کوئٹہ: تدفین کے دوران ہنگامہ‘ خواتین قبروں میں لیٹ گئیں‘ کئی لواحقین رہنماﺅں سے لڑ پڑے

کوئٹہ: تدفین کے دوران ہنگامہ‘ خواتین قبروں میں لیٹ گئیں‘ کئی لواحقین رہنماﺅں سے لڑ پڑے

کوئٹہ (بیورو رپورٹ + نوائے وقت نیوز + نیوز ایجنسیاں) کوئٹہ میں سانحہ کیرانی میں جاں بحق افراد کی ہزارہ قبرستان میں تدفین کر دی گئی۔ اس موقع پر ہنگامہ آرائی ہو گئی اور خواتین تدفین روکنے کیلئے قبروں میں لیٹ گئیں اس موقع پر فائرنگ اور پتھراﺅ سے ڈپٹی کمشنر کی گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے اور نجی ٹی وی کے ملازم سمیت 5 افراد زخمی ہو گئے۔ اس موقع پر بھگدڑ مچ گئی۔ تدفین کے موقع پر اس وقت شدید کشیدگی پیدا ہوگئی جب اچانک نامعلوم افراد نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ عبدالمنصور کاکڑ کی گاڑی پر فائرنگ کی اور پتھراﺅ کیا جس کے نتیجے میں ہزارہ ٹاﺅن کے قبرستان میں بھگدڑ مچ گئی جس سے 5افراد زخمی ہوگئے۔ بعض لوگ ہزارہ کے آبائی قبرستان میں اپنے پیاروں کی تدفین کے لئے تیار نہیں تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ان کے مطالبات کو پورا نہیں کردیا جاتا اس وقت تک وہ اپنے پیاروں کی تدفین نہیں کریں گے اس موقع پر قبرستان میں خواتین کی بڑی تعداد بھی پہنچ گئی اور مشتعل خواتین قبروں میں لیٹ گئیں اور مطالبہ کیا کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے اس وقت تک ہم اپنے پیاروں کی تدفین نہیں ہونے دینگے۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے مجلس وحدت المسلمین اور ضلعی کونسل کے رہنماﺅں نے مذاکرات کے بعد انہیں قبروں سے نکالا جبکہ ہزارہ قبائل کے ہزاروں کی تعداد میں افراد نے بھی کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کردیا جس کے بعد فرینٹیئر کور کے دستے بھی منگوا لئے گئے، اس حوالے سے رہنما عبدالقیوم چنگیزی کا کہنا تھا کہ یہ شرپسند عناصر کا کام ہے جنہوں نے افراتفری مچانے کے لئے فائرنگ کی۔ سی پی او کوئٹہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں نے جذبات میں آ کر پتھراﺅکیا کچھ دیر بعد حالات پر قابو پا لیا گیا تھا دوسری جانب کراچی، راولپنڈی سمیت دوسرے علاقوں میں دھرنے ختم کر دئیے گئے۔ اے ایف پی کے مطابق ایک ہزار کے قریب افراد نے تدفین کے موقع پر شدید احتجاج کیا اور حکومت کیخلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ اس موقع پر لواحقین دھرنا ختم کرانے والے اپنے رہنماﺅں سے جھگڑ پڑے اس موقع پر لواحقین نے شدید سینہ کوبی بھی کی اور انہوں نے مطالبات تسلیم نہ ہونے تک اپنے پیاروں کی تدفین سے انکار کر دیا تاہم بعدازاں تدفین کر دی گئی اس موقع پر 35 سالہ علی رضا کا کہنا تھا ہمارا جرم کیا ہے دہشت گردوں نے اتنی زیادہ مقدار میں بارود یہاں کیسے پہنچا۔ گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی نے سانحہ کوئٹہ کے شہداء کی تدفین کا عمل مکمل ہونے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین، مجلس وحدت المسلمین ہزارہ قبائل کے معتبرین بالخصوص سردار سعادت علی ہزارہ کا شکریہ ادا کیا۔ گورنر نے کہا کہ اس وقت صوبے میں مذہبی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی، بھائی چارے اور یکجہتی کی فضا کے علاوہ ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کے احترام کے فروغ کی جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔ علاوہ ازیں کیپٹل سٹی پولیس آفیسر کوئٹہ میر زبیر محمود نے کہا ہے کہ ہزارہ ٹاﺅن میں بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تدفین کے موقع پر فائرنگ اور پتھراﺅ کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ادھر خاران اور پنجگور میں بی این ایف کی کال پر مکمل شٹر ڈاﺅن ہڑتال رہی۔ ہڑتال کے دوران تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز مالیاتی ادارے، بنک، ڈاک خانے بھی بندرہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم رہی۔