سپریم کورٹ نے سانحہ کوئٹہ ازخود نوٹس کی سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کی درخواست پرساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ نے سانحہ کوئٹہ ازخود نوٹس کی سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کی درخواست پرساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ سانحہ کوئٹہ از خود نوٹس کی سماعت کر رہا ہے۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ سی سی پی او اور سیکریٹری داخلہ گیارہ بجے تک عدالت پہنچ جائیں گے، رات کو فلائٹ نہیں مل سکی، ابھی راستے میں ہیں۔ رکن قومی اسمبلی ناصرشاہ نے عدالت کو بتایا کہ وزیر داخلہ کا بیان ہے لشکرجھنگوی، طالبان انتخابات ملتوی کرانا چاہتے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر انہیں معلوم ہے توقانون نافذ کرنے والے اداروں سے معلومات کاتبادلہ کریں، انٹیلی جنس شیئرنگ عدالت نہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کی جاتی ہے۔ ایم این اے ناصر شاہ نے عدالت کو بتایا کہ دوہزار بارہ سے اب تک مختلف واقعات میں پندرہ سو افراد مارے گئے،آج تک کسی ملزم کا چالان پیش نہیں ہوا، لوگ اپنے پیاروں کی تدفین کے بعد بھی خوفزدہ ہیں۔ چیف جسٹس نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کی درخواست پر سماعت میں ساڑھے گیارہ بجے تک وقفہ کردیا۔