”بجلی چوری پر ایک کروڑ تک جرمانہ‘ 3 سال تک قید“ قائمہ کمیٹی نے بل منظور کر لیا

”بجلی چوری پر ایک کروڑ تک جرمانہ‘ 3 سال تک قید“ قائمہ کمیٹی نے بل منظور کر لیا

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے بجلی چوری کو سنگین جرم قرار دینے کے بل کریمنل لا(ترمیمی بل2012)کی متفقہ طور پر منظوری دے دی، بل کے تحت بجلی چوری پر ایک کروڑ روپے تک جرمانہ، تین سال تک قید کی سزا ہو سکے گی، کمیٹی نے تصحیح اختیارات (سپریم کورٹ) بل 2012ءکا مزید جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔کمیٹی کا اجلاس بدھ کو چیئرپرسن کمیٹی بیگم نسیم اختر چودھری کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔ اجلاس میںکمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے وزارت پانی و بجلی کے لیگل ڈائریکٹر اصغر خان نے بتایا کہ کریمنل لاء(ترمیمی) بل 2012ء میں ٹرانسمنیشن لائن میں ٹمپرنگ کرنے، بجلی کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے پر ایک کروڑ روپیہ جرمانہ، تین سال قیدیا دونوں سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ ڈسٹری بیوشن لائن میں ٹمپرنگ کرنا، بجلی کی ترسیل میں رکاوٹ پر یا غیرقانونی تاریں بچھانا اور بجلی کی چوری پر 30لاکھ روپیہ تک جرمانہ دو سال قید یا دونوں سزائیں دی جائینگی۔گھریلو صارفین کی جانب سے غیر قانونی کنکشن لگانا بغیر میٹر بجلی کا استعمال، کنڈا ڈالنا، میٹر میں گڑبڑ کرنا جس سے بجلی چوری یا ضائع ہو ایک سال قید اور 10لاکھ روپیہ جرمانہ کی سزائیں تجویز کی گئیں ہیں۔ کمیٹی نے ٹرائل کورٹ کے لئے تین سال تک کی سزا کے ٹرائل کا اختیار درجہ اول مجسٹریٹ اور تین یا تین سال سے زائد سزا کا اختیار سیشن کورٹ کو دینے کی ترمیم کے بعد بل متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ رکن کمیٹی چودھری عبدالغفور کے مطابق بل کے تحت سپریم کورٹ ماضی کے کسی بھی غلط فیصلے پر نظرثانی اور اسے درست کر سکے گی۔ جسٹس (ر) فخر النسا کھوکھر نے کہا کہ بھارت کی سپریم کورٹ کے پاس یہ اختیارات موجود ہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے رولز بنائے ہیں انہیں ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت یہ اختیارات تضویض ہو سکیں گے تا کہ عدالتی ریکارڈ درست کیا جا سکے۔