دولت بیرون ملک سے واپس لانی چاہئے۔ جسٹس (ر) طارق نے کہا کہ حکومت کے ارادے ایک دو دن میں سامنے آ جائیں گے۔ خالد انور نے کہا کہ آرٹیکل 248 کی شق 4 کے تحت صدر کے خلاف سول مقدمہ چل سکتا ہے‘ حکومت نے عملدرآمد نہ کر کے غلطی کی۔ سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے سکتی ہے۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ تمام مقدمات 5 اکتوبر 2007ءکی پوزیشن پر آ گئے ہیں۔ این آر او کی وجہ سے ختم ہونے والی سزائیں بحال ہو گئیں۔ ساجد بشیر نے کہا کہ فیصلے پر عملدرآمد حکومت کی ذمہ داری ہے بصورت دیگر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔