ججوں کی تقرری : صدر جلد چیف جسٹس کو ان کی سفارشات نہ ماننے کی وجوہات سے آ گاہ کریں گے : ذرائع ایوان صدر

اسلام آباد (آن لائن)وفاقی حکومت ابھی تک سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس خلیل الرحمن رمدے کو ایڈہاک جج مقرر کرنے اور لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ثاقب نثار کو سپریم کورٹ لانے کے حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان کی سفارشات پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکی ۔ وزارت قانون کے ذرائع نے آن لائن کو بتایاکہ جسٹس رمدے اور جسٹس ثاقب نثار کے حوالے سے چیف جسٹس کی سفارشات انہیں موصول ہو چکی ہیں اور وزیر قانون اس معاملے پر صدر اور وزیر اعظم کو بریفنگ دے چکے ہیں تاہم صدر نے ابھی تک دونوں معاملات پر کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا ۔ وزیر قانون بابر اعوان نے ایک اعلی سطح کے اجلاس میں کہا ہے کہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے کو قصہ ماضی سمجھا جائے۔ دوسری طرف ایوان صدر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ شریف کو سپریم کورٹ لانے اورسینئر جج جسٹس ثاقب نثار کو لاہور ہائیکورٹ کا جج مقرر کرنے کے فیصلے پر اب تک برقرار ہیں جبکہ صدر خود بھی جسٹس رمدے کے ایڈ ہاک جج بنانے کے حق میںنہیں ہے۔ ایوان صدر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر کے تحریری فیصلے سے چیف جسٹس کو جلد آگاہ بھی کر دیا جائے گا کیونکہ حبیب وہاب الخیری کیس کے فیصلے کے تحت سینئر ترین جج کو صوبے سے سپریم کورٹ لایا جاتا ہے اور وہ اس وقت خواجہ شریف ہیں جبکہ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ہائی کورٹ کے جج کو سپریم کورٹ میں لانے کا فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان خود کرتے ہیں اور انہیں اس کا اختیار حاصل ہے اور صدران کی سفارشات ماننے کے پابند ہوتے ہیں اور اگر صدر ایسا نہیں کرتے تو پھر انہیں چیف جسٹس کی بھجوائی گئی سمری مسترد کرنے کی تحریری وجوہات دیناہوگی ۔ ایوان صدر کے ذرائع نے بتایا کہ اس سارے معاملے میں وزیر قانون بابر اعوان براہ راست شامل ہیں اور وہ خود بھی جسٹس ثاقب نثار کو لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنوانے کے حق میں ہیں اس صورت حال میں عدلیہ حکومت کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔