سانحہ کوئٹہ ازخود نوٹس میں سپریم کورٹ نے آئی جی ایف سی، سیکرٹری داخلہ بلوچستان اور سی سی پی او کوئٹہ سے تحریری جواب طلب کرلیا۔

خبریں ماخذ  |  خصوصی رپورٹر
سانحہ کوئٹہ ازخود نوٹس میں سپریم کورٹ نے آئی جی ایف سی، سیکرٹری داخلہ بلوچستان اور سی سی پی او کوئٹہ سے تحریری جواب طلب کرلیا۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سانحہ کوئٹہ از خود نوٹس کی سماعت کی۔ عدالتی حکم کے باوجود آئی جی ایف سی عدالت میں پیش نہیں ہوئے،اٹارنی جنرل نے حکومت کا جواب عدالت میں داخل کرادیا،سپریم کورٹ نے خفیہ اداروں کی رپورٹ پر آئی جی ایف سی،سیکرٹری داخلہ بلوچستان اور سی سی پی او کوئٹہ سے جواب طلب کرلیا، کوئٹہ میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے باعث سی سی پی اوکوئٹہ اورآئی جی ایف سی کوحاضری سےاستثنی بھی دے دیا گیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گورنر راج کے دوران دہشتگردی کے واقعات کی ذمہ داری وزیراعظم اور گورنر بلوچستان پرعائد ہوتی ہے۔ سماعت کے آغاز پررکن قومی اسمبلی ناصرشاہ نے عدالت کو بتایا کہ وزیر داخلہ کا بیان ہے لشکرجھنگوی، طالبان انتخابات ملتوی کرانا چاہتے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر انہیں معلوم ہے توقانون نافذ کرنے والے اداروں سے معلومات کاتبادلہ کریں، انٹیلی جنس شیئرنگ عدالت نہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کی جاتی ہے۔ ایم این اے ناصر شاہ نے عدالت کو بتایا کہ دوہزار بارہ سے اب تک مختلف واقعات میں پندرہ سو افراد مارے گئے،آج تک کسی ملزم کا چالان پیش نہیں ہوا، لوگ اپنے پیاروں کی تدفین کے بعد بھی خوفزدہ ہیں۔ کیس کی مزید سماعت چھبیس فروری کو ہوگی۔