قومی اسمبلی: پمز کو ذوالفقار علی بھٹویونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا بل اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کے باوجود منظورکرلیا گیا،نون لیگی ارکان قائد اعظم کی تصویراٹھاکرمحسن پاکستان کے نعرےلگاتے رہے۔

خبریں ماخذ  |  خصوصی رپورٹر
قومی اسمبلی: پمز کو ذوالفقار علی بھٹویونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا بل اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کے باوجود منظورکرلیا گیا،نون لیگی ارکان قائد اعظم کی تصویراٹھاکرمحسن پاکستان کے نعرےلگاتے رہے۔

 قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت ہوا، پیپلزپارٹی کے وفاقی وزیر نذر محمد گوندل کی جانب سے پمز اسپتال کوذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا بل پیش کرتے ہی ایوان میں ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی، بل کےخلاف ایم کیو ایم نے بھی اپوزیشن جماعتوں کا ساتھ دیا، مسلم لیگ نون کے ارکان نے قائد اعظم کی تصویر اٹھا کراسپیکر کی نشست کے سامنے احتجاج کیا،اور محسن پاکستان قائداعظم کے نعرے لگاتے رہے جبکہ اسی ہلڑبازی میں پمزاسپتال کے نام کی تبدیلی کا بل منظور کرلیا گیا، جس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا، اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر نے کہا کہ آج پیپلزپارٹی نے ایوان کا تقدس پامال کیا ہے،بغیر ووٹنگ کے زبردستی بل پاس کرانا جمہوریت پردھبہ ہے،تعلیم صوبائی معاملہ ہے یونیورسٹی کا نام متنازعہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پمز میں پہلے قائد اعظم کے نام سے ڈگری دی جاتی تھی اب ذوالفقارعلی بھٹوکےنام سےڈگری دی جائےگی۔ انہوں نے یونیورسٹی کا نام تبدیل کرکے دوبارہ اسمبلی میں پاس کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔